کھاد کی کالابازاری، ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین کارروائی ہوگی: رام کرپال یادو
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 27 دسمبر (اے بی این) بہار کے وزیر زراعت رام کرپال یادو نے سنیچر کو کہا کہ کھاد کی کالا بازاری، ذخیرہ اندوزی اور مقررہ قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین کارروائی کی جا رہی ہے۔مسٹر یادو نے آج کہا کہ کسان کی محنت، اس کے پسینے اور اس کی فصل کے ساتھ کسی بھی طرح کا سمجھوتہ ریاستی حکومت ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ربیع 2025-26 کے دوران کسانوں کو وقت پر، وافر مقدار میں اور مقررہ قیمت پر کھاد کی فراہمی ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت کھاد کی کالا بازاری، ذخیرہ اندوزی اور زیادہ قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیر زراعت رام کرپال یادو نے کہا کہ اگر کسان کھیت میں بے فکر رہے گا تو ہی ریاست کی زراعت مضبوط ہوگی۔ اسی سوچ کے ساتھ کھاد کی دستیابی، ذخیرہ اور تقسیم کے نظام پر چوبیسوں گھنٹے نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح سے لے کر ضلع اور بلاک سطح تک انتظامی نظام کو پوری طرح فعال کر دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی سطح پر لاپرواہی یا بے قاعدگی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ 27 دسمبر 2025 (سنیچر) کو 'زیرو آفس ڈے' کے تحت محکمہ زراعت کے تمام افسران اپنے اپنے دائرہ کار میں جا کر کھاد کے مراکز کی گہری جانچ، زمینی تصدیق اور تقسیم کے نظام کا موقع پر معائنہ کریں گے۔ پیغام بالکل واضح ہے کہ اب کام فائلوں میں نہیں بلکہ کھیتوں میں ہوگا۔ یہ نظام ہر ہفتے نافذ رہے گا۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ہیڈ کوارٹر سطح پر تشکیل دی گئی فلائنگ اسکواڈ ٹیمیں مسلسل اضلاع میں اچانک معائنہ کر رہی ہیں۔ شکایت ملتے ہی فوری چھاپہ ماری اور سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ جو کوئی بھی کسان کو لوٹنے کی کوشش کرے گا، وہ قانون سے نہیں بچ پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں بہار حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں پوری طرح پرعزم ہے۔ خود کفیل زراعت، شفاف نظام اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے عزم کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے کھاد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیرزراعت نے کہا کہ ریاست کے کسی بھی ضلع میں کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ضرورت کے مطابق کھاد کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ کسانوں کو قطار، افواہوں یا کالا بازاری کا شکار نہ ہونا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف حکومت نے سخت کارروائی کی ہے۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ہدایت دی کہ جہاں اب تک ضلع اور بلاک سطح کی کھاد نگرانی کمیٹیوں کی میٹنگیں نہیں ہوئی ہیں، وہاں فوری طور پر اجلاس منعقد کیے جائیں۔ بلاک وار کھاد کا ذیلی الاٹمنٹ کسانوں کی حقیقی ضرورت اور زیر کاشت رقبے کی بنیاد پر کیا جائے۔پوس مشین میں درج اسٹاک اور زمینی اسٹاک کا باقاعدہ موازنہ یقینی بنایا جائے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد سے متصل اضلاع میں کھاد کی اسمگلنگ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے اضلاع میں خصوصی چھاپہ ماری ٹیمیں تشکیل دے کر ایس ایس بی کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان کا حق چھیننے والا چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے ہرگز نہیں بخشا جائے گا۔ حکومت پوری طاقت کے ساتھ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔