علاقائی زبانوں کے تراجم کی اشد ضرورت:پروفیسر ابوبکر عباد
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
قومی تعلیمی پالیسی میں علاقائی زبان کے فروغ کا سنہری موقع: پروفیسر مشتاق احمد
دربھنگہ۔۲۳؍ دسمبر۔کسی بھی زبان کو ثروت مند بنانے کے لئے علاقائی زبانوں کے تراجم کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ علاقائی زبان صرف زبان نہیں ہوتی بلکہ وہ اس علاقہ خاص کی تہذیب وثقافت کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے جب علاقائی زبانوں کے تراجم سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے تو ہم مختلف النوع تہذیب وثقافت سے بھی آگاہ ہوتے ہیں ۔مذکورہ خیالات کا اظہار اردو کے نامور ناقد ومحقق پروفیسر ابو بکر عباد، صدر شعبۂ اردو ، دہلی یونیورسٹی، دہلی نے کیا ۔ پروفیسر عباد مقامی سی۔ایم کالج میں شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقدمذاکرہ بہ عنوان ’’علاقائی زبان کی اہمیت وافادیت‘‘ میں بطور مہمانِ خصوصی اظہار خیال کر رہے تھے۔انہو ںنے کہا کہ بہار میں کئی علاقائی زبانیں ہیں جن میں ادب لکھنے کی قدیم روایت ہے اس لئے یہاں کی مختلف علاقائی زبانوں کے ادب کو اردو میں اور اردو کے ادب کو علاقائی زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔پروفیسر عباد نے کہا کہ پروفیسر مشتاق احمد کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے کہ وہ متھلانچل کی علاقائی زبان میتھلی کے ادبا اور شعرا ء کی تخلیقات کو اردو میں اور اردو ادب کو میتھلی میں منتقل کرتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ’’مرأۃ العروس‘‘ کا میتھلی میں ’’کنیاک آئینہ‘‘ اور بابا ناگارجن کے میتھلی ناول’’بلچنما‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو واقعی اردو زبان وادب کے لئے مفید ہے ۔اس موقع پر صدر جلسہ پروفیسر مشتاق احمد ، پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نے کہا کہ ہماری قومی تعلیمی پالیسی میں علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کی وکالت کی گئی ہے اور اس میں پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دئے گئے ہیں جو بلا شبہ ہندوستان جیسے کثیر اللسان ملک کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔پروفیسر احمد نے کہا کہ متھلا میں میتھلی زبان کی حیثیت ادبی اعتبار سے بھی بہت اہم ہے کہ یہاں چودہویں صدی میں ویاپتی جیسا عظیم شاعر پیدا ہوااور جنہوں نے میتھلی شاعری کو عروج بخشا اور چندا جھا نے میتھلی میں مثالی نثر لکھی۔میتھلی زبان کے ادب کا ترجمہ اردومیں اور اردو ادب کے نمائندہ شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات کا میتھلی میں ترجمہ کیا جانا دونوں زبان کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔اس مذاکرہ میں سی ایم کالج کے شعبۂ اردو فارسی کے اساتذہ ڈاکٹر خالد انجم عثمانی، ڈاکٹر فیضان حیدر، ڈاکٹر شبنم،ڈاکٹر مجاہد اسلام ، ڈاکٹر مسرور ہادی اور للت نرائن متھلا یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ پروفیسر آفتاب اشرف ، معروف صحافی ظفرانور شکر پوری،پروفیسر شہنواز عالم، ڈاکٹر رضوان احمد وغیرہم نے بھی اس مذاکرہ میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور علاقائی زبان کے ادب کے تراجم کو وقت کا تقاضہ قرار دیا ۔مذاکرہ کے آغاز میںمہمانِ خصوصی پروفیسر ابوبکر عباد کامتھلانچل کی روایت کے مطابق پاگ،چادر اور گلدستہ سے استقبال کیا گیا اور ان کا مفصل تعارف کراتے ہوئے پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ اس وقت اردو دنیا میں فکشن کی تنقید لکھنے والوں میں ڈاکٹر عباد ایک معتبر نقاد کے طورپر اپنی شناخت رکھتے ہیں اور ان کی نصف درجن کتابیں حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہیں ۔ آخر میں صدر شعبہ ڈاکٹر خالد انجم عثمانی نے رسمِ شکریہ ادا کیا۔