بہار قانون سازیہ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
Awaz E Bihar••104 ویوز•6 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 27 فروری (اے بی این) بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی کارروائی جمعہ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ بہار اسمبلی کے اسپیکر پریم کمار نے وقفہ طعام کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ 02 فروری سے 27 فروری 2026 تک جاری رہنے والے اس اجلاس کے دوران مجموعی طور پر اٹھارہ اجلاس منعقد ہوئے۔ اسپیکر پریم کمار نے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے سے قبل اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ بہار ایک زرعی اور رشیوں کی سرزمین رہا ہے۔ ہمیں کسانوں اور جوانوں کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ترقی یافتہ بہار کے ذریعے ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب پورا ہوسکے۔ اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ اس اجلاس کا آغاز پہلے دن 2 فروری کو سنٹرل ہال میں عارف محمد خان کے خطاب سے ہوا۔ اس کے بعد بہار اسمبلی میں شروع ہونے والے اور بہار قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں سے منظور شدہ اور گورنر کی منظوری حاصل کرنے والے بلوں کی تفصیلات اسمبلی سکریٹری نے ایوان کی میز پر پیش کیں، جن کی اطلاع اٹھارہویں بہار اسمبلی کے پہلے اجلاس کے اختتام کے بعد موصول ہوئی تھی۔ اسی دن انچارج وزیر نے مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے کی کاپی بھی ایوان میں پیش کی۔ اس اجلاس کے دوران چار عوامی رہنماؤں کے انتقال پر تعزیتی اظہار کیا گیا اور آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پریم کمار نے کہا کہ 03 فروری 2026 کو انچارج وزیر، محکمہ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کا آمد و خرچ کا تخمینہ ایوان میں پیش کرتے ہوئے بجٹ تقریر کی۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر کے خطاب پر رکن اسمبلی سنجے سراؤگی کی جانب سے پیش کی گئی شکریہ کی تحریک پر 03 اور 05 فروری 2026 کو بحث ہوئی اور 05 فروری کو ہی وزیر اعلیٰ نے اس کا تفصیلی جواب دیا، جس کے بعد تحریک شکریہ منظور کر لی گئی۔ اسمبلی اسپیکر نے مزید کہا کہ 06 اور 09 فروری 2026 کو مالی سال 2026-27 کے آمد و خرچ کے تخمینے پر عمومی بحث ہوئی اور 09 فروری 2026 کو انچارج وزیر، محکمہ خزانہ نے تفصیلی جواب دیا۔ اسی دن انچارج وزیر نے مالی سال 2025-26 کے آمد و خرچ سے متعلق تیسری ضمنی مطالبات زر کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کیں۔ مسٹر کمار نے کہا کہ مجموعی طور پر 12 بلوں کو منظوری دی گئی، جن میں بہارتصرف بل، 2026، بہار تصرف (نمبر-2) بل، 2026، بہار تکنیکی خدمات کمیشن (ترمیمی) بل، 2026، بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن (ترمیمی) بل، 2026، بہار بلدیہ (ترمیمی) بل، 2026، بہار سول عدالت بل، 2026، بہار سیکریٹریٹ سروس (ترمیمی) بل، 2026، بہار مائیکروفنانس ادارے (قرض دہی کے ضابطہ و جابرانہ کارروائی کی روک تھام) بل، 2026، بہار نجی پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے (داخلہ ضابطہ و فیس تعیین) بل، 2026، بہار وکلا فلاحی فنڈ (ترمیمی) بل، 2026، بہار عوامی اعتماد (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 اور بہار ریاست مدرسہ ایجوکیشن بورڈ (ترمیمی) بل، 2026 شامل ہیں۔ اسمبلی اسپیکر پریم کمار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران کل 4190 سوالات موصول ہوئے، جن میں سے 3783 سوالات منظور کیے گئے۔ منظور شدہ 3783 سوالات میں 132 مختصر نوٹس والے سوالات شامل تھے، جن میں سے 125 کے جوابات موصول ہوئے۔ اسی طرح 2825 ستارہ والے سوالات منظور کیے گئے، جن میں سے 2656 کے جوابات حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حساسیت کے باعث تقریباً تمام محکموں نے سوالات کے سو فیصد جوابات فراہم کیے۔ مسٹرکمار نے بتایا کہ اس اجلاس میں کل 388 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئیں، جن میں سے 36 بیانات کے لیے منظور کی گئیں، 334 اطلاعات تحریری جواب کے لیے متعلقہ محکموں کو بھیجی گئیں اور 18 کو نامنظور قرار دیا گیا۔ اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ اجلاس کے دوران کل 779 عرضداشتیں موصول ہوئیں، جن میں سے 765 منظور اور 14 نامنظور ہوئیں۔ اسی طرح کل 569 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 532 منظور اور 37 نامنظور کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں کل 282 غیر سرکاری قراردادوں کی اطلاعات پر ایوان میں بحث ہوئی۔ مسٹر کمار نے کہا کہ اجلاس کے دوران اراکین نے زیرو آورکے ذریعے عوامی مفاد کے متعدد معاملات اٹھائے۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں کی رپورٹس، قواعد و ضوابط، نوٹیفکیشنز کی نقول اور بہاراسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان کی میز پر پیش کی گئیں۔ اسمبلی اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی میں تعاون پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار، نائب وزرائے اعلیٰ، وزرا، قائد حزب اختلاف اور دیگر جماعتی رہنماوں، حکومت و اپوزیشن، اسمبلی سیکریٹریٹ کے افسران و ملازمین، پولیس فورس کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں بامعنی بحث، تعمیری تجاویز اور عوامی مفاد کے مسائل پر سب کی شرکت نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اراکین کی فعال شرکت کو دیکھتے ہوئے اور اس کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے بہترین رکن اسمبلی اعزاز کی روایت بہار اسمبلی میں بھی شروع کی جائے گی۔ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو جائزہ لے کر سفارش پیش کرے گی، اور ان سفارشات کی بنیاد پر آئندہ بجٹ اجلاس سے یہ اعزاز دینا شروع کیا جائے گا۔ آخر میں انہوں نے ہولی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ رنگوں کا یہ تہوار سب کی زندگی میں نئی توانائی، باہمی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی پیدا کرے۔ مسٹر کمار نے کہا کہ 11 فروری 2026 کو مالی سال 2025-26 کے تیسرے ضمنی اخراجات کے بیان میں شامل سماجی بہبود محکمہ کی گرانٹس کی مانگ پر بحث شروع ہوئی، اور حکومت کے جواب کے بعد یہ مانگ منظور کر لی گئی، جبکہ بقیہ مانگیں گیلوٹین کے طریقہکار کے تحت منظور ہوئیں۔ اس کے بعد متعلقہ تصرف بل بھی منظور کر لیا گیا۔ اسمبلی اسپیکر پریم کمار نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے آمد و خرچ کے تخمینے سے متعلق 08 (آٹھ) گرانٹس کی مانگیں ایوان میں بحث کے بعد منظور ہوئیں، جبکہ 20 فروری 2026 کو آمد و خرچ کے تخمینے میں شامل بقیہ گرانٹس کی مانگیں گیلوٹین کے ذریعے منظور کی گئیں۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ 23 فروری 2026 کو مالی سال 2026-27 کے آمد و خرچ کے تخمینے سے متعلق بہارتصرف (نمبر-2) بل، 2026 پیش کیا گیا اور اسے ایوان نے منظور کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 فروری 2026 کو انچارج وزیر، محکمہ خزانہ نے مالی ذمہ داری اور بجٹ نظم و نسق ایکٹ، 2006 کے تحت مالی سال 2026-27 کے نتیجہ جاتی بجٹ، اطفال بہبود بجٹ، جینڈر بجٹ، گرین بجٹ کی کتابچوں اور مالی سال 2024-25 کی کارکردگی رپورٹ کی ایک ایک کاپی ایوان کی میز پر پیش کی۔ اسمبلی اسپیکر نے مزید کہا کہ 26 فروری 2026 کو انچارج وزیر، محکمہ خزانہ نے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 151(2) کے تحت کنٹرولر و آڈیٹر جنرل آف انڈیا سے موصول مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کی "عمل درآمد و تعمیل آڈٹ۔سول و تجارتی" رپورٹیں اور مالی سال 2024-25 کے مالی حسابات اور تصرف حسابات سے متعلق رپورٹ ایوان کی میز پر پیش کی۔ اس کے ساتھ ہی ان رپورٹس کو بہار اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور سرکاری ادارہ جات سے متعلق کمیٹی کے ذریعے زیرِ غور لانے اور عوام کے لیے فروخت کے مقصد سے دستیاب کرانے کی تجویز کو بھی ایوان نے منظور کر لیا۔