لارنس بشنوئی گینگ: پنجاب کے گروہ سے بین الاقوامی جرائم کے نیٹ ورک تک
Awaz E Bihar
••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پیر کو بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس نے فائرنگ کے واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کر لی ہے۔فڑنویس نے کہا کہ بالی ووڈ اداکار پر فائرنگ میں ملوث کسی بھی گینگ یا فرد کو بخشا نہیں جائے گا۔اتوار کو نامعلوم مسلح افراد نے شراف کی کار پر فائرنگ کی تھی۔ اداکار اس حملے میں بال بال بچ گئے، تاہم شیشے کے ٹکڑے لگنے اور بارود کے اثر سے انہیں معمولی خراشیں آئیں۔لارنس بشنوئی گینگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ گینگ پنجاب اور شمالی ہندوستان میں سرگرم ایک گروہ سے ترقی کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی منظم جرائم کے نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔اس واقعے پر اپوزیشن نے بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ بالی ووڈ اداکار پر فائرنگ ریاست میں امن و قانون کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے معروف سیاست دانوں، گلوکاروں اور دیگر شخصیات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس گینگ کا ممبئی میں کئی واقعات سے تعلق بتایا جاتا ہے، جن میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما اور مہاراشٹر کے سابق وزیر بابا صدیقی کا قتل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اور بیرونِ ملک پیش آنے والے واقعات میں بھی اس کا نام سامنے آیا ہے۔بابا صدیقی کو اکتوبر 2024 میں باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لارنس بشنوئی گینگ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بابا صدیقی کے بالی ووڈ اداکار سلمان خان سے قریبی تعلقات تھے۔ اسی سال اس سے قبل موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے باندرہ میں سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر چار گولیاں چلائی تھیں۔ گینگ نے کھلے عام کہا تھا کہ صدیقی کو سلمان خان سے دوستی اور ان کے مبینہ انڈر ورلڈ روابط کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ مئی 2022 میں معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل میں بھی اسی گینگ کا نام سامنے آیا تھا۔ گلوکار اور سیاست دان سدھو موسے والا کو پنجاب کے گاؤں جواہرکے میں گھات لگا کر اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جب وہ اپنی گاڑی چلا رہے تھے۔ کینیڈا میں مقیم گینگ کے کارندے گولڈی برار نے لارنس بشنوئی کے ساتھ اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ قتل نوجوان اکالی رہنما وکی مڈوکھیڑا کے 2021 میں ہونے والے قتل کا بدلہ تھا۔ ان کے مطابق سدھو موسے والا نے مڈوکھیڑا کے قاتلوں کو پناہ دی تھی۔ دسمبر 2023 میں دائیں بازو کی تنظیم راشٹریہ راجپوت کرنی سینا کے صدر سکھ دیو سنگھ گوگامڑی کو ان کے گھر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حملہ آور ان سے ملاقات کے بہانے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ لارنس بشنوئی گینگ کے قریبی ساتھی روہت گوڈارا نے اس قتل کی وجہ ذاتی دشمنیوں اور گینگ کے علاقائی مفادات میں گوگامڑی کی مبینہ مداخلت کو قرار دیا تھا۔ ستمبر 2023 میں پنجاب سے فرار ہو کر کینیڈا جانے والے مطلوب گینگسٹر سکھدول سنگھ گل، المعروف ''سکھا ڈونیکے'' کو کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لارنس بشنوئی گینگ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونیکے پنجاب اور کینیڈا میں حریف گینگز، بالخصوص بمبیہا گینگ، کی مدد کر رہا تھا۔