بدھ، 21 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آوازِ بہار

آوازِ بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آوازِ بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آوازِ بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
میں اب بھی صدمے میں ہوں: فرانس میں پولیس پر کم عمر مظاہرین پر تشدد کے الزامات
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

میں اب بھی صدمے میں ہوں: فرانس میں پولیس پر کم عمر مظاہرین پر تشدد کے الزامات

Awaz E Bihar
•21 اکتوبر، 2026 کو 02:30 PM•0 ویوز•9 منٹ پڑھیں

فرانس میں پولیس پر طلبہ کے احتجاج کے دوران کم عمر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ متعدد نابالغوں کے شدید زخمی ہونے کے واقعات نے پولیس اور نوجوانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
17 سالہ اینزو کے مطابق، ایک پولیس اہلکار نے اس کا بازو پکڑا، جبکہ دوسرے نے پیچھے سے لاٹھی ماری۔ اس کا سر خون سے لت پت ہو گیا اور اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑا، جہاں زخموں پر ٹانکے لگائے گئے۔14 سالہ ایڈن اس وقت بات کرنے سے قاصر ہے۔ سینٹ اوئن لُومون میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے اس کے چہرے پر آنسو گیس کا گرینیڈ داغے جانے سے اس کا جبڑا بری طرح ٹوٹ گیا۔16 سالہ مائیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے مطابق، پولیس کی جانب سے چلائی گئی ربڑ کی گولی اس کی آنکھ پر لگی تھی۔
ستمبر کے وسط میں فرانسیسی ہائی اسکولوں کے طلبہ نے تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ان کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے بعد سے پولیس کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ الجزیرہ سے بات کرنے والے وکلا اور مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس کشیدگی کم کرنے کے بجائے تشدد اور ناراضگی کو ہوا دے رہی ہے۔
فرانسیسی حکام نے پولیس کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ضروری قرار دیا ہے، تاہم ماہرین اور وکلا کا کہنا ہے کہ کم عمر مظاہرین کے خلاف تشدد سے ریاست اور شہریوں کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے۔پیرس بار کی وکیل اینوہا پاسکوال نے کہاوہ ایک پوری نسل کو کھو رہے ہیں۔ حکومت خوف پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ جب آپ کسی کو معذور کر دیتے ہیں یا شدید زخمی کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص اور اس کے آس پاس کے لوگ دوبارہ مظاہروں میں شرکت نہیں کریں گے۔تعلیمی نظام کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
اینزو کے معاملے میں الجزیرہ کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اساتذہ پر مشتمل ایک پُرامن گروپ طلبہ کے سامنے انسانی زنجیر بنائے کھڑا ہے۔ پولیس اہلکار اس حصار کو توڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور قریب سے لاٹھیاں برسانے کے ساتھ مرچوں کا اسپرے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیوز میں خوف زدہ لوگوں کی چیخیں سنی جاسکتی ہیں۔
اینزو نے کہا، ''میں اب بھی صدمے میں ہوں۔ ہماری حفاظت کرنے کے بجائے وہ ہم پر حملہ کر رہے ہیں۔
ایڈن کی وکیل ایلسا مارسیل کے مطابق، واقعے کے وقت لڑکا اسکول کے احتجاج سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک نیچی دیوار پر اکیلا بیٹھا موبائل فون دیکھ رہا تھا کہ تین پولیس اہلکار اس کے قریب آئے۔
واقعے کی ویڈیوز میں بظاہر ایک پولیس اہلکار کو نوجوان پر لاٹھی سے وار کرتے اور اس کے بعد دوسرے اہلکار کو اس کے چہرے پر آنسو گیس کا گرینیڈ داغتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مارسیل کے مطابق، گرینیڈ تقریباً ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے فائر کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار زخمی لڑکے کو زمین پر چھوڑ کر چلے گئے اور ایمرجنسی خدمات کو بھی اطلاع نہیں دی۔
ایڈن کے اہل خانہ نے اقدامِ قتل کے الزام میں شکایت درج کرائی ہے۔
اینزو کی وکیل اور کلیکٹو فار لیگل ایکشن (سی اے جے) کی رکن ماتیلد لانتے نے کہا، ''اس سماجی تحریک کے دوران ایسا واقعہ بے مثال ہے، خصوصاً اس لیے کہ متاثرہ تمام افراد نابالغ ہیں۔''فرانسیسی حکام نے ہائی اسکول کے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے جبر کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے سیکڑوں اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اکتوبر کے اوائل میں وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو طاقت استعمال کرنے سے گریز کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے، تاہم طاقت کا استعمال متناسب رہنا چاہیے۔
اسی ماہ وزارت انصاف نے استغاثہ کے حکام کو احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات پر فوری اور سخت کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ اس میں نابالغوں کی کارروائیوں کے لیے ان کے والدین کی شہری قانونی ذمہ داری پر غور کرنے کی ہدایت بھی شامل تھی۔
ادھر فرانس کے پولیس نگران ادارے آئی جی پی این نے مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے 36 معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 6,900 افراد کو پولیس حراست میں لیا گیا، جن میں 86 فیصد نابالغ ہیں۔تاہم، پولیس کے اس سخت رویے سے مظاہرین کے حوصلے پست ہونے کے بجائے ان کی تحریک مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے، جن میں تقریباً ایک لاکھ افراد صرف دارالحکومت پیرس میں احتجاج کر رہے تھے۔
مظاہروں میں بار بار یہ نعرہ لگایا گیا، ہم اتنے کم عمر ہیں کہ ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، لیکن اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ہمیں پیٹا جا سکے۔ہفتے کے روز پولیس نے احتجاجی مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ استعمال کیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے پورے دن کے لیے کشیدہ ماحول پیدا کر دیا۔پیرس میں پولیس نے چوک سے باہر نکلنے والے راستے بند کر دیے اور لوگوں کے لیے صرف چند تنگ راستے کھلے چھوڑے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد پھنس گئے اور ہجوم کے دباؤ سے بعض لوگوں کو چکر آنے اور گھبراہٹ کے دورے پڑنے لگے۔
ماہرین اس حکمت عملی کو فرانسیسی زبان میں ''لا ناس'' یعنی مظاہرین کو گھیر کر ایک محدود جگہ میں محصور کرنے کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس طریقۂ کار پر تنقید کرتی رہی ہیں، کیونکہ اس سے نقل و حرکت کی آزادی اور احتجاج کے حق پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے احتجاج نے فرانس میں موجود وسیع تر سماجی ناراضگی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ملک پہلے ہی مالیاتی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے اور اب سماجی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پیرس کی سڑکوں پر بعض مقامات پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ہفتے اور اتوار کی رات نوجوانوں کے بعض گروپوں نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، انہیں آگ لگائی اور لوٹ مار کی۔
وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے پیر کو کہاگزشتہ تین ہفتوں سے ہم سن رہے ہیں کہ پولیس لوگوں کو مار رہی ہے یا زخمی کر رہی ہے۔ لیکن گزشتہ دو دنوں سے ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ پولیس کر کیا رہی ہے؟ یہ ایک خاص قسم کی فرانسیسی ذہنی کشمکش ہے۔''فرانس میں پولیس کو اس سے پہلے بھی طاقت کے استعمال پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
2018 میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی ''ییلو ویسٹ'' تحریک کے دوران مظاہرین نے زرد جیکٹیں پہن کر احتجاج کیا تھا۔ یہ تحریک بعد میں وسیع سماجی احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ اس دوران ربڑ کی گولیوں اور اسٹن گرینیڈ کے استعمال سے مظاہرین کے شدید زخمی ہونے کے واقعات پر پولیس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جون 2023 میں نانتیر میں ٹریفک چیکنگ کے دوران 17 سالہ ناہیل مرزوق کو پولیس کی گولی سے ہلاک کیے جانے کے واقعے کے بعد کئی روز تک فسادات ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نسلی بنیادوں پر پولیس کی جانچ پڑتال اور پولیس تشدد کے معاملے پر بحث کو دوبارہ تیز کر دیا تھا۔
ماحولیاتی کارکنوں نے بھی پولیس پر غیر متناسب طاقت استعمال کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ خصوصاً 2023 میں سینٹ سولین میں آبی ذخیرے کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی متعدد بار پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور احتجاج کے حق پر پابندیوں کے بارے میں تشویش ظاہر کر چکی ہیں۔پیرس کے سائنسز پو یونیورسٹی میں سماجیات کے لیکچرر اور کتاب جیوپولیٹیک دے لا ژونیس کے شریک مصنف پاؤلو اسٹوپیا کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔انہوں نے کہا،جو کچھ پہلے مضافاتی علاقوں یا خودمختار کارکن گروپوں تک محدود تھا، اب اس کا اطلاق ہر کسی پر ہو رہا ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان بداعتمادی کی فضا ہے، اور یہ اس لیے بڑھ رہی ہے کہ پولیس کا جبر اب کہیں زیادہ لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔وکیل پاسکوال کے مطابق، پولیس تشدد کی شدت کا گہرا تعلق ہجوم پر قابو پانے کے لیے ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے ہے جو مستقل معذوری اور زندگی بھر رہنے والی چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ربڑ کی گولیاں چلانے والے ہتھیار اور دھماکہ خیز گرینیڈ فرانس میں پولیس کے طریقۂ کار پر جاری تنازع کا اہم حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''یہ واقعی وہی ہے جسے ہم 'فرانسیسی طرز' کا ہجوم پر قابو پانے کا طریقہ کہتے ہیں۔ اس میں مخصوص ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں ایسے ہتھیار بھی شامل ہیں جنہیں غیر مہلک کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ان سے جان بھی جا سکتی ہے۔وزیر داخلہ نونیز نے ایک نوجوان کے ہاتھ سے محروم ہونے کے بعد اسٹن گرینیڈ کے استعمال کو معطل کر دیا تھا۔ تاہم، ہفتے کے احتجاجی مارچ سے قبل انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں تشدد کی صورت میں ان کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ''جب حالات معمول کے مطابق ہوں تو یہ ہتھیار کبھی استعمال نہیں کیے جاتے۔لیکن ہفتے کے روز ان کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔الجزیرہ کے صحافیوں نے موقع پر دیکھا کہ پولیس نے مارچ شروع ہونے سے کافی پہلے ہی بار بار آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے۔پاسکوال نے سوال اٹھایا کہ آیا طاقت کے استعمال سے واقعی امن و امان بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کے مطابق، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاجب آپ پولیس اہلکاروں کی ایسی ویڈیوز دیکھتے ہیں جن میں وہ اپنی ڈھالیں نیچے رکھتے اور ہیلمٹ اتارتے ہیں تو آپ کیا دیکھتے ہیں؟ ان کے سامنے موجود مظاہرین رک جاتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں۔ فرانس میں ایسا نہیں ہوتا۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

چین کا اسرائیل سے مطالبہ: غیر قانونی یہودی آبادکاری بند کی جائے
عالمی خبریں

چین کا اسرائیل سے مطالبہ: غیر قانونی یہودی آبادکاری بند کی جائے

Awaz E Bihar•16 اکتوبر، 2026•11 ویوز
فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج گرم ہونے سے خوراک خراب، کئی مقامات پر آگ لگی
عالمی خبریں

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج گرم ہونے سے خوراک خراب، کئی مقامات پر آگ لگی

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•12 ویوز
سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•15 ویوز