پیر، 19 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بابا صدیقی قتل اور ٹائیگر شراف پر فائرنگ میں مماثلت، بشنوئی گینگ کے ممکنہ کردار کی تحقیقات
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

بابا صدیقی قتل اور ٹائیگر شراف پر فائرنگ میں مماثلت، بشنوئی گینگ کے ممکنہ کردار کی تحقیقات

Awaz E Bihar
•19 اکتوبر، 2026 کو 03:54 PM•1 ویوز•4 منٹ پڑھیں

بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر ممبئی کے جوہو علاقے میں فائرنگ کے واقعے نے سابق ریاستی وزیر بابا صدیقی کے قتل کی یاد تازہ کردی ہے۔ پولیس دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ مماثلت اور لارنس بشنوئی گینگ کے مبینہ رول کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کررہی ہے۔واضح رہے کہ دونوں واقعات دسہرہ کے تہوار کے آس پاس پیش آئے۔ بابا صدیقی کو 12 اکتوبر 2024 کو باندرہ ایسٹ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تازہ واقعے میں اتوار کی شام جوہو میں نامعلوم حملہ آوروں نے ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں اداکار کے ڈرائیور اور ایک دیگر شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ ٹائیگر شراف براہِ راست گولی لگنے سے محفوظ رہے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بعد ازاں بتایا کہ اداکار کے دائیں ہاتھ پر بارود سے جلنے کا زخم آیا ہے۔فائرنگ کے تازہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ اور آڈیو پیغام گردش کرنے لگے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کا تعلق بشنوئی گینگ سے وابستہ افراد سے ہے۔ مبینہ پیغامات میں ٹائیگر شراف کے اداکار سلمان خان سے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو دھمکیاں دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
سلمان خان کا نام سامنے آنے کے بعد اس معاملے کو بابا صدیقی قتل کیس کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ نے صدیقی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ممبئی پولیس نے اپنی تحقیقات میں الزام عائد کیا تھا کہ یہ قتل گینگ کی بالادستی قائم کرنے اور سلمان خان سے وابستہ افراد کو خوف زدہ کرنے کی سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس سے قبل یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی نے بابا صدیقی کے قتل کی سازش کی ہدایت دینے میں کردار ادا کیا تھا۔تاہم، ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں پولیس نے اب تک سوشل میڈیا پیغامات اور آڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی لارنس بشنوئی گینگ کے ملوث ہونے کو ثابت کیا جاسکا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کو فی الحال محض ایک امکان کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ ریاستی حکومت ممبئی میں جرائم پیشہ گروہوں کو خوف و دہشت کا ماحول قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ شندے نے ٹائیگر شراف کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور اداکار و ان کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔شندے نے 1990 کی دہائی میں گینگسٹرز کے خلاف کی گئی پولیس کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بھتہ خوری، دھمکیوں اور فائرنگ کے اس دور کی واپسی روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔ممبئی پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے 15 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ پولیس حکام سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر سراغوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملزمین کی شناخت، فائرنگ کے محرکات اور اس کے پسِ پردہ افراد کا پتہ لگایا جاسکے۔اس واقعے نے اپریل 2024 میں سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور اسی سال اکتوبر میں بابا صدیقی کے قتل کے بعد بالی ووڈ سے وابستہ شخصیات کو ملنے والی دھمکیوں کے معاملے کو ایک بار پھر مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا تازہ فائرنگ کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کی جانب سے خوف و ہراس پھیلانے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش تھی یا اس کے پیچھے کوئی دوسرا محرک کارفرما تھا۔ تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ حملے کا حکم کس نے دیا، حملہ آور کون تھے اور آیا اس واقعے کا سابقہ معاملات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

لارنس بشنوئی گینگ: پنجاب کے گروہ سے بین الاقوامی جرائم کے نیٹ ورک تک
قومی

لارنس بشنوئی گینگ: پنجاب کے گروہ سے بین الاقوامی جرائم کے نیٹ ورک تک

Awaz E Bihar•19 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز
کرناٹک: مندر کی دیوار پر مسجد اور صلیب کی تصاویر سے تنازع، پولیس نے مقدمہ درج کیا
قومی

کرناٹک: مندر کی دیوار پر مسجد اور صلیب کی تصاویر سے تنازع، پولیس نے مقدمہ درج کیا

Awaz E Bihar•19 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•3 ویوز
 انکیتا قتل واقعہ کے ملزم دشینت گوتم کی حلف برداری
قومی

انکیتا قتل واقعہ کے ملزم دشینت گوتم کی حلف برداری

Awaz E Bihar•19 اکتوبر، 2026•1 ویوز