منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پٹنہ کالج کے یوم تاسیس کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمیلن کا شاندار انعقاد
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

پٹنہ کالج کے یوم تاسیس کے موقع پر مشاعرہ و کوی سمیلن کا شاندار انعقاد

Awaz E Bihar•11 جنوری، 2026 کو 03:29 PM•0 ویوز•5 منٹ پڑھیں

پٹنہ کالج بہار کا ایک قدیم اور تاریخی کالج ہے، اس نے 9 جنوری 2026 کو اپنے قیام کے ایک سو چو سٹھ سال مکمل کر لیے ۔ واضح رہے کہ پٹنہ کالج کے لیے یہ دن ایک تاریخی اور یادگار دن ہوتا ہے، یہاں ہر سال "فاؤنڈیشن ڈے" کو "یومِ جشن" کے طورپر منایا جاتا ہے، لیکن اس سال کی "یوم تاسیس" کو منفرد، ممتاز اور سالہائے گزشتہ کے مقابلے میں یادگار بنانے کے لیے ایک نئی ادبی و شعری روایت کی بنیاد رکھی گئی جس کا سہرا یقیناً کالج کے فعال پرنسپل پروفیسر انیل کمار کے سر جاتا ہے ۔" استھاپنا دیوس" کی تیاری کے لیے طلب کی گئی میٹنگ میں اساتذہ کی طرف بہت سے مشورے آئے، اسی میں ایک مشورہ مشاعرہ و کوی سمیلن کا بھی تھا، جو شعبہء انگریزی کے صدر ڈاکٹر نقی احمد جون کی طرف سے پیش کیا گیا تو اساتذہ نے یک زبان ہوکر نہ صرف اس کی تائید کی بلکہ اس پر خوشی کا اظہار کیا۔گویا ایسا لگ رہا تھا کہ "میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے"چنانچہ پرنسپل صاحب نے نہ صرف تقریب کی اجازت دی بلکہ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پٹنہ کالج میں شعر و ادب کی ایک قدیم تاریخ ہے ،اردو ،ہندی،انگریزی ، فارسی اور عربی کے عظیم قلم کار اور ادیب اس کالج سے وابستہ رہے ہیں۔اختر اورینوی، عظیم الدین احمد ،کلیم الدین احمد ،جمیل مظہری، کلیم عاجز اور اعجاز علی ارشد تک شاعروں اور ادیبوں کی ایک طویل کہکشاں ہے جس نے کالج کے علمی اور ادبی ماحول کو اپنے تخلیقی تابانی سے رنگ و نور عطا کیا ۔ اگر دیکھا جائے تو "یومِ تاسیس" کے موقع پر ہونے والا یہ مشاعرہ اور کوی سمیلن درحقیقت کالج سے وابستہ اکابرینِ ادب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی و ادبی روایت کی احیا ایک کوشش بھی ہے۔نیت میں خلوص ہو، عزمِ محکم ہو اور احباب کا تعاون حاصل ہو تو کسی یادگار تقریب کے اہتمام کے لیے وقت کی کمی اور وسائل کی قلت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پٹنہ کالج کی شعری و ادبی محفل اس کی ایک عملی مثال ہے ۔ پروگرام طے ہونے کے بعد اس کو کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ڈاکٹر نقی احمد جون اور ڈاکٹر نعمان قیصر نے انتھک کوششیں کیں،طلبا و اساتذہ سے ملاقاتیں کیں، پروگرام کی تیاری سے متعلق دو تین دن کے اس مختصر عرصے میں کالج کے پرنسپل پروفیسر انیل کمار کی معاونت کے علاوہ ،ڈاکٹر کرن کماری،ڈاکٹر وی کے داس ،ڈاکٹر سدھارتھ بھاردواج ،ڈاکٹر بالمیکی رام اور ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی کا سرگرم تعاون حاصل رہا ۔پٹنہ کالج میں ہونے والے اس مشاعرے اور کوی سمیلن میں شہر عظیم آباد کے اردو اور ہندی شاعروں کی ایک مختصر لیکن ممتاز قلم کاروں کی ایسی فہرست تیار کی گئی جو اپنی شعری اور تخلیقی عظمت و انفرادیت کے سبب ادبی دنیا مینارہء نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شرکت و شمولیت سے شعری و ادبی تقریب کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ شعرا کی وہ فہرست جو اب تک ریاستی سطح کی تھی اسے قومی سطح کی بنانے میں دہلی سے تشریف لائے دو مہمان شعرا ،معروف ناظم مشاعرہ معین شاداب اور عزم شاکری کی شخصیت انتہائی اہم ہیں۔ان کی شرکت سے یہ مشاعرہ قومی سطح کا سطح کا ہوگیا۔دراصل یہ شعرا پٹنہ میں شاد عظیم کی یاد میں ہونے والے مشاعرے میں مدعو تھے ،لیکن جب اس کی اطلاع ڈاکٹر نعمان قیصر کو ملی تو اس نے دونوں حضرات سے رابطہ کیا اور انھیں پٹنہ کالج کے مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی تو انھوں نے خیالِ خاطرِ احباب کے تحت اپنی رضامندی ظاہر کردی، وہ یہاں نہ صرف تشریف لائے بلکہ اپنے خوبصورت کلام اور خوش الحانی سے سامعین پر سحر بھی طاری کردیا اور اس طرح عہدِ حاضر کے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اعجاز علی ارشد کی صدارت میں یہ مشاعرہ و کوی سمیلن بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا۔مشاعرے میں طلبا و اساتذہ کے علاوہ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی جس میں پروفیسر سورج دیو سنگھ ،پروفیسر صادق حسین، پروفیسر سرور عالم، ڈاکٹر مسرت جہاں ،ڈاکٹر افشاں بانو، ڈاکٹر عشرت صبوحی ، ڈاکٹر ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر سمن کماری،ڈاکٹر سلیم اختر ،ڈاکٹر رادھے شیام کے علاوہ "ہمارا نعرہ" کے مدیر اور معروف صحافی ڈاکٹر انوار الھدیٰ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ پٹنہ کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ترون کمار اور پروفیسر سنجے کمار بھی مشاعرے کے اختتام تک موجود رہے۔آپ کو بتادیں کہ مشاعرے کی ابتدائی نظامت ڈاکٹر نقی احمد جون نے کی جب کہ ڈاکٹر نعمان قیصر نے نظامت کے فرائض کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔شعراء کی فہرست کچھ اس طرح تھی، پروفیسر اعجاز علی ارشد ،خورشید اکبر، معین شاداب ،عزم شاکری،انیل کمار سنگھ، پریم کرن، ڈاکٹر ارادھنا پرساد، سمیر پریمل ،ڈاکٹر رچا، اور اَنچِت۔ شعرا کے کچھ منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں۔
جھکا سکے جو زمانے کو وہ ہنر لاؤ
نہیں تو سر کو جھکائے ہوئے گذرجاؤ
پروفیسر اعجاز علی ارشد
اک چہرہ فضول ہے کیا ہے
سارا عالم فضول ہے کیا ہے
خورشید اکبر
تم سے مل کر سب سے ناتے توڑ لیےہم نے
بادل دیکھ کے مٹکے پھوڑ لیے
معین شاداب
ہم نے سوچا تھا دل جلا ڈالیں
پھر خیال آیا دل میں تو بھی ہے
عزم شاکری
کسی کتاب کو پڑھنے بیٹھو جلنے لگتی آنکھ
ورق ورق ہیں آگ کے قصے اکشر اکشر آگ پریم کرن
میں تنہا ہو کے بھی ہوتی نہیں کبھی تنہا
یہ کس مقام پہ لائی ہے یار تنہائی
ڈاکٹر ارادھنا پرساد
رشتوں کی روح اور بھٹکتی ہے در بدر
ساحل پہ اک مکان کوئی ڈھا گیا ہے
انیل کمار سنگھ
کمتر نہ سمجھ لینا پریمل کی فقیری کو
اک ووٹ کے دم پر ہم سرکار بدلتے ہیںسمیر پریمل
خیا لِ یار سے خوشبو کشید کرتے ہوئے
اسی کو دیکھ کے جیتے اسی پہ مرتے ہوئے
ڈاکٹر نعمان قیصر

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز
پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ
بہار

پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز
بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز