شعبہ اردو نتیشور کالج میں الوداعیہ تقریب اور مشاعر ہ
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
مظفرپور:08/ جنوری(پریس ریلیز)محنتی طالب علم کو منزلیں خود تلاش لیتی ہیں. شعبہ اردو نتیشور کالج سے نکل کر ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں. کالج کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ یہاں کے طلبا کامیابیوں کے پرچم بلند کر رہے ہیں. ان خیالات کا اظہار نتیشور کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر پرمود کمار نے الوداعیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انھوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی سے آئے ہوئے طلبا کی عزت افزائی کی ساتھ ہی شعبہ کے سبھی فارغین کو نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا. صدر شعبہ اردو کامران غنی صبا نے کہا کہ شعبہ کے طلبا نے اپنی محنت، لگن اور شوق و جذبے سے شعبہ اردو نتیشور کالج کو قومی سطح پر ایک شناخت عطا کی ہے. شعبہ سے ایک ساتھ اتنے سارے طلبا کی کامیابی ہم سب کے لیے فخر و انبساط کا باعث ہے. اس موقع پر شعبہ کے سابق طلبا اسلم رحمانی، رقیہ خاتون، رابعہ خاتون، عائشہ خاتون اور سنجیدہ خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ اور کالج کے ماحول اور استاد کی تربیت نے انہیں جے این تک پہنچنے میں مدد کی. الوداعیہ تقریب کی نظامت نغمہ پروین اور مہوش ناز نے مشترکہ طور پر انجام دی. پروگرام میں آفرین پروین، تسنیم فاطمہ، محمد عارف، ابو طلحہ قاسم اور دیگر طلبا نے اپنے تاثرات اور منظوم کلام پیش کیے. پروگرام کے دوران شعبہ اردو کے سابق طالب علم اسلم رحمانی کی کتاب "نقوشِ ادب" کی رسم رونمائی معزز مہامانوں ہاتھوں انجام پائی۔ پرنسپل پروفیسر پرمود کمار نے کہا کہ کالج کے کسی طالب کی کتاب کی اشاعت حکومتِ بہار کے مالی تعاون اور منظوری سے ہو تو یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے۔اس موقع پر پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر پرمود کمار کی صدارت اور معروف شاعر جمیل اختر شفیق کی نظامت میں ایک شاندار مشاعرہ بھی منعقد ہوا. جس میں اسد رضوی، خلیل الرحمٰن قاسمی، ڈاکٹر پنکج کرن، ڈاکٹر آرتی، کامران غنی صبا، رقیہ مظفرپوری ،اسامہ غنی اور ہیم چندر دیپک نے اپنے کلام پیش کیے.الوداعیہ تقریب اور مشاعرہ میں ڈاکٹر امرجیت سنگھ، ڈاکٹر کسلے کشور، ششی کمار پاسوان، ڈاکٹر پوجا گپتا ، ڈاکٹر بے بی کماری، ڈاکٹر رینا جھا، ڈاکٹر اجیت کمار، ڈاکٹر حسین دلشی، مفتی عرفان قاسمی، مفتی نظر الہدی قاسمی، وسیم غازی، سمیت اساتذہ، ریسرچ اسکالر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے۔ مشاعرہ میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے: پروفیسر پرمود کمار لگی ہے آگ زمانے میں پھر بچا کیا ہے اگر میں بچ گیا پھر بولیے جلا کیا ہے اسد رضوی چراغ رکھ کے حویلی پہ گھر سے نکلا ہوں سنا ہے راستے میں سرپھری ہوا بھی ہے خلیل الرحمن قاسمی زندگی تجھ کو سمجھنے میں بہت دیر لگی کیا بتائیں کہ سمجھنے میں لگا کیا کیا کچھ کامران غنی صبا آئینے میں کس کو دیکھتے رہتے ہو میری آنکھوں میں بھی تم ہو دیکھو ناں جمیل اختر شفیق پیشانی پر پسینہ دیکھ کر میں کانپ جاتا ہوں مری ماں بیٹھ کر چولہے پہ جب کھانا بناتی ہے ڈاکٹر پنکج کر ن مشکل میں لگ رہا ہے یہ امن و امان کیاوحشی کے ہاتھ لگ گیا گیتا ، قرآن کیا ڈاکٹر آرتی کماری نشقہ نگاہ میں رکھنا آسمان کاارماں اگر ہے دل میں اونچی اڑان کا اُسامہ غنی بے قراری میں تصور کا یہ عالم ہے مریدر و دیوار پہ کچھ نقش بنا لیتا ہوں رقیہ مظفرپور ی حسن چھن چھن کے ٹپکتا ہے غزل ہوتی ہے شعبلۂ عشق بھڑکتا ہے غزل ہوتی ہے