ذکر اللہ سے قلب میں نورانیت پیدا ہوتی ہے: امیر شریعت
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
دارالعلوم الاسلامیہ اکابرین امارت شرعیہ کے خوابوں کی حسیں تعبیر ہے: قاضی وصی احمد قاسمی پٹنہ : دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے دورۂ حدیث کے طلباء کے درمیان آخری درس دیتے ہوئے مفکر ملت، امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آغاز کتاب میں اخلاص نیت کی حدیث درج فرمائی اور سب سے اخیر میں ذکر اللہ سے متعلق حدیث کو بیان فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ جو کام اخلاص و للہیت اور رضاء الہی کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے وہ تھوڑا ہونے کے باوجود میزان عدل میں وزنی ہو جاتا ہے، اس لیے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا کثرت سے ورد کرتے رہنا چاہیے، اس سے ایمان و یقین میں تازگی اور فکر و عمل میں نورانیت و روحانیت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت امیر شریعت نے آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن اعمال و اقوال بھی وزن کیے جائیں گے اور اس کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے، حضرت نے فرمایا کہ ذکر اللہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم بہت ہی آسان کلمے ہیں جو زبان پر آسانی سے چڑھتے ہیں، ہم سب کو اس کا برابر اہتمام کرتے رہنا چاہیے، حضرت نے اس موقع پر اجازت حدیث کی سند دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے مولانا مفتی یحیی ندوی صاحب سے حدیث کا درس لیا، انہوں نے حضرت مولانا عبداللطیف صاحب رحمانی رحمہ اللہ علیہ سے، پھر انہوں نے حضرت مولانا شاہ فضل رحمنٰ گنج مراد آبادی سے اور انہوں نے حضرت شاہ عبدالعزیز سے اور انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے اجازت حدیث حاصل کیا، میں بھی اس سال دورۂ حدیث سےفارغ ہونے والے طلبہ کو اس سلسلہ سے اجازت حدیث دیتا ہوں۔ دارالعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری قاضی وصی احمد صاحب قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاءامارت شرعیہ نے دارالعلوم کی تعلیمی سرگرمیوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی یہ دینی درسگاہ تعلیمی و تربیتی میدان میں نہایت ہی ممتاز ہے، شوال میں بڑی تعداد میں طلبہ داخلہ کے لیے آتے ہیں لیکن قلت اسباب کے باعث معذرت کرنی پڑتی ہے اگر آپ حضرات کا خصوصی تعاون جاری رہے تو ہم اسے مزید آگے بڑھا سکیں گے اس لیے کہ دارالعلوم الاسلامیہ اکابرین امارت شرعیہ کے خوابوں کی حسین تعبیر ہے۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ دارالعلوم الاسلامیہ ایک ایسا مثالی ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ معیاری تربیت بھی دی جاتی ہے اس لیے یہ ملک کے ممتاز اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مولانا مفتی محمد احتکام الحق صاحب قاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ اس ادارہ نے قلیل مدت میں نمایاں ترقی حاصل کی یہاں کے بزرگوں کے اخلاص و للہیت کا ثمرہ ہے۔ درس حدیث سے قبل دارالعلوم کے ہونہار طلباء نے اردو، عربی، انگریزی، فارسی اور ہندی زبانوں میں پرمغز اور دلکش تقریریں کیں، جس سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا اور لوگوں نے ان بچوں کے لیے دل سے دعائیں کی۔دارالعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا مفتی یحیی غنی صاحب قاسمی نے مہمانان کرام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ اس مبارک تقریب میں شہر پٹنہ اور اس کے مضافات سے تشریف لانے والے متعدد ارباب فکر و نظر و دانشورانِ ملت اور سماجی خدمت گاروں نے دارالعلوم کے نظم و انصرام کو دیکھ کر دلی مسرت کا اظہار کیا اور دعائیں دی۔ اس مجلس میں دارالعلوم الاسلامیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی منت اللہ صاحب قاسمی، شیخ ثانی حضرت مولانا مفتی شکیل احمد صاحب قاسمی، مفتی عبید اللہ صاحب، مفتی نیر اسلام صاحب ، مفتی مشیر عالم صاحب، مفتی رہبر عالم صاحب، مفتی محمد تبریز صاحب،مفتی آفتاب عالم صاحب، مفتی طارق سعید صاحب، مفتی طارق اعظم صاحب، مفتی قمر اختر صاحب، مفتی ندیم اختر صاحب، مفتی فیض عالم صاحب، مولانا عبد الحی صاحب، مفتی صادق حسین صاحب، مولانا افضال احمد صاحب، مولانا قاری ابرار الحق صاحب، مولانا قاری کوثر صدیقی صاحب، مفتی اظہار الحق صاحب ، مفتی وسیم احمد صاحب کے علاوہ امارت شرعیہ سے مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ، مفتی عبد اللہ انس صاحب قاسمی مرکزی دارالقضاء، حاجی احسان صاحب، ڈاکٹر یاسر حبیب صاحب، مفتی شمیم اکرم صاحب رحمانی معاون قاضی، مولانا گوہر امام صاحب امام و خطیب شاہی سنگی مسجد پھلواری شریف تشریف فرما ہوئے۔اجلاس کا آغاز محمد ساحل کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، محمد وسیم ، نوازش سجاد ، ضیاء الرحمان ، عظیم اللہ نے حمد و نعت پیش کئے ، اور الوداعی نظم فیصل عرفان نے پڑھی، مفتی آفتاب عالم صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم الاسلامیہ نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئیے،آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی رقت آمیز دعا پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔