بہار میں طبی انقلاب کی نئی راہیں ہموار،میڈیکل کالجوں میں سستی طبی تعلیم فراہم کرناحکومت کی اولین ترجیح
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 16 اکتوبر: بہار میں طبی تعلیم کے فروغ اور صحت خدمات کو مزید معیاری، آسان اور مؤثر بنانے کے لیے ریاستی حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت براؤن فیلڈ میڈیکل کالجوں کے انتظام و انصرام کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جمعہ کو لوک سیوک آواس کے سنکلپ آڈیٹوریم میں محکمہ صحت کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اس سلسلے میں پیش کی گئی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ماڈل کے تحت بہار کے سرمایہ کاروں اور شراکت داری کے خواہش مند ڈاکٹروں کو ترجیح دی جائے، تاکہ ریاست کے وسائل کا بہتر استعمال ہو اور بہار کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی پی پی ماڈل کے تحت میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کے انتظام سے متعلق تجاویز پر آگے بڑھتے وقت عوامی مفاد، سرکاری ملکیت، طلبہ کے تعلیمی مفادات اور مریضوں کے حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کی ملکیت حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گی اور ان کی نجکاری یا ملکیت کی منتقلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ مجوزہ معاہدے میں حکومت اور نجی شراکت دار کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر متعین کیا جائے، تاکہ انتظامی امور میں شفافیت اور جواب دہی برقرار رہے۔ جائزہ میٹنگ میں محکمہ صحت کے سکریٹری کمار روی نے پریزنٹیشن کے ذریعے پی پی پی ماڈل کے تحت براؤن فیلڈ میڈیکل کالجوں کے انتظام و انصرام سے متعلق تجاویز کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں میں علاج کی مقررہ فیس، مریضوں کی اہلیت، بستروں کی مختلف اقسام اور مریضوں کے حقوق سے متعلق اہم معلومات اسپتال کے احاطے اور آن لائن ذرائع پر ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں نمایاں طور پر دستیاب کرانے کا انتظام کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے اخراجات، دستیاب سہولیات اور متعلقہ ضابطوں کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ انہیں علاج کے دوران کسی طرح کی الجھن یا غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی پی پی ماڈل کے نفاذ میں سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انتظامی نظام کی بہتری اور طبی تعلیم کے معیار کو خاص اہمیت دی جائے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ نجی شراکت داری کے باوجود عام لوگوں کو معیاری اور قابل رسائی طبی سہولیات حاصل ہوتی رہیں۔ سمراٹ چودھری نے کہا کہ براؤن فیلڈ میڈیکل کالجوں کے لیے پی پی پی ماڈل پر کام کرتے وقت بہار کے سرمایہ کاروں کو ترجیح دی جائے۔ ریاست کے جو ڈاکٹر اس منصوبے میں شراکت داری کرنا چاہتے ہیں، انہیں بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد بہار کے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے اور اس عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کو عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔انہوں نے طبی تعلیم کی توسیع اور صحت خدمات کے معیار میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل اور بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال کرکے میڈیکل کالجوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ منصوبوں پر آئندہ کارروائی کے دوران تعلیمی معیار، انتظامی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور عام لوگوں کو ملنے والی طبی سہولیات کو ترجیح دی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کے ضلع ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو جدید اور مضبوط بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مریضوں کو جدید طبی سہولیات آسانی سے دستیاب ہونی چاہئیں۔ اس کے لیے اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے، تاکہ مریضوں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہو۔انہوں نے پٹنہ کے سرکاری آیورویدک کالج و اسپتال کو مزید جدید بنانے اور اسے ملک کے بڑے آیورویدک اداروں سے منسلک کرنے کی سمت میں کام کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اس اقدام کا مقصد آیورویدک تعلیم، تحقیق اور علاج کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار حکومت ریاست میں طبی تعلیم اور صحت خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفاد، معیاری علاج اور مریضوں کے حقوق کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔