منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
فروغ اردو کیلئے پرو  فیسر عبد المغنی کی کاوشیں فراموش نہیں کی جاسکتیں: ایس ایم اشرف فرید
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

فروغ اردو کیلئے پرو فیسر عبد المغنی کی کاوشیں فراموش نہیں کی جاسکتیں: ایس ایم اشرف فرید

Awaz E Bihar•5 فروری، 2026 کو 04:11 PM•0 ویوز•13 منٹ پڑھیں

عوامی سطح پراردو کی بہتری کیلئے مثبت ،تعمیری واصلاحی فکر کی ضرورت: ایس ایم پرویز عالم زبانیں محبت، برداشت اورحوصلہ افزائی سےپنپتی ہیں، کیڑا نکالنے سے نہیں: ڈاکٹر ریحان غنی اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت عبد المغنی یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال

پٹنہ(پریس ریلیز) پروفیسر عبد المغنی اپنی ذات میں ایک انجمن ہی نہیں بلکہ کئی انجمنوں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔صحافی، نقاد، عالم، مقرر اور ماہر تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریک اردو کے روح رواں کے طور پر عبد المغنی نے پورے بر صغیر ہند و پاک میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ پروفیسر عبد المغنی کی پہچان اردو ادب میں ایک قد آور نقاد کی حیثیت سے ہے۔ اردو زبان کو بہار میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی تحریک میں انہوں نے سرگرم کردار نبھایا۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، پٹنہ میں منعقد پروفیسر عبد المغنی یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت ایس ایم اشرف فرید، چیف ایڈیٹر روز نامہ قومی تنظیم ، پٹنہ نےکی۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر عبد المغنی کے صاحبزادے احمد محمود ایڈیشنل سکریٹری بشمول ڈائرکٹر ، سائنس ، ٹیکنا لوجی و ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، پٹنہ اور نوشاد عالم ، صدر نشیں اردو مشاورتی کمیٹی،بہار، پٹنہ شریک ہوئے۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ایس ایم اشرف فرید، چیف ایڈیٹر روز نامہ قومی تنظیم ، پٹنہ نے کہا کہ سب سے پہلے اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کا مشکورہوں کہ انہوں نے مجھے بحیثیت صدر مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ، بہار اردو کے تئیں بہتر اور مثبت نظریہ رکھتے ہیں۔ایسے میں اردو مشاورتی کمیٹی کے چیئر مین سے میں کہنا چاہوں گا کہ اردو کے حوالے سے آپ اپنی سفارشات کوحکومت تک پہنچائیں تاکہ اردو کی فلاح اور بہتر ی کیلئے حکومت مزیدپیش رفت کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تحریک مضبوط اور کامیاب اس وقت ہوتی ہے جب ان کے رفقاء کار بھی شانہ بہ شانہ کام کرتےہیں اور محبان اردو اس میں اپنا تعاون پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپس کی نا اتفاقی اور خفگی کو دور کرکے متحد و متفق ہو کر کام کرنے سے کامیابی ملے گی۔ وہ عالم با عمل، نثر نگاراور تنقید نگار کی حیثیت سے کافی معروف ہوئے ۔نہوں نے کہا کہ پروفیسر عبد المغنی اردو تحریک سے وابستہ ہوکر غلام سرور کے شانہ بہ شانہ کام کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے انجمن ترقی ارد وکے زیر اہتمام اپنی اردو تحریک کو آگےبڑھایا اور بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانےمیں نمایاں کردار نبھایا۔وہ انگریزی کے پروفیسر ہونے کے باوجودمغربیت سے مغلوب نہیں ہوئے۔ وہ مشرقیت کے دلدادہ تھے۔نئی نسل کو ان کی زندگی اور ان کےکارناموں سے سبق لینا چاہئے اور ان کے فکر او رفن سے استفادہ کرنا چاہئے۔نوشاد عالم ،صدر نشیں اردو مشاورتی کمیٹی، بہار، پٹنہ نے کہا کہ بلا شبہ پروفیسرعبد المغنی کی خدماتِ اردو نا قابل فراموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں اردو کے فروغ کے لئے کام ہو رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ فروغ ارد وکی تحریک میں اپنا تعاون دیں۔جب تک ہم متحد ہو کر اردو کے لئے کام نہیں کریں گے تب تک اردو کی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔اس سے قبل محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کی طر ف سے استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ،ڈائرکٹر ،اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کاوالہانہ استقبال کیا۔آج کی یہ تقریب پروفیسر عبدالمغنی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد کسی عظیم اور باوقار شخصیت کی زندگی، ادبی خدمات اور کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ساتھ ہی نئی نسل کو ان کے کارناموں اور خدمات سے واقف کرانا ہے۔پروفیسر عبد المغنی اردو ادب کے ایک اہم نقاد اور بہار میں اردو تحریک کے ایک اہم سالار رہے ہیں۔اردو کو بہار کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں ان کا کردار مرکزی اور اہم رہا ہے۔ان کو اردو عربی ،فارسی اور انگریزی چاروں زبانوں پر یکساں قدرت اور مہارت حاصل تھی۔ ان کی علمیت ، ذہانت اور صلاحیت، غیر معمولی تھی۔ پروفیسر عبدالمغنی نے ادب میں صالح اورمقصد آمیز تنقید کا روشن نظریہ پیش کیا ۔ ایک دانشور ، ایک نقاد اور ایک اچھے مقرر کی حیثیت سے پروفیسر عبد المغنی ہندستان گیر شہرت کے حامل رہے ہیں اور انہوںنے اپنی بے پناہ صلاحیتوں و بیش قیمت خدمات زبان و ادب کے ذریعہ پورے ملک میں بہار کا نام روشن کیا۔ ڈائرکٹر موصوف نے اردو ڈائرکٹوریٹ، حکومت بہار کی کارکردگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس مقصد سے اردو کودوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاگیا اور اردو ڈائرکٹوریٹ کا قیام عمل میں آیا۔ اس مقصد پر حکومت بہارپوری طرح کاربند عمل ہے۔پوری ریاست میں اردو کے فروغ کے لئے بہت سے منصوبوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔حکومت بہار کا فروغ اردو کے لئے سب سے بڑا کارنامہ غیر اردو داں کو اردو سکھانا ہے ، جو اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر انتظام آن لائن اردو لرننگ پروگرام کے تحت بخوبی انجام دئےجا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ریاستی اور ضلع سطح کے پروگراموں کی نوعیت عام ادبی محفلوں سے الگ ہے۔ فروغ اردو کیلئے حکومتی اداروں کے تحت کئے جارہے کام کو پرائیوٹ اداروں کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اردو کی دیگر تنظیموں کاکام خالص ادبی ہو سکتا ہے مگر حکومت کی اردو تقاریب اردو زبان اور محبان اردو کے لئے ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ سبھی تقریبات کالج، یونیورسٹی یادیگر تنظیموں کی طرح خالص ادبی نوعیت کی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اردو عوام اور شائقین اردو کا کوئی بھی فردفروغ اردو تقریب میں اپنی باتیں پیش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اور ضلع سطح پر منعقد ہونے والے پروگراموں کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اردو سے جوڑنا ہے۔حکومت نےخاص کر صرف مسلمانوں کے لئے نہیںبلکہ اردو سے محبت کرنے والے اردو ادب نواز تمام لوگوں کے لئے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے۔ضلع میں ہونے والے پروگرام کا پورا خاکہ ،وقت کا تعین، مقالہ خواں اور شعرا کا انتخاب ضلع انتظامیہ کے ماتحت کئے جاتے ہیں۔ضلع میں مامور اردو ملازمین اپنی اپنی صلاحیت اور مقامی طور پر حاصل تعاون کے ذریعہ بڑی محنت و مشقت کے بعد پروگرام کا انعقاد کرپاتے ہیں۔اس کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ پروگرام میں مقامی طور پر اردو کی خدمت میں سرگرم محبان اردو کی شرکت ہوتی ہے۔ جس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی موضوع یا حالات پر کچھ لکھنے سے قبل دوسرے فریق کا موقف اور صحیح صورت حال سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد کوئی تنقید یا کوئی تبصرہ کرنا چاہئے۔انہوں نےکہا کہ ضلع کے پروگرام میں براہِ راست اردوڈائرکٹوریٹ کا عمل دخل نہیں ہوتا۔حکومت اردو زبان وادب دونوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہے اور زبانو ں کا لہجہ ، تلفظ علاقوں کی تبدیلی کے ساتھ مختلف ہو سکتے ہیں۔تلفظ کو بنیاد بناکر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ریاست کی سبھی اردوعلاقائی بولیاں بھی حکومت کی لسانی پالیسی کے فروغ کا حصہ ہیں۔وہ اپنے علاقائی اردوزبان میں اپنی باتیں پیش کرسکتے ہیں جس میں یقینی طورپر ادبی اعتبار سے کمیاں محسوس کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریب میں ایسے افراد بھی شریک ہو تے ہیں جو اردو سے محبت رکھتے ہیں، اردو سیکھنا او ربولنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے زبان و بیان میں فصاحت و بلاغت کا مادہ یکساں ہو، ضروری نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو مثبت ذہن رکھنا چاہئے۔کسی بھی پروگرام پر قیل و قال یا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے متعلقہ پروگرام کے اعلیٰ افسران یا نمائندہ سے رابطہ کرکے حقیقت حال سے واقفیت حاصل کرلینی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اردو کی تقریبات ہمارے ادبی ورثے کی زندہ علامت ہوتی ہیں، جہاں لفظوں کا احترام، جذبوں کی ترسیل اور زبان سے محبت یکجا ہو جاتی ہے۔ غیر ضروری تنقیدی رویہ نہ صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ اردو کے فروغ کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ تنقید اگر تعمیر ی نہ ہوتو وہ محض انا کی تسکین کا سبب بن کر رہ جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تقریبات میں خامیوں سے پہلے خوبیوں کو دیکھیں، نیت کو لفظوں پر ترجیح دیں، اور اصلاح کو تضحیک کے بجائے رہنمائی کا ذریعہ بنائیں۔ڈائرکٹر موصوف نے مزید کہا کہ اردو کے فروغ کے لئے کی جا رہی کوششوں کی ستائش اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔کمیوں سے ہمیں سیکھناہے، آگے بڑھنا ہے او رکام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔سامعین کی حیثیت سےپروگرام میں شرکت بھی تو اردو کی خدمت اور اردو سے محبت ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو کے پروگرام میں سامعین کا شریک ہونابھی فروغ ارد وکا حصہ ہے۔جب لوگ آپ کے مقالے یا اشعار سنتے ہیں تو آپ میں ان کے مقالے اور اشعار سننے کا جذبہ بھی ہونا چاہئے۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک پروفیسر عبد المغنی کے صاحبزادے احمد محمود (آئی اے ایس )ایڈیشنل سکریٹری بشمول ڈائرکٹر ، سائنس ، ٹیکنا لوجی و ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، پٹنہ و سابق ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ نے اپنے والد سے جُڑی ان کی خاص یادوں کا ذکر بڑے ہی جذباتی انداز میں کیا۔ انہوں نے بتایاکہ کہ والد محترم اردو زبان و ادب کے فروغ و تشہیر کے لئے ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اردو اور ادو والوں کے درمیان گزارتھے تھے۔انہوں نے اپنے والد عبد المغنی پر یاد گاری تقریب کے انعقاد کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کا شکریہ ادا کیا اور اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارکردگی کی ستائش کی۔ انہوں نے اس خاص موقع پر مدعو کرنے کے لئےڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو اردو کی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہئے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی بچے اردو بہت کم پڑھ رہے ہیں۔زبان کو زندہ رکھنا ہے تو بچوں کو اردو پڑھنا ہوگا۔ زبان سے لگائو اور دلچسپی پیدا کرنی ہوگی۔ بچے سبھی طرح کی تعلیم حاصل کریں مگر اپنی مادری زبان اردو کی تعلیم بھی لازمی طور پر حاصل کریں۔ڈاکٹر ریحان غنی، معروف صحافی، ناقد و ادیب، پٹنہ نے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری اور ایڈیشنل سکریٹری بشمول ڈائرکٹر ادو ڈائرکٹوریٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو زبان کی آن بان اور شان جو دیکھ رہی ہے وہ شیر بہار غلام سرور اورپروفیسر عبد المغنی کی اردو تحریک کی دین ہے۔انہو ںنے اردو کے لئے بہت کچھ کیا مگر ارد و سے کچھ نہیں لیا۔پروفیسرعبد المغنی صاحب کا اپنا انداز تھا وہ کسی کے مقلد نہیں تھے۔وہ ایک بڑے ادیب ،ناقد، معلم اور صحافی تھے۔ان میںحق گوئی اور بے باکی جیسی خوبیاں تھی جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں۔ڈاکٹر ریحان غنی نےاردو ڈائرکٹوریٹ کے پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بہار پوری ریاست میں اردو فروغ او رتشہیر کے لئے کوشاںاورکاربند عمل ہے ۔ بہار کے مختلف اضلاع میں فروغ اردو کے لئے پروگرام منعقد کئے جا رہےہیں۔ ان حالات میں ہم اردو والے فروغ اردو کیلئے کام کرنے کے بجائے اپنی پوری توانائی صرف اس بات پر صرف کر رہے ہیں کہ فلاں پروگرام میںفلاں کیوں بلائے گئے فلاں کی کیا حیثیت ہے اور بار بار فلاں شخص ہی کیوں بلائے جا رہے ہیں ،جیسے کیڑے نکالنے میں لگے ہیں۔زمانہ اپنی چال چل رہا ہے اور ہم ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔ اگر ہم اردو کے لئے کام نہیں کر سکتے تو کم از کم اس طرح کی نادانی یا ناعاقبت اندیشی سے تو گریز کریں۔ اردو ایک زندہ زبان ہے، اور زندہ زبانیں محبت، برداشت اور حوصلہ افزائی سے ہی پھلتی پھولتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر عبد المغنی کو سچا خراج عقید ت یہ ہوگا ہم اپنی صف میں اتحاد پیدا کریں۔حکومت کی سطح سے جو پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں ان میں اپنا تعاون پیش کریں۔فخر الدین عارفی، معروف افسانہ نگار، ادیب وناقد، پٹنہ نے پروفیسر عبدالمغنی حیات و خدمات کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر عبد المغنی اردو زبان کے سچے محافظ تھے۔ وہ نیک دل اور نیک نیت کے حامل انسان تھے۔وہ ایک مثالی معلم کے ساتھ اردو زبان کے سچے مجاہد تھے۔ ان کے صحن دل میں چاروں طرف سےمحبت اور سماجی عقیدت بھری تھی۔ اردو زبان کی محبت کی خوشبو ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں پر غالب تھی۔ان کی بیشترگفتگو اردو زبان کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ہوتی تھی۔ پروفیسر عبد المغنی نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کیا۔ڈاکٹر عارف حسن وسطوی، معروف ناقدو ادب، حاجی پو ر نے کہا کہ پروفیسر عبدالمغنی میرے لئے آئیڈیل شخصیت رہے ہیں۔پروفیسر عبد المغنی کثیر التصانیف و کثیر المطالعہ نقاد گذرے ہیں۔ انہوں نے مختلف النوع عناوین اور شخصیتوں پر اپنے عالمانہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔وہ اعلی درجے کے نثر نگار، اردو ،عربی، فارسی اور انگریزی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔پروفیسر عبد المغنی بنیادی طور پر ناقد تھے۔ان کی تحریروں کا حسن ان کا زور بیان ہے۔ پروفیسر عبد المغنی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ان کے افکار ونظریات حرف ِآخر کا درجہ رکھتے ہیں۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک پروفیسر عبد المغنی کے صاحبزادے احمد محمود ایڈیشنل سکریٹری بشمول ڈائرکٹر ، سائنس ، ٹیکنا لوجی و ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، پٹنہ و سابق ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ ،پٹنہ کو شال اور گلدستہ پیش کرکے عزت افزائی کی گئی۔طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت عالیہ ندیم ، پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ نے عبد المغنی کے تنقیدی تصورات اور مریم فاطمہ ،پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ نے بہار میں اردو کی تحریک کے رہنما پروفیسر عبد المغنی کے موضوع پراپنا مختصر مگر جامع مقالہ پیش کیا۔دوسرے اجلاس میں مشہور و معروف شاعر شمیم قاسمی ، پٹنہ کی صدارت اور معروف شاعر اثر فریدی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔،بے نام گیلانی ،مرغوب اثر فاطمی ،افتخار عاکف ، شمیم شعلہ ، پریم کِرن ، گلفام صدیقی ،میم اشرف اور روبی بھوشن اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نےفکر انگیز،خوبصورت غزل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر توقیر عالم ،خورشید اکبر، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، ڈاکٹر انوار الہدیٰ، ڈاکٹر اے کے علوی، انوار الحسن وسطوی ،ظفر صدیقی،صابر سہرساوی،محمد عظیم الدین، اشفاق عادل ، اسرائیل راعین ، نصر نستوی،عرفان بیلہاروی، نیاز نذر فاطمی،اسماعیل حسنین نقوی،ابو نصر،میر سجاد، شمیم الدین، ماسٹر محمد اسید پرسونوی، میکائیل قاسمی وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•1 ویوز
پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ
بہار

پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•1 ویوز
بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•2 ویوز