مظہر امام نے غزل کو جدت بخشی،وہ آزاد غزل کے امام تھے: پروفیسر توقیر عالم
Awaz E Bihar••1 ویوز•7 منٹ پڑھیں
منفرد لب و لہجہ کے شاعر مظہر امام اپنے معاصرین میں منفرد مقام رکھتے تھے:ایس ایم پرویز عالم
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت مظہر امام یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز)نفاست پسندی میں الگ مقام رکھنے والے مظہر امام کی سب سے نمایاں شناخت ’’آزاد غزل‘ کے موجد کے طور پر ہوئی۔ دراصل وہ ادب میں نئے نئے تجربات کے حامی تھے اور جب غزل کی ایک نئی ہیئت’’آزاد غزل‘‘ کا تجربہ کیا۔ان کے یہاں روایتی غزل کی بندش کے بجائے جدید حسیت اور داخلی کیفیات کا بیان ملتا ہے۔مظہر امام نے شاعری میں غزل کو جدت بخشی۔ انہو ںنے نہ صرف نئی جہتیں دریافت کیں بلکہ انوکھےموضوعات اور نئے طرز اظہار سے لوگوں اور نو آموز شاعروں کو آشنا کیا۔ مظہر امام کی ایک خاص پہچان ان کے تجربہ پسند تخلیقی مزاج کی وجہ سے قائم ہوئی۔مظہر امام کی شاعری عہد حاضر کی تمام تر کیفیات اور اس کے اسرار و رموز سے جڑی ہوئی ہے۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد مظہر امام یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر توقیر عالم، سابق پرو وائس چانسلر ، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ نے کی۔صدارتی خطبہ پیش کرتےہوئے پروفیسر توقیر عالم، سابق پرو وائس چانسلر ، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ مظہر امام آزاد غزل کے امام کہے جاتے ہیں۔انہوں نے غزل کو جدت بخشی ہے۔انہوں نے کہا کہ وضعداری، انکساری، خوش سلیقگی، خوش لباس، نرم لہجہ وغیرہ کو ملا کر اگر انسانیت کا کوئی پیکر تیار کیا جائے تو بلا شبہ آپ مظہر امام کا نام لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ہرکسی سے محبت سے ملتے تھے او ران کی مزاج پرسی اور خیریت دریافت کرتے تھے۔وہ بہت خاموشی سے لوگو ںکی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کی یاداشت غضب کی تھی۔ وہ واقعات کی جزئیات نگاری ایسے کرتے کہ گویا وہ کل کی بات ہو۔مظہر امام کے یہاں رومانیت بہت ہے۔ ان کی شاعری میں محبو ب کی محبوبیت کا اظہار ملتا ہے۔اس سے قبل محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کی طر ف سے استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ،ڈائرکٹر ،اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو وکاالہانہ استقبال کیا۔ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ ہم آج اردو کے مایہ ناز شاعرمظہر امام کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظہر امام اردو کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو کے معروف نقاد نیاز فتحپوری نے تو انھیں قدرِ اوّل کا شاعر کہا ہے۔ انہوں نے نظمیں اور غزلیں دونوں کہی ہیں۔ اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر رہے لیکن آگے چل کر انھوں نے اپنی منفردراہ بنائی اور اپنے معاصرین سے مختلف دکھائی دینے میں کامیاب رہے۔ ان کی شاعری عصری المیے کی صرف تاریخ ہی مرتب نہیں کرتی بلکہ انسان کی داخلی کیفیات اور اس کے کرب و انتشار کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظہر امام نے وادیِ ادب میں صرف ۳۱ برس کی عمر میں قدم رکھا۔سب سے پہلے انھوں نے افسانہ نگاری شروع کی پھر شاعری کی طرف مائل ہو گئے۔غزل، نظم،آزاد نظم، نظم مُعَرّیٰ؛ غرض شاعری کی ہر مروجہ صنف میں طبع آزمائی کی۔آزاد غزل کے علمبردار رہے۔ اُنھیں آزاد غزل کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔مظہر امام ایک اعلیٰ پائے کے شاعر ہونے کے علاوہ ایک اچھے نقاد اور خاکہ نگار بھی تھے۔ اُن کے کئی قابلِ ذکر تنقیدی مضامین اور خاکے ہند و پاک کے معروف رسالوں اور ادبی جریدوں میں شائع ہوئے۔مظہر امام کے مخصوص لب و لہجے اور منفرد آہنگ نے جس روایت کی بنیاد ڈالی ہے اس کے سبب ان کا ذکر ناصر کاظمی، شکیب جلالی اور جمیل مظہری جیسے قد آور شاعروں کے درمیان کیا جاتا ہے۔ وہ دھیمے اور نرم لہجے کے شاعر ہیں۔ انھوں نے نظم اور غزل دونوں ہی اصناف میں کامیاب ادب پارے پیش کئے لیکن لہجے میں بلند آہنگی اور جذبات میں اشتعال انگیزی کو غالب نہیں ہونے دیا ہے۔ وہ کئی شعری مجموعوں اور نثری نگارشات کے خالق ہیں۔انھوں نے اپنی بہترین شاعری اور بیش قیمت نگارشات کے توسط سے ملک اور بیرون ملک میں بہار کا نام روشن کیا۔ اُن کی شعری و ادبی خدمات پر سر زمین بہار ہمیشہ فخر کرے گی۔ڈاکٹر اقبال حسن آزاد، سابق پرنسپل جے آر ایس کالج، جمال پور، مونگیر نے مظہر امام کی شعری انفرادیت کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظہر امام کی شاعری میں جو داخلی کرب، فکری گہرائی، عصری ہم آہنگی کی پوری جھلک ملتی ہے وہ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کر دیتی ہیں۔انھوں نےنہ صرف غزل اور نظم میں اپنی انفرادیت ثابت کی بلکہ آزاد غزل کے موجد بھی کہے جاتے ہیں۔مظہر امام کی شاعری میں فکری سنجیدگی اور شعری دیانت کا عنصر ملتا ہے۔ان کی شاعری میںسماجی شعور اور طبقاتی احساس کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ ان کی شعری رویے میں فکری وسعت پائی جاتی ہے۔ان کواپنے لہجے کی انفرادیت ثابت کرنے کے لئے کسی خارجی حمایت کی ضرورت نہیں۔ان کی شعری ہم آہنگی ان کی شاعری کو یک رخی ہونے سے بچاتی ہے۔ڈاکٹر سید اشہد کریم، اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ اردو ایس وی پی کالج،بھبھوا نے رومانوی نفاست کا شاعر مظہر امام کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔مظہر امام ایک ہمہ جہت فنکار ہیں۔ ان کے شعری و نثری کارنامے قابل رشک ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظہر امام کی شاعری میں رومانوی نفاست ہے۔ شعری لفظیات کو برتنے میں ان کا احساس جمال نہایت با شعور نظر آتا ہے۔وہ الفاظ کے رمز شناس تھے۔ مظہر امام کی غزل کو ان کی تخلیقی معراج کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر فاروق اعظم، اسسٹنٹ پروفیسر، پی جی ڈپارٹمنٹ آف اردو، رانی گنج گرلس کالج، آسنسول نے مظہر امام کی شاعری میں حسن و عشق کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظہر امام کی حیثیت ایک نابغہ روزگار کی ہے۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی۔ انہوں نے غزل نظم، رباعی میں اپنے فکر و فن کے جوہر دکھائے۔اردو شاعری میں ان کا بڑا کارنامہ آزاد غزل کی ایجاد ہے۔مظہر امام کی شاعری میں جوش کا فیض جھلکتا ہے۔ طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت سکینہ خاتون،ایم اے،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آبادنے مظہر امام پر ایک نظر اورناہیدہ پروین، ریسرچ اسکالر ، ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ نے مظہر امام کی کی تنقید نگاری کے موضوع پر اپنا مختصر مگر جامع مقالہ پیش کیا۔دوسرے اجلاس میں مشہور و معروف شاعر عطا عابدی، دربھنگہ کی صدارت اور معروف شاعر ڈاکٹر سنیل کمار تنگ کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔معین کوثر، پٹنہ، منظر صدیقی ، دربھنگہ، مکرم حسین ندوی، پٹنہ، ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر، بتیا، مصطفیٰ مضطراورنگ آبادی، اصغر حسین کامل، نصر اللہ نستوی، پٹنہ اور ڈاکٹر مسرور صغری رضوی، مدھوبنی نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر جاوید حیات،ڈاکٹر ریحان غنی،مشتاق احمد نوری، شائستہ انجم نوری، انوار الحسن وسطوی، غفران صدیقی، منیر سیفی،اعجاز رسول، عتیق الرحمن شعبان، اسرار عالم سیفی، ڈاکٹر شمع ناسمین ،عرفان احمد بیلہاروی،ڈاکٹر رخسانہ خاتون،ظفر صدیقی، اشفاق عادل ، سلطان آزاد، میر سجاد،ڈاکٹر انوار الہدیٰ،پرویز عالم، محمد عظیم انصاری،وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔