منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بہار اسمبلی انتخاب 2025 کوملک کے اہم سیاسی واقعات کے لیے یاد رکھا جائے گا
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

بہار اسمبلی انتخاب 2025 کوملک کے اہم سیاسی واقعات کے لیے یاد رکھا جائے گا

Awaz E Bihar•30 دسمبر، 2025 کو 07:21 PM•0 ویوز•11 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 30 دسمبر (اے بی این) بہار اسمبلی انتخاب میں برسراقتدار اتحاد کی جیت کے ساتھ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا ریکارڈ دسویں مرتبہ ریاست کی باگ ڈور سنبھالنا نہ صرف اس ریاست بلکہ ملک کے سیاسی منظرنامے میں گزرتے سال کا ایک اہم ترین سیاسی واقعہ رہا۔
سال کے آغاز میں صحت کی بنیاد پر ناقدین کی جانب سے مسترد کئے جارہے مسٹر کمار نے اپنی سیاسی مہارت اور شفاف شبیہ کی بدولت انتخابی بساط پر اپنے مخالفین کو چاروں شانے چت کر دیا اور سیاسی مباحث میں ترقی کی سیاست کو نئی تقویت دی۔ بعد ازاں سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس انتخاب کو بہار کی سیاست میں ایک نیا موڑ قرار دیا۔
ریاست کے نوجوان رہنما نتن نوین کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا قومی ایگزیکٹیو صدر بننا بھی بہار کے لیے اس سال کا ایک اہم واقعہ رہا۔
سال 2025 میں جب پورے ملک کی نظریں بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر مرکوز تھیں، اس وقت بیشتر سیاسی پنڈتوں کے اندازوں کے مطابق یہ انتخاب "سُشاسن بابو" کے نام سے مشہور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سیاسی سفر کا آخری پڑاؤ ثابت ہونے والا تھا۔ نومبر میں منعقد ہونے والے 243 نشستوں والی ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں برسراقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی انتخابی آندھی نے ریاست کے اقتدار کو حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو، نائب وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند مکیش سہنی اور پرشانت کشور کی پارٹی جن سُراج کے تیسرے محاذ کے خوابوں کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی پرساد یادو نے یہاں تک الزام لگایا تھا کہ نتیش کمار بہار کے محض نمائشی وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ حکومت دہلی سے بی جے پی کے سینئر رہنما اور ریاست میں سینئر انتظامی افسران چلا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے کئی بار کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نیم بے ہوشی کی حالت میں ہیں اور ریاست میں قانون و نظم سمیت کئی معاملات سے وہ ناواقف ہیں۔ جن سُراج کے رہنما پرشانت کشور تو یہاں تک کہنے لگے تھے کہ نتیش کمار کی صحت وزیر اعلیٰ بنے رہنے کے لائق نہیں ہے اور اگر یہ بات درست نہیں ہے تو حکومت کو ان کی تازہ صحت کی صورتحال پر ایک میڈیکل بلیٹن جاری کر کے اس کی تردید کرنا چاہیے۔
بی جے پی نے اپوزیشن کی جانب سے این ڈی اے کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار پر مسلسل بڑھتے حملوں کے باوجود یہ واضح یقین دہانی نہیں دی تھی کہ انتخاب کے بعد نتیش کمار ہی بہار کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ نے انتخابی تاریخ کے اعلان سے قبل یہ کہہ کر اپوزیشن کو ایک بڑا سیاسی موضوع دے دیا تھا کہ انتخاب کے بعد این ڈی اے کے نو منتخب ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ کے لیے اپنا قائد منتخب کریں گے۔ انتخابی نتائج کے اعلان پر نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے کو زبردست کامیابی ملی اور ان کی پارٹی کا عددی زور گزشتہ اسمبلی انتخاب کے مقابلے 43 سے بڑھ کر 85 ہو گیا۔ اقتدار کے دوسرے بڑے دعویدار مہاگٹھ بندھن محض 35 نشستوں تک سمٹ کر رہ گیا۔ نتائج میں جنتا دل یونائیٹڈ(جے ڈی یو )کی مضبوطی کے ساتھ این ڈی اے کو 202 نشستوں پر شاندار اکثریت حاصل ہونے کے بعد بی جے پی کے پاس نتیش کمار کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، چنانچہ انہوں نے 20 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔
نتیش کمار نے اسمبلی انتخاب اور اس سے قبل اپوزیشن کے سنگین چیلنجز کا سامنا کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے شراب بندی کی ناکامی اور قانون و نظم و ضبط کے حوالے سے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہار میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کئی ایسے اقدامات کیے جن کے نتیجے میں پولیس انتظامیہ نے خواتین کے تحفظ کے لیے متعدد سہولیات فراہم کرنا شروع کیا۔ خواتین میں معاشی تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لیے مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا شروع کی گئی، جس کے تحت وزیر اعلیٰ نے خود خواتین کے کھاتوں میں دس دس ہزار روپے منتقل کیے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے وعدہ کیا کہ جن خواتین کے روزگار بہتر طریقے سے چلیں گے، انہیں آئندہ چھ ماہ میں کاروبار کے لیے علیحدہ سے دو لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اگرچہ مہاگٹھ بندھن کی جانب سے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ یہ گرانٹ نہیں بلکہ "قرض کی رقم" ہے، لیکن غالباً اس کا عوام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ خواتین کے لیے چلائی گئی متعدد اسکیموں کا اثر یہی رہا کہ اس بار کے انتخاب میں 71.6 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے، جو مرد ووٹروں (62.8 فیصد) سے تقریباً نو فیصد زیادہ ہے۔
انتخاب سے قبل آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے ہر گھر کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، جس کا لوگوں پر کافی اثر دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے توڑ کے طور پر نتیش کمار نے نہ صرف ہر گھر کو 125 یونٹ مفت بجلی دینے کا اعلان کیا بلکہ اسے نافذ بھی کر دیا۔ انتخاب سے پہلے ہی اس وعدے کے نفاذ کا فائدہ این ڈی اے کو ملا۔
سال 2025 آر جے ڈی کے لیے ایک برے خواب کی طرح ثابت ہوا۔ اس سال پارٹی کے قومی صدر لالو پرساد یادو کے خاندان میں دراڑ دیکھنے کو ملی۔ 25 مئی کو لالو پرساد یادو نے اپنے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کو پارٹی اور خاندان دونوں سے نکال دیا۔ چھ سال کے لیے آر جے ڈی سے معطل تیج پرتاپ یادو نے 26 ستمبر کو اپنی نئی پارٹی "جن شکتی جنتا دل" کا اعلان کیا۔ انہوں نے مہوا اسمبلی نشست سے انتخاب لڑا لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لالو خاندان کی اس دراڑ میں نہ صرف تیج پرتاپ متاثر ہوئے بلکہ لالو کی بیٹی روہنی آچاریہ کو بھی گھر چھوڑنا پڑا۔
کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے انتخاب سے قبل الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف مبینہ ووٹ چوری کا معاملہ اٹھا کر بہار کے کئی اضلاع میں یاترائیں کیں لیکن وہ اسے ایک مضبوط انتخابی موضوع بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں "ووٹر ادھیکار یاترا" نکالی گئی۔ یاترا کے دوران اپوزیشن نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ سے نام کاٹ کر جمہوریت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ اس یاترا کی شروعات 17 اگست کو سہسرام سے ہوئی اور یکم ستمبر کو دارالحکومت پٹنہ میں اس کا اختتام ہوا۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی، الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بہار میں غریبوں کے حق رائے دہی کو چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹ میں ہیر اپھیر کی جا رہی ہے جسے وہ "ووٹ چوری" قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ آئین پر بھی براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران 65 لاکھ ووٹ کاٹے گئے۔
آزادی کے بعد پہلی بار 24 ستمبر کو پٹنہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی سمیت کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ کانگریس کی جانب سے اس اجلاس کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ پارٹی اسمبلی انتخابات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کا عوامی اثر و رسوخ پہلے کے مقابلے میں بڑھنے والا ہے۔ اگرچہ اجلاس سے پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش ضرور پیدا ہوا لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا اور پارٹی کی نشستیں گزشتہ اسمبلی انتخاب کے مقابلے 19 سے گھٹ کر صرف چھ رہ گئیں۔
اس بار کے انتخاب میں پرشانت کشور کی آمد سے مقابلہ سہ رخی ہونے کے امکانات ظاہر ہونے لگے تھے۔ انہوں نے 20 مئی کو جے پرکاش نارائن (جے پی) کی جنم بھومی ستابدیارا سے "بہار بدلاؤ یاترا" کی شروعات کی۔ روزگار، ہجرت اور بدعنوانی جیسے مسائل اٹھا کر انہوں نے ابتدا میں ووٹروں کے ایک بڑے طبقے کو متوجہ کیا۔ انتخاب سے قبل پرشانت کشور نے این ڈی اے کے چار بڑے رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری، وزیر منگل پانڈے، وزیر اشوک چودھری اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال پر مختلف بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس انتخاب میں پرشانت کشور وہی کردار ادا کریں گے جو 2020 کے اسمبلی انتخاب میں چراغ پاسوان نے ادا کیا تھا لیکن جیسے جیسے انتخاب قریب آتا گیا ماحول بدلتا چلا گیا۔
پرشانت کشور کی جانب سے خود انتخاب نہ لڑنے کے اعلان کے بعد ووٹروں کو لگنے لگا کہ جن سُراج کے سرپرست اس دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ کئی ووٹر تیسرے متبادل کی تلاش میں تھے لیکن جب انہیں لگا کہ پرشانت کشور کی حمایت سے ان کا ووٹ ضائع ہو جائے گا تو انہوں نے جن سُراج پارٹی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا اور پارٹی صفر پر سمٹ گئی۔
بہار اسمبلی انتخاب میں جہاں این ڈی اے نے شاندار جیت حاصل کر اقتدار میں واپسی کی، وہیں مہاگٹھ بندھن پوری طرح بکھر گیا۔ انتخاب کے اعلان سے پہلے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ مہاگٹھ بندھن کے اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور مسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ تیجسوی یادو اتحاد کی قیادت کرنا چاہتے تھے، لیکن کانگریس معاون کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ یہاں تک کہ وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش سہنی اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی کھل کر اپنی حصے داری کا مطالبہ کرنے لگیں۔ وی آئی پی سربراہ نے 60 نشستوں کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ عہدے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ نشستوں کی تقسیم پر شروع ہونے والا تنازع مہاگٹھ بندھن میں دراڑ کا سبب بنا۔ اتحادی جماعتوں کے درمیان وقت پر نشستوں کی تقسیم کا باضابطہ اعلان نہیں ہو سکا۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان تناو اس قدر بڑھ گیا کہ کئی دنوں تک بات چیت بند رہی اور بالآخر دونوں اتحادی کئی نشستوں پر ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آئے۔ اس انتخاب میں 11 نشستوں پر مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کے درمیان "دوستانہ" مقابلہ ہوا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام نشستوں پر این ڈی اے کے امیدوار کامیاب ہو گئے۔
2020 کے اسمبلی انتخاب میں اپنی اپنی پارٹیوں کی کراری شکست کے بعد اس بار کے انتخاب میں راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے سربراہ اپندر کشواہا اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے صدر چراغ پاسوان نے این ڈی اے کی کشتی پر سوار ہو کر انتخابی دریا پار کر لیا۔ 2020 میں اپندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی(آر ایل ایس پی ) صفر پر سمٹ گئی تھی جبکہ چراغ پاسوان کی پارٹی کو محض ایک نشست ملی تھی۔ اس بار چراغ پاسوان کو 19 نشستیں ملیں جبکہ اپندر کشواہا نے چار نشستیں حاصل کیں۔
تیجسوی یادو کی بھرپور کوششوں کے باوجود آر جے ڈی کی کارکردگی خاصی خراب رہی اور پارٹی محض 25 نشستوں پر سمٹ گئی، جس کے باعث وہ بمشکل اپوزیشن لیڈر بن سکے۔ بہار اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 243 ہے اور اپوزیشن لیڈر کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 25 نشستوں کا جیتنا ضروری ہے، جو آر جے ڈی نے بمشکل حاصل کیا۔
انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی نے اپنی تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں، جن کے تحت نوجوان رہنما اور پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی نتن نوین کو پارٹی کا قومی ایگزیکٹیو صدر بنایا گیا۔ نتن نوین نتیش حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی طرح ایک اور نوجوان رہنما سنجے سراؤگی کو پارٹی کا نیا ریاستی صدر مقرر کیا گیا۔
جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سینئر رہنما اننت سنگھ کی ایک قتل کیس میں گرفتاری بھی سرخیوں میں رہی۔ مکامہ اسمبلی حلقے سے جے ڈی یو کے امیدوار اننت سنگھ کو یکم نومبر کو جن سوراج کے حامی دلارچند یادو کے قتل کے معاملے میں پٹنہ ضلع کے باڑھ سب ڈویژن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اننت سنگھ نے جیل سے ہی انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد نتیش کمار نے اپنے کابینہ ساتھیوں کے درمیان محکموں کی تقسیم کی، لیکن محکمہ داخلہ نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے سپرد کرنا ان کا حیران کن فیصلہ تھا۔ اس سے قبل 2005 سے مسلسل یہ محکمہ نتیش کمار اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ نتیش کمار نے دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کا حلف لیا اور اس پر لندن کے ورلڈ بک آف ریکارڈز میں ان کا نام درج کیا گیا۔ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستان کی کسی ریاست میں کسی رہنما نے دس مرتبہ وزیر اعلیٰ کا حلف لیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز
گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی
بہار

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
 سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی
بہار

سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•27 ویوز