ریاست میں بڑے پیمانے پر سڑکیںو پل پلیا تعمیر کیے جارہے ہیں
Awaz E Bihar••1 ویوز•15 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 17 جنوری(اے بی این ): وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج مشرقی چمپارن ضلع کے موتیہار واقع گاندھی میدان میں سمریدھی یاترا کے تحت منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوئے ، جن سمواد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ بہار میں 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی موجود ہے اور ہم مستقل طور پر ترقی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ 2005 سے پہلے بہار کی کیا حالت تھی ۔ بہت برا حال تھا شام کے بعد لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماجی میں بہت تنازعہ تھا، ہر روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ ہوتا ت ھا۔ تعلیم کا نظام بہت خراب حالت میں تھا۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔ علاج کا مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں ان کا برا حال تھا۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ ہم لوگ شروع سے ہی بہار کے ترقیاتی کاموں میں لگے ہیں۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ پوری ریاست میں محبت، بھائی چارے اور امن کا ماحول ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سال 2006 میں، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔ اب کوئی جھگڑا یا پریشانی نہیں ہے۔سال 2016 کے بعد سے، 60 سال سے زیادہ قدیم ہندو مندروں کوکی گھیرا بندی کی گئی جس کے سبب چوری کے واقعات وغیرہ نہ ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سب سے پہلے، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ہم لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے اسکول کھولے اورکنٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا۔سر کاری اسکول میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے پوشاک اور سائیکل اسکیم چلائی گئی ۔ سال 2023 سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2 لاکھ 58 ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی ہے۔ سال 2006 سے، 3 لاکھ 68 ہزارکانٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا گیا، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 28 ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن گئے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ کانٹریکٹ کے اساتذہ کو بی پی ایس سی امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں معمولی امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے۔ اس کے لئے انہیں 5 مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 4 امتحانات کئے گئے ہیں، جس میں 2 لاکھ 66 ہزار کانٹریکٹ اساتذہ پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73 ہزار باقی ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ اب سرکاری اساتذہ کی کل تعداد 5 لاکھ 24 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ صحت کی خدمات میں بہت بہتری آئی ہے۔پہلے صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ مراکز میں علاج کے لئے آتے تھے یعنی یومیہ 1 یا 2 مریض آتے تھے۔ 2006 کے بعد سے، اسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کے لئے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ اب اوسطا 11 ہزار 600 مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ سنٹر میں آتے ہیں۔ اس سے قبل بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب بڑھ کر 12 ہوگئی ہے اور باقی 27 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج تعمیر کیے جارہے ہیں، جو جلد ہی مکمل ہوجائیں گے۔ پٹنہ میڈیکل کالج اور اسپتال میں 5 ہزار 400 بیڈ والے اور دیگر 5 قدیم میڈیکل کالج کو ڈھائی ہزار بیڈ کا کیا جارہا ہے ساتھ ہی آئی جی آئی ایم ایس کو 3ہزار بیڈکا بنا یا جار ہا ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر سڑکیں اور پل پلیا تعمیر کیے گئے ہیں۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے6گھنٹے میں پٹنہ تک پہنچنے کا ہدف سال 2016 میں پورا کر لیا گیا۔ اب ریاست میں بڑی تعداد میں سڑکوں اور پل پلیوں، ریل اوور برج، بائی پاس اور ایلیویٹیڈ سڑکیں تعمیر کی گئیں ہیں، جس سے تقریبا 5 گھنٹوں میں سب سے دو والے علاقوں سے پٹنہ تک پہنچنا ممکن ہوگیا ہے۔ سال 2008 سے،ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کام کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے زراعت کے میدان میں بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ سال 2008 سے 2012 تک پہلا، دوسرا 2012 سے 2017 تک دوسرا، 2017 سے 2023 تک تیسرے ایگریکلچر روڈ میپ کے تحت منصوبہ چلا یا گیا جس کے سبب اناج، پھل، سبزیاں، دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس سے بہار مچھلی کی پیداوار میں خود کفیل بن گیا ہے۔ نیز کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت، چوتھے زرعی روڈ میپ (سال 2024 سے 2029) کے تحت اسکیموں پر تیز رفتار سے کام ہورہا ہے۔ سال 2015 میں، سات نشچے کے تحت، (1) معاشی حل - نوجوانوںبل (2) محفوظ روزگار خواتین کا اختیار (3) ہر گھر میں بجلی، (4) ہر گھر نل کا جل، (5) ہر گھر میں اجابت خانہ (6) ٹولوں کوپکی سڑکوں سے جوڑنا اور (7) مواقع بڑھیں ،آگے پڑھیں ،پر کام کیا گیا ہے۔ سال 20218 میں ہ ی ہر گھر بجلی پہنچادی گئی ہے حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی بہت کم شرح پر بجلی دی گئی ہے ۔ اب تقریبا تمام گھریلو صارقین کو بجلی مفت دی جارہی ہے ۔ حکومت کی طرف سے ہر خواہشمند لوگوں کے گھروں پر سولر لگائے جائیں گے ۔ سال2020 کے بعد سے، سات نشچے-2 کے تحت، (1) نوجوانوں کی طاقت - بہار کی ترقی، (2) بااختیار خواتین - قابل خواتین، (3) ہر کھیت تک آبپاشی کا پانی، (4) صاف گاؤں - خوشحال گاؤں (سولر اسٹریٹ لائٹس)، (5) صاف شہر ترقی یافتہ شہر، (6) آسان رابطہ، (7) سب کے لیے طبی سہولت (ٹیلی میڈیسن اور چائلڈ ہارٹ اسکیم)تمام پر بہت کام ہوا ہے۔ سات نشچے-2 کے تحت کوئی بھی باقی ہیںانہیں جلد مکمل کیا جائے گا۔ سات نشچے 2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور 40 لاکھ کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ مجموعی طور پر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ حکومت نے اپنے آغاز سے ہی سماجی کے تمام طبقات کی ترقی کی حمایت کی ہے۔ ہندو، مسلم، اونچی ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت یا مہادلیت سبھی کے لیے کام کیا گیا ہے۔ ہم نے مسلم کمیونٹی کے لیے بھی کافی کام کیا ہے۔ مدارس کو سرکاری منظوری دی گئی ہے، اور ان کے اساتذہ کو دیگر سرکاری اساتذہ کے برابر تنخواہ دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام بزرگوں، معذوروں اور بیوہ خواتین کے لیے پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی ہے جس سے 1کروڑ 14 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ 2023 میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی گئی جس میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی گئیں۔ اس میں 94 لاکھ غریب خاندانوں کا انکشاف ہوا، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت، مہادلیت، اور مسلم کمیونٹیز شامل ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے 2 لاکھ روپے کی روزگار امداد شروع کی گئی تھی اور یہ امداد پانچ برسوں میں تمام لوگوں کو دینی تھی۔ اب ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ ان تمام 94 لاکھ غریب خاندانوں کو ترجیح کی بنیاد پر روزگار منصوبوں سے جوڑکر رقم دی جائے گی۔ضرورت ہو گی تو تو 2 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم بھی فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2006 میں پنچایتی راج اداروں میں اور سال 2007 بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا تھا۔ اب تک چار انتخابات ہو چکے ہیں۔ 2013 سے ہم نے پولیس میں 35 فیصد ریزرویشن نافذ کیا ہے۔ اب بہار پولیس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔سال 2016 سے خواتین کو تمام سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا جارہا ہے۔ پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بہت کم تھی۔ 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا نام جیویکا رکھا گیا۔ اب، سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد تقریباً 11 لاکھ ہو گئی ہے، جیویکا دیدیوں کی تعداد 1کروڑ 40لاکھ ہو گئی ہے۔ سال 2024 سے، شہری علاقوں میں سیلف ہیلپ گروپس بنائے جا رہے ہیں، جن کی تعدادابتک 41ہزار ہو گئی ہے، جن میں4لاکھ 34ہزار جیویکا دیدیا ہیں اس کی تشکیل مسلسل جاری ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں پرگتی یاترا کے دوران، ہم نے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے تمام اضلاع کا دورہ کیا، اور اور جو کمی رہ گئی تھی اس کو دور کرنے کے لیے 430 نئی اسکیموں کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں ان سکیموں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ تمام منصوبے جلد مکمل ہو جائیں گے۔ بہار کو اپنی ترقی میں مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں سڑک ، صنعت ، ہیلتھ ، سیاحت ، سیلاب پر قابو پانے کے لیے کثیر رقم دینے کا اعلان کیا گیا ۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میںمکھانا بورڈ ، ایئر پورٹ کا قیام ، مغربی کوسی نہر کے لیے مالی مدد وغیرہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سال 2018 میں ملک کی کچھ ریاستوں میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقاد ہوا تھا ،2025 میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقادبہار میں ہوا جو فخر کی بات ہے ۔ اس سب کے لیے جناب نریندر مودی جی کو سلام کر تے ہیں ۔جناب نریندر مودی جی کئی مرتبہ بہار آئے ہیں اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد ،افتتاح ، کیا گیا ہ ے ۔ ان تمام منصوبوں پر اب تیزی سا کام ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ پہلی مدت2005-2010، دوسرے کام کی مدت میں2010-2015، تیسری مدت 2015-2020 اور چوتھی مدت 2020-2025کو ملا کر ہر شعبے میں کام ہواہے، چاہے وہ تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی ہو یا زراعت۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ترقی کی رفتار اب مزید تیز کی جائے گی۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔سات نشچے 3 کو آئندہ پانچ برسوں کے لیے نافد کر دیا گیا ہے۔ ’’دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی کے تحت، ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔اوراس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ خواتین روزگاراسکیم کے تحت ہر خاتون کو 10 ہزارروپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر ہو گا ان کو 2 لاکھ روپے تک کی امداد دی جائے گی۔ اگلے پانچ برسوں میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک نیا یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ ’’خوشحال صنعت، بااختیار بہار‘‘ پہل کے تحت اگلے پانچ برسوں میں صنعتیں لگانے پر پورا زور دیا جائے گا۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل زونز قائم کیے جائیں گے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زرعی ترقی ریاست کے خوشحالی پروگرام کے تحت زرعی ترقی کے لیے پہلے ہی کافی کام کیا جا چکا ہے۔ اس کام کو مزید تیز کرنے کے لیے بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ڈیری اور ماہی پروری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل کے تحت ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہر بلاک میں آدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جائیں گے ۔ ایک نئے ایجو کیشن سیٹی کی تعمیر کی جائے گی ۔ آسان صحت ،محفوظ زندگی کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک کے اسپتالوں کو خصوصی طبی سینٹر بنا یا جائے گا ۔ ریاست میں مشہور پرائیوٹ اسپتالوں کے قیام کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر روک لگانے کی پالیسی لائی جائے گی ۔ مضبوط بنیاد ،جدید توسیع کے تحت بنیادی انفرا اسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا ۔جس میں شہروں کی ترقی اور نئے منتخب شہروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ 5نئے ایکسپریس وے سڑکوں کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2لین چوڑا کیا جائے گا ۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولرپینل لگائے جائیں گے ۔ بہار میں سیاحت اور ایکوٹوریزم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔پٹنہ میں اسپورٹی سیٹی کا فروغ اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکری دی جائے کی ۔ سب کا سمان ،جیون آسان کے تحت جدید تکنیکی اور اچھے انتظام کے توسط سے ریاست کے تمام شہریوں کی زندگی کو آسان بنا یا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ ان دنوں کام میں مزید تیزی آئی ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں مزید کام شروع کیے جائیں گے، جو بہار کو نمایاں طور پر آگے بڑھائیں گے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ بہار مزید ترقی کرے گا اور ملک کی اعلیٰ ریاستوں میں سے ایک بن جائے گا، جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ مشرقی چمپارن ضلع کی پہلے کیا حالت تھی۔سال 2005 سے قبل کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ مشرقی چمپارن ضلع میں تمام ترقیاتی کام مکمل ہو چکے ہیں، جس میں پہلے سے چل رہے انجینئرنگ کالج میں عمارتوں کی تعمیر۔ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے جو اپنی نئی تعمیر شدہ عمارت سے کام کر رہا ہے۔ خواتین کی آئی ٹی آئی اورتمام سب ڈویزن میں آئی ٹی آئی کا قیام کیا گیا ہے ۔ موتیہاری میں میڈیکل کالج اور ہسپتال کے قیام کا کام جاری ہے۔ جی این ایم انسٹی ٹیوٹ اور پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔ موتیہاری میں 2ہزار کی گنجائش والا چمپارن آڈیٹوریم بنایا گیا ہے۔ مشرقی چمپارن ضلع میں متعدد سڑکیں اور پل بنائے گئے ہیں۔ گنڈک ندی پر ستر گھاٹ پل تعمیر کیا گیا ہے۔ موتیہاری-رکسول سڑک کو چوڑا کیا گیا ہے۔ سال 2017 ’’چمپارن ستیہ گرہ کے صد سالہ ‘‘ کے طور پر منایا گیا اور متعدد پروگرام منعقد کیے گئے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی (باپو) سے وابستہ تمام مقامات کا فروغ کیا گیا ہے۔ دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں اپنی پرگتی یاترا کے دوران، میں نے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے تمام اضلاع کا دورہ کیا۔ باقی بچے ہوئے کام کو پورا کرنے کے لیے، مشرقی چمپارن ضلع میں 10 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں پر کام جاری ہے اور جلد مکمل ہو جائے گا۔ بوڑھی گنڈک اوردھنوتی ندیوں پر دو پل بنائے جا رہے ہیں۔ مذہبی مقامات سیتا کنڈ دھام اور سومیشور ناتھ مندرکا ڈلپمنٹ کیا جارہا ہے۔ بنگری ندی پر پشتہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ باگمتی ندی کے پشتے پر پکی سڑک بنائی جا رہی ہے۔ مدھوبنی گھاٹ کے پشتہ پر سڑک کو چوڑا کیا جا رہا ہے۔ گھوڑ دوڑ پوکھر کی جدید کاری کی جارہی ہے۔ گھوڑاساہن روڈ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ گاندھی جی کے ذریعہ قائم کردہ ’’بڑہروا لکھن سین ہائی اسکول‘‘ کو ڈیولپ کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’سات نسچے-3 کے تحت مشرقی چمپارن ضلع میں اگلے پانچ برسوں،( 2025 سے 2030) کے درمیان متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان میں روزگار کیلیے ضلع کے 7 لاکھ 81ہزار خواتین کو10ہزار روپے کی روزگار کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ ان کے روزگار کو فروغ دینے کے لیے 2 لاکھ روپے تک کی اضافی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ مشرقی چمپارن ضلع میں ایک صنعتی زون قائم کیا جائے گا اور نئی صنعتیں لگائی جائیں گی۔ بند شدہ باڑہ اور موتیہاری شوگر ملوں کو کسانوں کے فائدے کے لیے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ڈیری فارمنگ کو فروغ دینے کے لیے، ضلع کے باقی 275 گاؤں میں دودھ کی پیداوار کمیٹیاں بنائی جائیں گی، اور تمام 396 پنچایتوں میں سودھا دودھ کی فروخت کے مراکز کھولے جائیں گے۔ تمام 27 بلاکوں میں ماڈل اسکول اور ڈگری کالج قائم کیے جائیں گے۔ تمام 27 کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو خصوصی اسپتالوں میں اپ گریڈ کیا جائے گا، اور موتیہاری صدر اسپتال کو ایک سپر اسپیشلٹی اسپتال میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔ کھیلوں کے لیے سنٹر آف ایکسی لینس قائم کیا جائے گا۔’’سب کا سماں- زندگی آسان‘‘ کے تحت مشکلات کو دور کیا جائے گا اور لوگوں کے لیے سرکاری خدمات تک رسائی کو آسان بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ کام ضلع کی جامع ترقی کا باعث بنیں گے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ اب بہار نمایاں طور پر ترقی کرے گا اور ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2005 سے پہلے کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 20 سال سے ہم مسلسل بہار کی ترقی میں لگے ہوئے ہیں۔ مشرقی چمپارن ضلع میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ عوام سے سمواد پروگرام میں مقامی عوامی نمائندوں اور لیڈروں نے وزیر اعلیٰ کو پھولوں کا گلدستہ اورمومینٹو پیش کر کے ان کا خیر مقدم کیا۔ جن سمواد پروگرام میںنائب وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری ،نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے کمار سنہا، آبی وسائل اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب وجے کمار چودھری، ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر سنجے جیسوال،رکن اسمبلی جناب پرمود کمار سنہا، رکن اسمبلی جناب راجیش کمار عرف ببلو گپتا،رکن اسمبلی جناب وشال کمار، رکن اسمبلی جناب کرشننندن پاسوان،رکن اسمبلی جناب راجو تیواری،رکن اسمبلی جناب شیام بابو پرسادیادو ،رکن اسمبلی جناب پرمود کمار ،رکن اسمبلی جناب لال بابو پرساد ،رکن قانون ساز کونسل پروفیسر ڈاکٹر وریندر نارائن یادو،رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر خالد انور، رکن قانون ساز کونسل جناب آفاق احمد، سابق ارکان پارلیمنٹ، سابق ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل سمیت دیگر عوامی نمائندے، کارکنان اور بڑی تعداد میںعام لوگ موجود تھے۔