منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
حکومتِ ہند غیر ملکی پناہ گزینوں کو ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکے:مسلم پرسنل لابورڈ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

حکومتِ ہند غیر ملکی پناہ گزینوں کو ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکے:مسلم پرسنل لابورڈ

Awaz E Bihar•4 اگست، 2026 کو 03:58 PM•26 ویوز•3 منٹ پڑھیں

انیس برس بعدکولکاتہ واپس آنے والی بنگلہ دیش کی متنازعہ اور مفرور مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کولکاتا میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ اور دینی مدارس کے بارے میں نہایت اشتعال انگیز، گمراہ کن اور حقائق سے عاری بیانات دیے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اسے ہندوستان کے داخلی معاملات میں ایک غیر ملکی کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کہنا کہ دینی مدارس انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں یا وہاں سے ''جہادی'' تیار ہوتے ہیں، صریح بہتان، کھلی کذب بیانی اور ایک پوری مذہبی و تعلیمی روایت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ایسے بے بنیاد الزامات نہ صرف کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو بھی پراگندہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایک غیر ملکی، جو خود ہندوستان میں پناہ کی زندگی گزار رہی ہے، اسی ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر نفرت انگیز تبصرے کر رہی ہے۔ ہندوستان کی سرزمین کسی کو آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت پھیلانے، مذہبی اداروں کو بدنام کرنے یا ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ حکومتِ ہند کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کو واضح طور پر ان کی قانونی حدود کا پابند بنائے اور مستقبل میں اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی کی روک تھام کرے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ تسلیمہ نسرین نے بنگلہ دیش کے بارے میں بھی جو زبان استعمال کی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ہندوستان کی متوازن خارجہ پالیسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ ایسے بیانات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے حکومتِ ہند کو اس پہلو کا بھی فوری نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف اس نوعیت کی پروپیگنڈا مہم کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ایسے الزامات عائد کیے گئے، لیکن آج تک نہ کوئی الزام لگانے والا ایک بھی معتبر ثبوت پیش کر سکا اور نہ ہی ملک کی کسی تحقیقاتی یا سکیورٹی ایجنسی نے ان دعوؤں کی توثیق کی۔ اس کے باوجود دینی مدارس کو بدنام کرنا ایک منظم سیاسی اور نظریاتی مہم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس سرکاری خزانے پر ایک روپیہ بھی بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ انہی مدارس کے ہزاروں فضلاء ملک کی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے عدلیہ، تعلیم، صحافت، سول سروس، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے قومی خدمات انجام دینے والے اداروں کو بدنام کرنا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ ملک کی تعلیمی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیز بیان بازی کا سنجیدگی سے نوٹس لے، غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کے داخلی اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک کا آئینی و سماجی ماحول کسی بیرونی فرد کی نفرت انگیز سیاست کا شکار نہ بنے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا
قومی

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•14 ویوز
وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور
قومی

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
قومی

الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں

Awaz E Bihar•10 اکتوبر، 2026•16 ویوز