منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران کے ساتھ با مقصد مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں : واشنگٹن
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران کے ساتھ با مقصد مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں : واشنگٹن

Awaz E Bihar•24 دسمبر، 2025 کو 03:11 PM•6 ویوز•2 منٹ پڑھیں

واشنگٹن :اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی مشیر اور وزارتِ خارجہ کی سابق ترجمان مورگن اورٹاگس نے دونوں ملکوں کے سفارت کاروں کے درمیان ہونے والے ایک نادر علانیہ تبادلے میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ با ضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب تہران براہِ راست اور با مقصد مذاکرات کے لیے آمادہ ہو۔"گذشتہ روز منگل کی شام سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ عوامی سطح پر (میڈیا کے سامنے) مذاکرات نہیں کرے گا۔اورٹاگس نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی ادوار کے دوران تہران کی طرف "سفارت کاری کا ہاتھ" بڑھایا ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک "اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے مکمل طور پر پُر عزم ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ "اپنا راستہ تبدیل کریں اور اعتماد کی بحالی کے لیے ٹھوس اور قابلِ بھروسہ اقدامات اٹھائیں۔"خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ تہران اب بھی 2015 کے جوہری معاہدے کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا اور جس کے تحت ایران نے پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جوہری معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت گہری اور وسیع ہوتی جا رہی ہے۔رواں سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور طے تھا، لیکن وہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔ اس جنگ کے دوران امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بم باری میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا۔واضح رہے کہ ستمبر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست جوہری مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جو ایران اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین بشمول جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔


شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز