بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے پارٹی کے قومی کنوینر آکاش آنند کے تعلق سے ایک بڑا بیان جاری کیا ہے۔ بی ایس پی صدر نے آکاش آنند کی پارٹی اور سرگرمیوں کے تئیں سرگرمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب کافی سوجھ بوجھ اور پختگی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ محترمہ مایاوتی نے پارٹی کارکنان اور بہوجن سماج کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسٹر آنند کے پروگراموں کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر آنند نے اپنے رشتہ دار اشوک سدھارتھ کے سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بی ایس پی کے قومی کنوینر کی حیثیت سے کافی محنت اور تیزی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی اور موومنٹ کے کاموں میں خاندان اور رشتہ داریوں کو ترجیح دینے کے بجائے اپنی ذمہ داری کو نبھانا زیادہ ضروری ہے۔ محترمہ مایاوتی کے مطابق مسٹر آنند آنے والے دنوں میں اتر پردیش کے کئی اضلاع میں بی ایس پی کے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق 28 اکتوبر کو بلند شہر میں جلسہ عام، 2 نومبر کو سہارنپور میں ، 20 نومبر کو ایودھیا میں، 22 نومبر کو آگرہ میں اور 29 نومبر کو کانپور نگر میں جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان پروگراموں کے ذریعے مسٹر آنند پارٹی کے تنظیم اور عوامی بنیاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنان سے براہِ راست رابطہ قائم کریں گے۔ بی ایس پی صدر نے بتایا کہ 26 نومبر کو یومِ آئین کے موقع پر پنجاب اسٹیٹ میں بی ایس پی کی جانب سے منعقدہ 'وچار سنگوشٹھی سماروہ میں آکاش آنند مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس کے بعد 6 دسمبر کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مہا پرینروان دن کے موقع پر اتراکھنڈ کے ہری دوار ضلع میں منعقدہ وچار سنگوشٹھی سماروہ / جلسہ عام سے بھی آکاش آنند خطاب کریں گے۔ اپنے بیان میں محترمہ مایاوتی نے مسٹر سدھارتھ کے حوالے سے جاری بحث اور افواہوں پر بھی پوزیشن واضح کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے لیے مسٹر آنند اور ان کے رشتہ دار مسٹر سدھارتھ زیادہ ذمہ دار تھے، جن کی وجہ سے انہیں پارٹی سے باہر کر کے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح طورپر کہا کہ مسٹر سدھارتھ کو اب کسی بھی حالت میں یا کسی بھی قیمت پر دوبارہ بی ایس پی میں واپس نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے پارٹی کارکنان سے ایسی افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خود غرض عناصر لوگوں کو طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہٰذا پارٹی کے تمام لوگوں کو ہوشیار اور بیدار رہنا چاہیے۔ بی ایس پی سربراہ نے پارٹی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ آکاش آنند کو سونپے گئے تمام پروگراموں کو پورے تن، من اور دھن سے کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر آنند کی سرگرمی سے پارٹی کے کاموں میں تیزی آرہی ہے اور کارکنان کو ان کے پروگراموں کو بھرپور انداز میں کامیاب بنانا چاہیے۔ محترمہ مایاوتی نے اپنے بیان میں مسٹر آنند کے چھوٹے بھائی ایشان آنند کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لندن سے وکالت کی تعلیم مکمل کرنے والے ایشان آنند بھی ان کی رہنمائی میں ایک سرگرم کارکن کے طور پر بی ایس پی کے دہلی واقع مرکزی دفتر میں پارٹی کے انتخابات اور دیگر کاغذی کارروائیوں سے متعلق کاموں میں تعاون کریں گے۔ ان کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آکاش آنند کو بی ایس پی کی تنظیمی اور عوامی رابطہ مہم میں ایک بار پھر اہم کردار دیا جا رہا ہے۔یوپی کے کئی اضلاع میں مسلسل جلسوں کی ذمہ داری اور قومی سطح کے پروگراموں میں ان کی موجودگی پارٹی میں ان کے فعال کردار کو ظاہر کرتی ہے۔وہیں، مسٹر سدھارتھ کی پارٹی میں واپسی کے امکانات کو محترمہ مایاوتی نے دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ایسے میں بی ایس پی کی آنے والی سیاسی سرگرمیوں میں مسٹر آنند کی سرگرمی اور پارٹی کی نوجوان قیادت کا رول انتہائی اہم رہنے والا ہے۔