منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پارلیمنٹ  میں کانگریس حد بندی بل کی کرے گی مخالفت؛ چندہ چوری، پیپر لیک اور مہنگائی پر سرکار کو گھیرے گی
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

پارلیمنٹ میں کانگریس حد بندی بل کی کرے گی مخالفت؛ چندہ چوری، پیپر لیک اور مہنگائی پر سرکار کو گھیرے گی

Awaz E Bihar•16 جولائی، 2026 کو 04:43 PM•3 ویوز•4 منٹ پڑھیں

کانگریس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حد بندی بل آنے پر اس کی مخالفت کرنے کے ساتھ ہی چندہ چوری، پیپر لیک اور مہنگائی سمیت مختلف امور پر سرکار کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے پارٹی کے پارلیمانی اسٹریٹجک گروپ کی جمعرات کو یہاں ہوئی اہم میٹنگ میں سیشن کے دوران اپنائی جانے والی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ میٹنگ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے چلی اور پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے اس کی صدارت کی۔ محترمہ گاندھی کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں بحث کے دوران پارٹی کی حکمتِ عملی پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر سے مانسون سیشن شروع ہو رہا ہے، لیکن سرکار نے اب تک سیشن میں لائے جانے والے بلوں کی باضابطہ معلومات نہیں دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیشن شروع ہونے سے ایک دن پہلے 19 جولائی کو کل جماعتی میٹنگ ہوگی جس میں سرکار مجوزہ بلوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکار حد بندی بل اور اس سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو دوبارہ لانے کی کوشش کر سکتی ہے، جس کی پارٹی پرزور مخالفت کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سرکار موجودہ 543 لوک سبھا سیٹوں پر خواتین کا ریزرویشن نافذ کر کے 181 سیٹیں خواتین کے لیے مختص کرتی ہے تو کانگریس اس کی حمایت کرے گی لیکن خواتین کے ریزرویشن کے نام پر حد بندی کی کوشش قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار آئین کے جذبے کے برعکس دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کانگریس اس معاملے پر دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اسے یقین ہے کہ سرکار ضروری دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکار اس میں کامیاب بھی ہوتی ہے تو وہ داغدار اکثریت ہوگی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ کانگریس وکست بھارت شکشا فاؤنڈیشن بل، فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) میں مجوزہ ترمیم اور نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ، 2013 میں کی جانے والی ممکنہ ترمیمات سمیت عوام دشمن بلوں کی بھی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ان تجویزوں کے حق میں نہیں ہے اورپارلیمنٹ میں ان کی مخالفت کرے گی۔ اس کے علاوہ کانگریس مانسون سیشن میں ایودھیا رام مندر میں 'چندہ چوری' اور آستھا کے ساتھ دھوکہ، امتحانات اور تعلیمی نظام خصوصاً نیٹ اور دیگر پیپر لیک کے معاملات، ایتھنول 20 فیصد آمیزش (ای-20)، کمزور پڑتی خارجہ پالیسی، کمر توڑ مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل پر سرکار کو گھیرے گی اور ان پر بحث کا مطالبہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 19 دن کا ہے۔ اس دوران کئی بل پاس ہونے ہیں اور اپوزیشن چاہتا ہے کہ اس کے اٹھائے گئے موضوعات پر بھی بحث ہو۔ ان کا الزام تھا کہ مودی سرکار کل جماعتی میٹنگ میں اپوزیشن کے مسائل کو ترجیح دینے کی بات کرتی ہے، لیکن سیشن کے دوران ان پر بحث نہیں ہوتی اور صرف بل پاس کرائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کے قول و فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ایک ملک-ایک انتخاب کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں مسٹر رمیش نے کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو 10 اگست تک اپنی رپورٹ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ رپورٹ کے سلسلے میں کئی طرح کی بحثیں ہیں، لیکن کانگریس اس نظریے کے ہی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس سلسلے میں چار صفحات کا خط لکھ کر اپنے اعتراضات درج کرائے ہیں کیونکہ یہ آئین کے جذبے اور جمہوری نظام کے برعکس ہے۔
اس سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ایودھیا میں 'چندہ چوری-آستھا کے ساتھ دھوکہ'، پیپر لیک اور تعلیمی نظام کا منظم زوال، اداروں پر قبضہ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی سیاست، متعدد گھوٹالے اور بدعنوانی کے الزامات، کمر توڑ مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیاں اور اسٹریٹجک غلطیوں ، ساڑھے تین کروڑ گاڑیوں کے مالکان پر ایتھنول آمیزش تھوپنا، بیلگام جنگلات کی کٹائی اور شیڈولڈ کاسٹ، شیڈولڈ ٹرائب، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل ہو رہے حملوں جیسے امور پر کانگریس آنے والے مانسون سیشن کے دوران مودی سرکار کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام موضوعات پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

ہمیں ماریں، دھمکائیں یا ڈرانے کی کوشش کریں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہل گاندھی
سیاست

ہمیں ماریں، دھمکائیں یا ڈرانے کی کوشش کریں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہل گاندھی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•19 ویوز
پچیس سال کی عوامی خدمت کا سفر ذاتی تشہیر کا موقع نہیں، وکست بھارت کے عزم کو دہرانے کا دن: مودی
سیاست

پچیس سال کی عوامی خدمت کا سفر ذاتی تشہیر کا موقع نہیں، وکست بھارت کے عزم کو دہرانے کا دن: مودی

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز
مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی
سیاست

مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی

Awaz E Bihar•6 اکتوبر، 2026•8 ویوز