نتیش کے مؤثر قیادت میں ریاستی حکومت اچھی حکمرانی، انصاف اور ترقی کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے: گورنر
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
بہار کے گورنر عارف محمد خان نے ملک کے 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ریاست کے باشندوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی مؤثر قیادت میں ریاستی حکومت اچھی حکمرانی، انصاف اور ترقی کے عزم کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ گورنر مسٹر خان نے دارالحکومت پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں پرچم کشائی کے بعد موجود مجمع اور ریاست کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار حکومت ریاست کے تمام علاقوں اور تمام طبقات کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے اور ریاست میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ مسٹر خان نے 26 جنوری 1950 کو ملک میں جمہوریت کے قیام کی یاد دلاتے ہوئے اس کے 77 برس مکمل ہونے پر بہار کے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اسی دن ملک میں پارلیمانی نظام پر مبنی حکومت کی بنیاد رکھی گئی تھی اور آئین کے ذریعے ملک کے تمام شہریوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کے ساتھ ساتھ اظہارِ خیال، عقیدہ، مذہب اور عبادت کی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین وقار اور مواقع کی مساوات اور عوام کو باعزت زندگی فراہم کرنے کے اصول کے ساتھ نافذ ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ایک جمہوری ملک کی حیثیت سے ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے اور ملک کی ہمہ جہت ترقی کے خواب حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ گورنر نے بہار حکومت کی گزشتہ بیس برسوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جرائم پر قابو پانے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2005 میں بہار میں پولیس فورس کی تعداد نہایت کم تھی، اسی لیے ابتدا ہی سے نتیش حکومت نے پولیس فورس میں اضافے پر زور دیا اور اب اس کی تعداد بڑھ کر 1,31,000 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آئندہ بھی بھرتیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ مسٹر عارف محمد خان نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبرستانوں کی زمین سے متعلق تنازعات کو حل کیا گیا ہے اور سال 2016 سے سات برس سے زائد پرانے مندروں کی چہار دیواری کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے چوری جیسی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گورنر نے ریاست میں ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں بڑی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی منصوبہ بندی ہے کہ سڑکوں کا ایسا جال بچھایا جائے کہ ریاست کا کوئی بھی فرد پانچ گھنٹے کے اندر دارالحکومت پٹنہ پہنچ سکے۔ مسٹر خان نے کہا کہ سال 2006 سے ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے فائدہ اٹھانے والے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بہار میں صرف چھ میڈیکل کالج اور اسپتال تھے، جو اب بڑھ کر 12 ہو گئے ہیں، جبکہ باقی تمام 27 اضلاع میں بھی نئے میڈیکل کالج قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ گورنر نے کہا کہ حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2006 میں عالمی بینک کے تعاون سے ریاست میں سیلف ہیلپ گروپس کا آغاز کیا گیا، جسے بعد میں 'جیویِکا' کا نام دیا گیا۔ آج ایسے گروپس کی تعداد 11 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جن سے ایک کروڑ 40 لاکھ جیویِکا دیدیاں وابستہ ہیں، جن میں اکثریت کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024 سے شہری علاقوں میں بھی سیلف ہیلپ گروپس کی تشکیل کی جا رہی ہے، جن کی تعداد 41 ہزار ہو گئی ہے، اور ان سے تقریباً 4 لاکھ 34 ہزار جیویِکا دیدیاں منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اداروں میں خواتین کو 50 فیصد اور سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا جا رہا ہے۔ مسٹر خان نے تعلیم کے شعبے میں بہار حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ریاست میں اسکولوں کی تعداد بہت کم تھی اور اساتذہ کی قلت کے باعث نظام درست طور پر نہیں چل رہا تھا۔ اسی لیے حکومت نے بڑی تعداد میں نئے اسکول قائم کیے اور انہیں بہتر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مقررہ (کنٹریکٹ) اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے معیار میں بہتری کے لیے سال 2023 سے بہار لوک سیوا آیوگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر امتحانات کے ذریعہ سرکاری اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے۔ آج مجموعی طور پر سرکاری اساتذہ کی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ 24 ہزار ہو گئی ہے۔ گورنر نے بہار کی جدید کاری کے تناظر میں حکومت کے 'سات نشچے' (سات عہد) کا ذکر کیا اور کہا کہ سال 2015 میں ان کے تحت ہر گھر تک بجلی، نل کے ذریعے پانی، ہر گھر میں بیت الخلا اور دیہی علاقوں کو سڑکوں سے جوڑنے کا کام شروع کیا گیا، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018 تک ہر گھر بجلی پہنچا دی گئی تھی اور اب حکومت کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو تقریباً مفت بجلی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواہش مند خاندانوں کو سولر پینل لگانے کے لیے سبسڈی بھی دے رہی ہے۔