پٹنہ یونیورسٹی کے پٹنہ ٹریننگ کالج کو 2030 ء تک کثیرشعبہ جاتی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کی تجویز متفقہ طور پر منظور
Awaz E Bihar••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ ٹریننگ کالج، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ میںکالج ڈیولپمنٹ کاؤنسل کی ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔مجلس کی صدارت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد واسع ظفر نے کی۔ میٹنگ میں متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کی گئی کہ پٹنہ ٹریننگ کالج، پٹنہ کو قومی تعلیمی پالیسی ۔۲۰۲۰ کی دفعات کے مطابق سال ۲۰۳۰ء تک ایک کثیر شعبہ جاتی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر تیار کیا جائے۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ چار سالہ انٹی گریٹیڈ ٹیچر ایجوکیشن(4-year integrated teacher ducation programme) پروگرام جیسے بی ایس سی بی ایڈ، بی اے بی ایڈ، بی کام بی ایڈ کو لازمی طور پر شروع کرانے کے لیے کالج کی کثیر شعبہ جاتی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیلی ضروری ہے۔ یہ تبدیلیاں قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے سیکشن ۴؍۱۵ اور ۵؍۱۵ اور این سی ٹی ای، نئی دہلی کے ترمیم شدہ ریگولیشن۔ ۲۰۲۱ کے ضمیمہ کی دفعہ ۵؍۱ کے مطابق کی جائیں گی۔ کالج ڈیولپمنٹ کاؤنسل نے این سی ٹی ای، نئی دہلی اور یوجی سی کے تجویز کردہ تین اختیارات پر تفصیلی غور و خوض کے بعدفیصلہ کیا کہ پٹنہ ٹریننگ کالج، پٹنہ کو آزادانہ طور پر ایک کثیر شعبہ جاتی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کیا جائے گانہ کہ کسی دوسرے ادارے کے ساتھ انضمام یا عارضی تعاون کے ذریعے۔کاؤنسل نے کالج کی تاریخی شناخت ، تعلیمی وراثت اور زمین کی مناسب دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس متبادل کو ہی بہتر سمجھا۔ میٹنگ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ پٹنہ ٹریننگ کالج ۱۹۰۸ ء میں قائم کیا گیا تھا اور یہ ہندوستان کے چار قدیم ترین اساتذہ کی تربیت کے اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ بہار اور جھارکھنڈ کے اسٹیٹ یونیورسٹی سسٹم (State University System)میں اساتذہ کی تعلیم و تربیت کا پہلا الحاق شدہ کالج ہے اور اساتذہ کی تعلیم کے میدان میں پوسٹ گریجویٹ کورس شروع کرنے والے ملک کے ابتدا کے چند معروف اداروں میں شامل رہا ہے۔ کالج ڈیولپمنٹ کاؤنسل نے متفقہ طور پر صدر کو یہ اختیار دیا کہ وہ کالج کو ایک کثیر شعبہ جاتی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے ایک تفصیلی تجویز تیار کریں جسے پٹنہ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھیجا جاسکے۔بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرنے کے لیے کسی پیشہ ور ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا، جس کے اخراجات کالج کے اندرونی وسائل سے پورے کئے جائیں گے۔اس فیصلے کو اساتذہ کی تعلیم کے شعبے میں ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے اجلاس میں موجود اراکین نے کہا کہ اس سے نہ صرف پٹنہ ٹریننگ کالج کی تعلیمی صلاحیت میں توسیع ہوگی بلکہ بہار میں جامع ، لچک دار اور معیاری اعلیٰ تعلیم کو ایک نئی سمت بھی ملے گی۔اس موقع پر کالج کے تمام اساتذہ موجود رہے۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد واسع ظفر نے تمام حاضرین کا ان کی شرکت کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ میٹنگ میں لی گئی تجاویز کو عمل درآمد کے لیے بہت جلد یونیورسٹی کی معرفت ریاستی حکومت کو بھیجا جائے گا۔