زمین کے حصول میں شفافیت کو یقینی بنانا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح: وجے کمار سنہا
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 13 جنوری (یواین آئی) بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اورمحصولات واصلاحات اراضی کے وزیر وجے کمار سنہا نے منگل کوکہا کہ زمین کے حصول کے عمل میں شفافیت، حساسیت اور سماجی انصاف کو یقینی بنانا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مسٹر سنہا نے آج جاری ایک بیان میں کہا کہ مگدھ ڈویژن میں سماجی اثرات کے جائزے کی ذمہ داری بی آئی پی اے آر ڈی، گیا کو سونپے جانے سے متاثرہ خاندانوں اور مقامی برادریوں کی سماجی و اقتصادی صورتحال کا زیادہ سائنسی اور غیر جانب دارانہ جائزہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زمین کے حصول، بازآبادکاری اور بحالی نو سے متعلق فیصلے مزید منصفانہ، بروقت اور عوامی مفاد پر مبنی ہوں گے۔ محصولات واصلاحات اراضی محکمہ نے زمین کے حصول، بازآبادکاری اور بحالی نو میں منصفانہ معاوضہ اور شفافیت کے حق سے متعلق قانون 2013 کے تحت ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ اس کے تحت مگدھ ڈویژن کے تحت آنے والے اضلاع میں کسی بھی منصوبے کے لیے زمین کے حصول سے متعلق معاملات میں سماجی اثرات کے جائزے کا کام اب بہار انتظامی اصلاحاتی تربیتی ادارہ (بی آئی پی اے آر ڈی)، گیا کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جسے ریاستی گورنر کی منظوری حاصل ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ انتظام قانون کی دفعہ-4 کی دفعات کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ زمین کے حصول کے عمل میں متاثرہ خاندانوں اور مقامی برادریوں پر پڑنے والے سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات کا مناسب جائزہ یقینی بنایا جا سکے۔ محصولات و اصلاحات اراضی محکمہ کے پرنسپل سکریٹری سی۔ کے۔ انیل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ایل۔ این۔ مشرا اقتصادی مطالعہ و سماجی تبدیلی ادارہ، اے۔ این۔ سنہا سماج مطالعہ ادارہ، چندرگپت انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، آدری اور ترقیاتی مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کو سماجی اثرات کے جائزہ یونٹ کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اب عوامی مفاد میں مگدھ ڈویژن کے لیے بی آئی پی اے آر ڈی، گیا کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جولائی 2025 میں ایڈیشنل چیف سکریٹری، محصولات واصلاحات اراضی محکمہ کی صدارت میں تمام نوٹیفائیڈ ایس آئی اے یونٹس کے ساتھ ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں سماجی اثرات کے جائزے کے کام کو معیاری طریقہ کار کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کرنے، زمین کے رقبے کی بنیاد پر ایس آئی اے فیس کے تعین، ضلع وار ایجنسی الاٹمنٹ اور ایس آئی اے رپورٹ کی وقت حد مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ لیا گیا تھا کہ ضلع مجسٹریٹ براہ راست الاٹ کی گئی ایس آئی اے ایجنسی کو ورک آرڈر جاری کریں گے، تاکہ زمین کے حصول کے عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ بی آئی پی اے آر ڈی، گیا کو شامل کیے جانے کے ساتھ ہی سابقہ طور پر طے شدہ ایس آئی اے ایجنسی انتخاب روسٹر کو ضروری حد تک ترمیم شدہ تصور کیا جائے گا اور یہ حکم جاری ہونے کی تاریخ سے نافذ العمل ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے سے زمین کے حصول کے عمل میں شفافیت بڑھے گی، متاثرہ خاندانوں کے مسائل اور توقعات کا بہتر انداز میں جائزہ ممکن ہو سکے گا اور بازآبادکاری و بحالی نو سے متعلق فیصلے مزید حساس، منصفانہ اور عملی بن سکیں گے۔