بہار کی اقتصادی ترقی ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو سے زیادہ تیز : اقتصادی سروے 2025-26
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 02 فروری (اے بی این) بہار اسمبلی میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق سال 2024-25 میں بہار کی معاشی ترقی کی شرح، ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو سے زیادہ رہنے کا اندازہ ہے۔ اس مدت کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی شرح نمو مستقل قیمتوں پر 6.5 فیصد اور جاری قیمتوں پر 9.8 فیصد رہی، جبکہ بہار میں یہ شرح بالترتیب 8.6 فیصد اور 13.1 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بہار کے وزیر خزانہ وجیندر پرساد یادو نے آج اسمبلی میں سال 2025-26 کا اقتصادی سروے پیش کیا، جس کے مطابق ریاست بلند شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت وسیع تر معاشی استحکام، شعبہ جاتی تنوع، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر مسلسل توجہ کے باعث ممکن ہو سکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2024-25 میں بہار کی معاشی ترقی کی شرح ہندوستان کی جی ڈی پی شرح نمو سے زیادہ رہنے کا اندازہ ہے، جو مستقل قیمتوں پر 6.5 فیصد اور جاری قیمتوں پر 9.8 فیصد رہی۔ سال 2024-25 کے اندازوں کے مطابق، بہار کا مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) مستقل (2011-12) قیمتوں پر 8.6 فیصد اور جاری قیمتوں پر 13.1 فیصد بڑھا۔ اس کے ساتھ ہی جی ایس ڈی پی بالترتیب 5,31,372 کروڑ روپے اور 9,91,997 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق، جاری قیمتوں پر بہار کی فی کس جی ایس ڈی پی سال 2020-21 میں 46,412 روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 76,490 روپے ہو گئی، جو مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ وہیں، مستقل (2011-12) قیمتوں پر فی کس جی ایس ڈی پی 2020-21 میں 30,159 روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 40,973 روپے ہو گئی۔ اقتصادی سروے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہار کی مالیاتی صورتحال نظم و ضبط پر مبنی مالی انتظام کی عکاسی کرتی ہے۔ ریاستی حکومت کا مجموعی خرچ سال 2020-21 میں 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 2.82 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔ ریاستی حکومت نے تعلیم، صحت، توانائی، ٹرانسپورٹ، آبپاشی اور زراعت جیسے شعبوں میں ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دی ہے اور محدود قرض لینے اور مو¿ثر قرض انتظام کے ذریعے مالی نظم و ضبط برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت کے مجموعی اخراجات میں سرمایہ جاتی اخراجات کا تناسب 2020-21 میں 15.8 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 22.3 فیصد ہو گیا، جبکہ محصولات پر مبنی اخراجات کا حصہ 84.2 فیصد سے گھٹ کر 77.7 فیصد رہ گیا۔ یہ ساختی تبدیلی طویل مدتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اثاثہ سازی کے تئیں حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کی محصولات وصولیاں 2020-21 میں 1.28 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 2.18 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہیں، جس میں ٹیکس محصولات کا حصہ نمایاں ہے۔ مجموعی محصولات میں ٹیکس وصولیوں کا تناسب 70 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد ہو گیا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات 5 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد اور گرانٹس 25 فیصد سے کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہیں۔ رپورٹ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کے مجموعی اخراجات میں منصوبہ جاتی اخراجات کا حصہ 2020-21 میں 38.3 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 39.9 فیصد ہو گیا، جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور لازمی اخراجات کا تناسب 61.7 فیصد سے گھٹ کر 60.1 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ رجحان فلاحی منصوبوں اور پالیسی پر مبنی ترقیاتی ترجیحات کی جانب بتدریج بڑھتے جھکاو¿ کو ظاہر کرتا ہے۔ ترقیاتی اخراجات پر خرچ سال 2020-21 میں 1,12,122 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 1,89,892 کروڑ روپے ہو گیا، جو ترقی پسند اور فلاحی اقدامات پر بڑھتے زور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس مدت کے دوران یہ اخراجات مجموعی بجٹ کا تقریباً دو تہائی حصہ رہے۔ سال 2024-25 کے اندازوں کے مطابق، بہار کے ثانوی شعبے کا مجموعی ریاستی قدر افزائش (جی ایس وی اے) مستقل (2011-12) قیمتوں پر 11.1 فیصد اور جاری قیمتوں پر 15.5 فیصد بڑھا۔ سروس شعبے میں مستقل قیمتوں پر 8.9 فیصد اور جاری قیمتوں پر 13.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی (پرائمری) شعبے میں مستقل قیمتوں پر 4.1 فیصد اور جاری قیمتوں پر 9.6 فیصد کی ترقی ہوئی۔ سال 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان، مستقل (2011-12) قیمتوں پر بہار کے جی ایس وی اے میں ثانوی شعبے کا حصہ 21.1 فیصد سے بڑھ کر 26.8 فیصد ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ تعمیرات اور مینوفیکچرنگ شعبے کی توسیع ہے۔ اس کے برعکس،پرائمری شعبے کا حصہ 21.9 فیصد سے گھٹ کر 18.3 فیصد اورسروس شعبے کا حصہ 57.0 فیصد سے کم ہو کر 54.8 فیصد رہ گیا۔ یہ تبدیلیاں ریاستی معیشت میں بڑھتے ہوئے تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ اقتصادی سروے رپورٹ بہار قانون ساز کونسل میں دیہی امور کے وزیر اشوک چودھری نے پیش کی۔ یواین آئی۔۔ قمر