خلافت کمیٹی نے خلافت ہاؤس کے معاملے میں وارث پٹھان کے الزامات مسترد کردیے
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
آل انڈیا خلافت کمیٹی نے بدھ کے روز مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان کی جانب سے ممبئی کے تاریخی خلافت ہاؤس کی ملکیت اور اس کے احاطے میں قائم تعلیمی ادارے کی قانونی حیثیت سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا۔ کمیٹی کے ٹرسٹی ڈاکٹر رؤف پٹھان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد جائیداد کی ترقی کے منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا خلافت کمیٹی کالج آف ایجوکیشن کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ممبئی یونیورسٹی سے ملحق ہے۔ اس ادارے سے اب تک تقریباً 3,600 اساتذہ تعلیم حاصل کرچکے ہیں، جن میں سے کئی ہندوستان اور بیرونِ ملک خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر رؤف پٹھان، جنہوں نے امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں واقع یونیورسٹی آف ویسٹ جارجیا سے تعلیمی انتظام و انصرام کا کورس کیا ہے، نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے ضروری اجازتیں حاصل کرلی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ ترقیاتی منصوبے کے تحت خلافت ہاؤس کے احاطے میں جلد ہی ایک اسپتال اور کالج قائم کیا جائے گا۔ کمیٹی کا یہ ردعمل وارث پٹھان کی جانب سے شروع کی گئی قانونی کارروائی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس میں تعمیراتی اور مرمتی کام روکنے کے لیے حکمِ امتناعی کی درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے ملکیتی دعوے اور جائیداد کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ جج وائی ایم ایچ کھراڈی اور رکن محمد محی الدین معید کے روبرو وارث پٹھان کے وکیل نثار احمد خان نے منگل کے روز اپنے دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جائیداد وقف کی ہے اور بی ایڈ کالج کے قانونی طور پر کام کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ادارے کے پاس چیریٹی کمشنر کی لازمی منظوری موجود نہیں ہے۔ ان دعوؤں کی مخالفت کرتے ہوئے رؤف پٹھان نے کہا کہ یہ جائیداد وقف کی ملکیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کمیٹی کو جائیداد کی 2003 میں وقف کے طور پر رجسٹریشن سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 2006 میں اُس وقت کے وزیر برائے وقف عارف نسیم خان کے دور میں کیے گئے سروے یا سیٹلائٹ نقشہ سازی میں بھی اس جائیداد کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ٹرسٹی نے کارروائی میں ضلع کلکٹر کو فریق بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کمیٹی کو بدنام کرنے کی مبینہ سازش کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چیریٹی کمشنر کو مبینہ طور پر واپس کیے گئے اصل وقف دستاویزات کے بارے میں وائٹ پیپر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر رفیق زکریا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے میڈیکل کالج قائم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری جانب، حکمِ امتناعی کی درخواست کی حمایت میں نثار احمد خان نے 13 نومبر 2003 کے وقف گزٹ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا، جس میں اس جائیداد کو زمرہ 'بی کے مذہبی اداروں میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے بھی اس درجہ بندی کو برقرار رکھا ہے۔ خان نے تقریباً 150 سال پرانے تاریخی ریکارڈ، پراپرٹی کارڈ میں کرایے کے اندراجات نہ ہونے، 1926 میں حکومت کے ایک دعوے کے تصفیے اور 1968 سے جائیداد کے مذہبی استعمال کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف کی حیثیت سے اس جائیداد کی درجہ بندی کو 22 برسوں سے کسی نے چیلنج نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2023 سے پہلے جائیداد پر حکومت کی ملکیت ثابت نہیں کی گئی تھی اور دعویٰ کیا کہ 1996 کے بعد اس معاملے میں چیریٹی کمشنر کا دائرۂ اختیار ختم ہوچکا تھا۔ آئندہ سماعت میں وقف بورڈ کی جانب سے دلائل پیش کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد مدعا علیہان کے وکلا کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔