بہار میں اردو زبان کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی فروغ مل رہاہے :پروفیسر آفاقی
Awaz E Bihar••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
شمالی بہار میں دربھنگہ اردو زبان وادب کا ایک اہم مرکز: پروفیسر مشتاق دربھنگہ۔۲۲؍ دسمبر۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ عصرِ حاضر میں بہار ملک کی ایک ایسی ریاست ہے جہاں نہ صرف اردو زبان کی ترقی کے لئے ماحول سازگار ہے بلکہ یہاں ادب کو بھی فروغ مل رہاہے اورشعری اصنافِ ادب و نثری اصناف میں معیاری تخلیقات کا ایک بڑاذخیرہ جمع ہورہاہے۔ان خیالات کا اظہار اردو کے نامور محقق وناقد پروفیسر آفتاب احمد آفاقی ، چیئر مین شعبۂ اردو ، بنارس ہندو یونیورسٹی، بنارس نے کیا۔ پروفیسر آفاقی شمالی بہار کے تاریخی اعلیٰ تعلیمی ادارہ سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ریاست بہار زمانۂ قدیم سے اردو زبان وادب کا گہوارہ رہاہے اور بدلتے حالات میں جب شمالی ہند کی دیگر ریاستوں میں اردو زبان کی تعلیم مسدود ہوتی جا رہی ہیں ایسے وقت میں بہار ایک ایسی ریاست ہے جہاں اسکول وکالج میں تعلیم کا مستحکم نظام ہے اور یہاں کے ادبا وشعراء دونوں معیاری تخلیقات پیش کر رہے ہیں جس سے شعری اور نثری دونوں شعبے میں ایک بڑا معیاری ذخیرہ جمع ہو رہاہے جو مستقبل کے لئے تحقیق وتنقید کا موضوع بنے گا۔واضح ہو کہ پروفیسر آفاقی ایل این متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ میں ایک دفتری امور کی انجام دہی کے لئے تشریف لائے تھے اس کے بعد مقامی سی ایم کالج میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں موصوف نے اپنی عزت افزائی کے لئے کالج خاندان کے تئیں اظہارِ تشکر اور یہاں کی تعلیمی سرگرمیوں پر اظہارِ مسرت پیش کیا۔اس موقع پر کالج کے پرنسپل پروفیسر مشتاق احمدنے متھلانچل کی تہذیبی روایت کے مطابق پاگ، چادر اور گلدستہ سے استقبال کیا ۔پروفیسر مشتاق احمد نے پروفیسر آفاقی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ عہدِ حاضر میں اردو کے چند نامور محقق اور ناقد میں پروفیسر آفتاب احمدآفاقی کا شمار ہوتا ہے اور ان کی درجنوں کتابیں حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہیں۔پروفیسر احمد نے کہا کہ عہدِ قدیم سے ہی دربھنگہ اردو زبان وادب کا اہم مرکز رہاہے اور دبستانِ عظیم آباد کی ایک کڑی کے طورپر اپنی شناخت رکھتا ہے ۔اس وقت بھی تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کے معاملے میں ریاست بہار کا یہ ایک اہم مرکز ہے اور زبان کی ترقی کے ساتھ ساتھ ادب کی تخلیق کرنے والے کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو سنجیدگی سے نثری و شعری تخلیقات پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر آفتاب اشرف نے کہا کہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہیں کہ وہ تنقید وتحقیق دونوں میں معیار ووقار کے لحاظ سے اعلیٰ تخلیق پیش کر رہے ہیں اور نئی نسل کی ذہن سازی کو اولیت دیتے ہیں ۔اس جلسۂ استقبالیہ میں کالج کے تمام اساتذہ وملازمین کے ساتھ ساتھ طلبا وطالبات موجود تھے۔