پٹنہ، یکم مارچ (اے بی این) رنگوں کے تہوار ہولی کے پیش نظر بہار کی راجدھانی پٹنہ کے بازاروں میں خوب رونق دیکھنے کو مل رہی ہے۔چار مارچ کو ہولی کا تہوار منایا جائے گا۔ رنگوں کے اس تہوار کی اپنی ایک الگ اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے لوگ اس تہوار کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اور روایتی ہولی کے گیت گا کر ایک دوسرے کے ساتھ رنگ اور گلال کھیلتے ہیں۔ رنگوں کے تہوار ہولی کے پیش نظر پٹنہ کے بازار رنگ، گلال، پچکاریاں اورمکھوٹوں سے سج چکے ہیں۔ صبح سے ہی بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ دیدنی ہے۔ نوجوانوں اور طلبہ میں خاصا جوش نظر آ رہا ہے اور لوگ دل کھول کر خریداری میں مصروف ہیں۔ رنگ و گلال، پچکاریاں، کپڑے، گروسری کے سامان اور خشک میوہ جات کی خریداری میں تیزی ہے۔ ہولیکا دہن کی پوجا کے لیے پوجا کا سامان بھی لوگ خرید رہے ہیں۔ بازاروں میں رنگ برنگے ابیر اور گلال کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ خریداروں کی بڑھتی تعداد سے بازاروں میں چہل پہل مزید بڑھ گئی ہے۔ دکانداروں کے چہرے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ہولی کے تہوار کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔ ہولی کے دوران استعمال ہونے والے دیگر سامان سے بھی بازار بھرے پڑے ہیں۔ اس بار بچوں کے لیے خاص پچکاریاں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ پچکاری کے بازار میں چین کے ساتھ ساتھ دیسی مصنوعات بھی سجی ہوئی ہیں۔ گاہکوں کی بھیڑ سے بازاروں میں بڑھتی رونق دیکھ کر تاجر پرجوش ہیں۔ بچوں سے لے کر نوجوانوں تک ہر کوئی اپنی پسند کی پچکاری خرید رہا ہے۔ چین میں تیار کردہ پچکاریوں سے بازار پٹا ہوا ہے۔ ہر طرح اور ہر سائز کی پچکاریاں بازار میں دستیاب ہیں۔ اراروٹ اور ہربل خوشبودار گلال اور ابیر کی کئی اقسام فروخت کے لیے موجود ہیں۔ اسپائیڈر مین، ڈورے مون، چھوٹا بھیم، ویر ہنومان اور آئرن مین جیسے کارٹون کرداروں والی پچکاریاں بچوں میں خاصی مقبول ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس بار بازار میں گلال فائر گن بھی آئی ہے، جسے فائر کرنے پر بندوق سے گلال نکلتا ہے۔ اس کی قیمت 200 روپے سے لے کر 600 روپے تک ہے۔ اراروٹ اور ہربل خوشبودار گلال اور ابیر کی کئی اقسام بازار میں فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔ پچکاریاں 15 روپے سے لے کر 1500 روپے تک دستیاب ہیں۔ واٹر ٹینک پچکاریاں 100 سے 800 روپے تک، فینسی پچکاریوں کے درجن کی قیمت 250 سے 1000 روپے ہے۔ ایئر گن 150 سے 500 روپے، سلنڈر پچکاری 650 سے 1500 روپے اور بیٹری سے چلنے والی پچکاری 450 سے 750 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ پٹنہ کے لوگ اب صحت کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہولی کے موقع پر کیمیکل والے رنگوں اور گلال کے بجائے قدرتی اور ہربل رنگ و گلال خریدنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ خریداروں کی پہلی پسند ہربل اور خوشبودار گلال بن چکا ہے۔ بھاری مانگ کو دیکھتے ہوئے بازار میں مختلف کمپنیوں کے ہربل رنگ اور گلال دستیاب ہیں۔ صحت کے تئیں محتاط پٹنہ کے شہری بڑی تعداد میں ہربل گلال اور رنگ کی خریداری کر رہے ہیں۔ بازار میں ملنگا، کیکٹرینا، سادھو سنت، ہیروئن اسٹائل کے بال، مرغے کے بال، لڑکیوں کے بال، پنجابی داڑھی، جٹا اور جوکر اسٹائل کے مصنوعی بال دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی ٹوپی، ربڑ ٹوپی، ملٹی ٹوپی، نواب ٹوپی اور کپڑے کی ٹوپی سمیت کئی اقسام کی ٹوپیاں بھی بازار میں موجود ہیں۔ اس بار مختلف مقامات پر ہولی ملن تقاریب کا انعقاد ہو رہا ہے، جن کے لیے لوگ ابیر اور گلال کی خوب خریداری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ہولی کے پیش نظر پٹنہ میں کپڑوں کا بازار بھی پوری طرح سے سج گیا ہے۔ خاص طور پر کپڑوں کی دکانوں، مالز اور شورومز میں دیر رات تک لوگ اپنے بجٹ اور پسند کے مطابق خریداری کر رہے ہیں۔ ہولی کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے کپڑے بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ ہولی کے روایتی لباس کے طور پر سفید کپڑوں کی خاص مانگ ہے، جبکہ رنگ برنگے ملبوسات بھی لوگوں کو خوب بھا رہے ہیں۔ تاجروں نے ہولی کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کی پسند کے مطابق کرتا پاجامہ اور دیگر ملبوسات کا مناسب اسٹاک رکھا ہے۔ خاص طور پر مودی بنڈی نوجوانوں کی پہلی پسند بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 'ہیپی ہولی' لکھے ہوئے ٹی شرٹس کی بھی خوب خریداری ہو رہی ہے۔ ہولی کے موقع پر کرتا پاجامہ کی خریداری میں خاصی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پٹنہ کے کھیتان مارکیٹ، پٹنہ مارکیٹ، اشوک راج پتھ، موریہ لوک احاطہ، بورنگ روڈ، کنکڑ باغ، قدم کنواں، ہتھوا مارکیٹ، اسٹیشن سمیت کئی علاقوں میں کپڑوں کی خرید و فروخت زوروں پر ہے۔ بازار میں صرف ریڈی میڈ ہی نہیں بلکہ خواتین کپڑے خرید کر سلوانے میں بھی آگے ہیں۔ نئے کپڑوں کا شوق خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھ مردوں میں بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ ٹراؤزر اور فارمل شرٹس کے علاوہ فینسی کرتے اور شیروانی کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوان طبقہ اسکن ٹائٹ جینز کو زیادہ پسند کر رہا ہے۔ جوں جوں ہولی کا تہوار قریب آ رہا ہے، مٹھائی کی دکانوں پر پکوان بھی سجنے لگے ہیں۔ عام گجھیوں کے ساتھ ساتھ کیسر والی گجھیوں نے بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ پانچ سو روپے سے لے کر دو ہزار روپے تک کے گفٹ پیک بھی بازار میں دستیاب ہو چکے ہیں۔ تاجروں نے اپنی دکانوں کو دلکش انداز میں سجایا ہے۔ ہولی پر عام طور پر گجھیوں اور نمکین پکوانوں کا رواج ہوتا ہے، تاہم اس میں نیا پن بھی آیا ہے اور بازار میں نمکین اور بسکٹ کے دلکش پیک بھی فروخت کے لیے موجود ہیں۔ تہوار کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے لوگ اپنی پسند کا سامان خریدنے کیلئے بازاروں کا رخ کر رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہولی کے قریب آتے ہی فروخت میں نمایاں اضافہ ہونے لگا ہے، خاص طور پر روایتی پکوانوں کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔