اردولرننگ پروگرام سے مجھے تحریک ملی، میں بھی اردو سیکھوں گا :اروند کمار چودھری
Awaz E Bihar••0 ویوز•10 منٹ پڑھیں
پٹنہ اے بی این) محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ، بہار، پٹنہ کے زیر انتظام چل رہے اردو لرننگ کورس کے 9ویں بیچ میں72اردو لرنرس کو 8 جنوری 2025ءبروزجمعرات اردو لرننگ کورس کی سند اور میمنٹو دیا گیا۔اردو لرننگ تقسیم اسناد تقریب آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، نزد آکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت اروند کمار چودھری،ایڈیشنل چیف سکریٹری،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ،بہار،پٹنہ نے کی۔تقریب میں مہمان خصوصی پروفیسر اعجاز علی ارشد ، سابق شَیخ الجَامعہ، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ اور مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر بی راجندر ، ایڈیشنل چیف سکریٹری، محکمہ عمومی انتظامیہ،مظفر ابدالی ، چیف پوسٹ ماسٹر جنرل،بہار،اروِند کمار ورما صاحب، اسپیشل سکریٹری، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار، پٹنہ شریک تھے۔تقریب کاآغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اروند کمار چودھری،ایڈیشنل چیف سکریٹری،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ،بہار،پٹنہ نے کہا کہ سب سے پہلے میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کا مشکور ہوںجنہوں اتنے خوبصورت اور دلکش پروگرام میںشامل ہونے کیلئے پرخلوص دعوت دی اورتقریب میں شرکت کے لئے اصرار کیا۔اردو اور اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارکردگیوں کو دیکھ کر مجھے اچھا محسوس ہو رہا ہے۔میرا بھی واسطہ کبھی اردو سے تھا۔ میرے ایک دوست جن سے میں نے اردو سیکھی تھی۔ الف ب پ وغیرہ کی جانکاری مجھے ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے اردو لرننگ پروگرام سے میں کافی متاثر ہوا ہوں ، مجھے تحریک ملی ہے کہ میں بھی آن لائن اردو لرننگ کورس کے توسط سے اردو سیکھوں۔ چودھری نےمزید کہا کہ میںغزلیں سننے کا کاشوقین ہوں۔غزلوں کے معنی اور مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کےلئے اردو زبان سیکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ حکومت بہار اس زبان کے فروغ اور تشہیر کے لئے اور نئی نسل تک اردو کو پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔اردو کے فروغ کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت مختلف طرح کی تقریبات کا انعقاد ہوتاہے۔ 22 مرحومین ادبا و شعرا کی یاد گاری تقریب منائی جاتی ہے۔اردوے مسودے کی اشاعت کیلئے مالی اعانت دیا جاتا ہے۔ابھی حال ہی میں حکومت نے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت کل 856 معاون اردو مترجمین کی بحالی کی ہے۔ حکومت پہلے سے توضیع شدہ عہدوں کو دوگنا کرتےہوئے اردو کے مزید1951 عہدوں پر تقرری کیلئے کاروائی کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع سطح پر کئی اہم منصوبےچلائے جا رہے ہیں۔ اردو داں طلبا حوصلہ افزائی مسابقہ پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے۔38 ضلع سے ضلع اردو نامہ کی اشاعت ہوتی ہے۔ فروغ اردو سمینار و مشاعرے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اردو لرنرس نے اردو لرننگ کورس کو ایک ا نکریمنٹ سے جوڑنے کی درخواست کی ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس پر عملی شکل دینے کی کوشش کروں گا۔اردو بیچ کے 9ویں بیچ میں اردو لرننگ پروگرام کے تحت اردو سیکھنے والےمہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک ڈاکٹر بی راجندر ، ایڈیشنل چیف سکریٹری، محکمہ عمومی انتظامیہ،پٹنہ نےا پنے خَیالات کا اِظہارکرتے ہوئے کہاکہ میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم، اردو کورس کے انسٹرکٹر محمد حامد، فردوس نظام میڈم اور ہاشم صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی محنت سے میں 70 دنوں میں اردو سیکھ سکا۔یقیناًاردو ایک خوبصورت ،میٹھی اور شیریں زبان ہے۔اس زبان کے ذریعہ ہم اپنے خَیالات ،اِحساسات، تَجربات اور جَذبات بہتر انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔اس کورس میںاردو سیکھنے والوں نے اردو پڑھنے لکھنے اور دُرُست تَلفُّظ کے ساتھ بولنے کی مَشق کی جو یقینا مُستقبِل میں ہم سب کے کام آئے گی۔اردو زبان ہماری تہذیبی پہچان، فکری رِوایت اور گنگا جمنی تہذیب کی عَلم بَردَار ہے۔ اب ہم اردو زبان میں کتاب پڑھ سکتے ہیں اور اپنی بات لکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ رِیاستِ بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس لئے ایک آفیسر کی حیثیت سے اردو سیکھنے سے اِنتظامی،قانونی اور عَوامی سَطح پر کئی فائدے ہیں۔اردو جاننے سے ایک آفیسر اردو میں آنے ولی درخواستوں اور عوامی شکایت کو براہِ راست پڑھ کر سمجھ سکتا ہے جس سے کام میں تیزی اور شَفّافِیت آسکتی ہے۔بہار کی ایک بڑی آبادی اردو زبان بولتی ہے۔ ایسے میں اردو جاننے والا ایک آفیسر اردو آبادی سے بہتر رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ اُن کے مسائل کو قریب سے سمجھ سکتا ہے اور اُن کا اِعتماد حاصل کر سکتا ہے۔اس سے قبل اردو لرننگ تقسیم اسناد تقریب میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے تمام مہمانوں،سبھی اردو لرنرس اور میڈیا کے نمائندگان کا تہہ دل سے استقبال کیا اور تمام تر مصروفیات کے باوجود اس پروگرام میں شریک ہونے کے لئے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈائرکٹر موصوف نےاپنے استقبالیہ خطاب میں کہاکہ اردو زبان دنیا کی تمام اہم زبانو ں میں سے ایک ہے ۔اس کی پیدائش اسی ملک ہندوستان میں ہوئی ۔یہیں پلی ،بڑھی اور پروان چڑھی۔ مختلف طبقات اور مقامات کے لوگوں کے باہمی میل جول سے پیدا ہونے والے سماجی تقاضوں اور معاشرتی ضرورتوں کے تحت یہ زبان وجود میں آئی۔مختلف مذاہب اور رسم و رواج کے ماننے اور اپنانے والے لوگ اردو زبان کے ذریعہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کا جنگِ آزادی میںاہم کردار رہا۔ جنگِ آزادی کی جدو جہد میں اگر اردو زبان کی بات کی جائے تو اردو زبان نے نہایت مؤثر اور تاریخی کردار ادا کیا۔ اردو صرف اظہار خیال کی زبان نہیں تھی بلکہ یہ قوم کو بیدار کرنے،انگریزی حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے اورآزادی کی تحریک کو مُنظم کرنے کا طاقتور ذریعہ بنی۔ اخبارات و رسائل کے ذریعہ اردو نے عوام میں شعور پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد اور قومی یک جہتی کو فروغ میں بھی اردو نے اہم کردار ادا کیا۔ ایک مشترکہ تہذیب کی علامت کے طور پر اردو نے مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو آزادی کے مقصد پر متحد کر رکھا تھا۔ مختصر یہ کہ اردو زبان جنگِ آزادی میں ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک سرگرم زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے قلم ،زبان اور فکر کے ذریعہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو کا دامن رامائن، مہابھارت،گیتا، بائبل، بودھ ساہتیہ، قرآن، گرو گرنتھ صاحب اور دوسری مقدس کتابوںکے ترجموں سے مالا مال ہے۔ اپنی بے شمار خصوصیات کی وجہ سے ہندی کی طرح اردو بھی اپنے ملک میں لگاتار ترقی کر تی رہی اور آج بھی کر رہی ہے۔ سبھی مذاہب کے ماننے والے ادیب و شاعر اردو کی ترقی میںاہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بہار کی کوشش ہے کہ ہندی کے ساتھ ساتھ اردو بھی ریاست کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے دفتری اور تعلیمی سطح پر خوب پھلے اور پھولے۔اس کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ کئی طرح کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ انہیں پروگراموں میں اردو لرننگ کورس بھی شامل ہے۔اس پروگرام کی شروعات بہار قانون ساز کونسل کی راج بھاشا کمیٹی کی سفارش اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی منظوری کے بعد ہوئی تھی۔یومیہ دو گھنٹے کے حساب سے کل 70 دنوں کے ماڈیول کے مطابق تیار” اردو آموزی کورس“ کے ذریعہ اب تک مرکزی اور ریاستی حکومت کے متعدداعلیٰ افسران و ملازمین کے ساتھ ساتھ شعر و ادب ، صحافت، وکالت ، تعلیم اور سماجی خدمات سے وابستہ سینکڑوں غیر اردو داں شخصیتوں نے اردو پڑھنا، لکھنا اور صحیح تلفظ کے ساتھ بولنا سیکھا ہے۔ ایسی شخصیتوں میں انڈین ایڈ منسٹریٹو سروس کے سنیئر افسران جیسے محترمہ وندنا کنی صاحبہ ،جناب دیپک آنندصاحب، محترمہ رچنا پاٹِل صاحبہ، جناب گوپال مینا صاحب،آئی پی ایس جناب کےکےشرما صاحب، ڈی ایس پی ڈاکٹر راکیش کمار اور سبکدوش وائس چانسلر،اِگنو، جناب روِندر کمار اور خاص طور پر میں نام لینا چاہوں گا ڈاکٹر بی راجندر صاحب کاجو اِس بیچ میں شامل رہے ہیں اورآپ کے علاوہ بہت سی شخصیات ہیں جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ سے اردو سیکھی ہے جس کی فہرست کافی طویل ہے۔ان میں افسران بھی ہیں، ماہرین تعلیم بھی ہیں، ملازمین بھی ہیں، اساتذہ بھی ہیں اور طلبا وطالبات بھی ہیں۔ میں آج ان تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں اورامید کرتا ہوں کہ وہ آگے بھی اردو زبان سے جڑے رہیں گے۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد، شیخ الجامعہ مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی پٹنہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ پوری دنیا میں لوگ مختلف زبانوں کے بولنے والے ہیں۔ اور ہر کوئی اپنی مادری زبان ہی بولتے ہیں۔مگر بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مختلف زبانوں کا سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور اسی جذبے کی تکمیل کے لئے آپ نے یہ اضافی زبان سیکھی ہے۔ اس سے آپ کو کئی فائدے ہیں۔یہ زبان آپ کی تعلیمی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور مختلف کاموں میں مدد گار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دیگر زبانوں کے مقابلے اردو زبان میں وسعت ہے۔ ہر طرح کے رشتے کے لئے الگ الگ الفاظ ہیں جب کہ انگریزی میں صرف ایک لفظ میں ہی ان رشتوں کو سمیٹ لیا جاتا ہے جس سے رشتے کی تمیز نہیں ہو پاتی۔جیسے انکل، انٹی، گرانڈ فادر، گرانڈ مادر وغیرہ سے رشتے کی شناخت واضح نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی تہذیب کو سمجھانے اور دوسروںکی تہذیب کو سمجھنے کیلئے ایک دوسرے کی زبان جاننا ضروری ہے۔ مظفر ابدالی، چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ،بہار نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہب کی کوئی مخصوص زبان نہیں ہوتی۔ اردو یا ہندی کو خاص مذہب سے جوڑنا غیر مناسب ہے۔جو جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی زبان بولتا ہے۔ خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں۔ ہرکسی شخص کی مادری زبان فطری طور پر الگ ہو سکتی ہے۔لیکن ایسے میں اپنے دل میں یہ خیال کرنا کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان بھی سیکھوں ، بڑی بات ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے اردو زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا اور بلا تفریق مذہب و ملت اردو زبان کوصرف زبان سمجھ کر سیکھی ۔ اروِند کمار ورما صاحب، اسپیشل سکریٹری، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار، پٹنہ نے کہا کہ اردوزبان ایک خوبصورت زبان ہے۔محبت اورتہذیب کی زبان ہے۔ اس کا تلفظ بہت پیارا ہوتا ہے۔ جدید دور میں جہاں مختلف زبانوں پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں ایسے میں اردو زبان کا تحفظ بڑا کام ہے۔اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے اردو لرننگ کورس سے جُڑ کر ہر عمر اور ہر شعبے کے لوگ اردوزبان سیکھ رہے ہیں۔ انہوںنےاردو زبان سےاپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس آن لائن اردو کورس سے استفادہ کروں گا۔ انہو ںنے کہا کہ مجھےاپنی سروس کے ایک کورس کیلئے ایک اضافی زبان کا انتخاب کرنا لازمی تھا تو میں نے اردو زبان کو ہی منتخب کیاتھا۔اب میں پھر سے اردو لرننگ کورس سے جُر کر اپنی دیرینہ خواہش کو پوری کروں گا۔اس موقعے پر اردولرنرس میں بھولا ناتھ، کوشل کمار مدھوکر، نیبھا کماری، کھگڑیا ، ارچنا ترپاٹھی، کرشن موہن پرساد،ڈاکٹر اشونی شرما ،ڈاکٹر ترنم بانو، دلیپ کمار سکسینہ، نسرین بانو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کئے ۔ واضح ہو کہ 70دنوں کے کلاس میں اردو پڑھنے ،لکھنے اور صحیح تلفظ کے ساتھ بولنے کے اردو لرننگ کورس کو مکمل کرنے کے بعد سبھی اردوسیکھنے والوں کا امتحان لیا گیا تھا اور امتحان میں کامیاب ہونے والے سبھی لرنرس کو اردو لرننگ کورس کی سند اورساتھ میں میمینٹو دیا گیا۔ تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔ جوائنٹ سکریٹری ششی بھوشن شرما، اردو ڈائرکٹوریٹ ، پٹنہ کے تشکراتی کلمات پر تقریب اختتام پذیر ہوا۔