منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
زمینی تنازعہ کے نام پر اب نہ تو تھانوں کی منمانی چلے گی اور نہ ہی پولس کی مداخلت :وجے سنہا
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

زمینی تنازعہ کے نام پر اب نہ تو تھانوں کی منمانی چلے گی اور نہ ہی پولس کی مداخلت :وجے سنہا

Awaz E Bihar•29 جنوری، 2026 کو 06:39 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ (اے بی این) نائب وزیر اعلیٰ اور محکمہ ریونیو اور لینڈ ریفارمز کے وزیر وجے کمار سنہا نے کہا ہے کہ زمینی تنازعات کے نام پر اب نہ تو تھانوں کی منمانی چلے گی اور نہ ہی پولس کی مداخلت کی آڑ میں کسی کو ڈرایا جائے گا۔ ڈبل انجن والی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ زمین کے تنازعات ریونیو اور عدالتی عمل کا معاملہ ہے، نہ کی پولیس کی من مرضی کا۔ لینڈ ریفارمز اینڈ پبلک ویلفیئر ڈائیلاگ کے دوران بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے معاملات میں پولیس نے امن و امان کے نام پر غیر ضروری مداخلت کی ہے۔ یہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس کی ذمہ داری صرف امن و امان برقرار رکھنا ہے نہ کہ تجاوزات، قبضہ یا تعمیرات کی سہولت فراہم کرنا۔ ان رہنما خطوط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر مجاز اتھارٹی کے احکامات کے بغیر تجاوزات، باؤنڈری وال کی تعمیر یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریاستی حکومت کا مقصد انصاف اور عوام کا احترام ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا 7 نشئے 3 کے تحت‘سب کا سمان، جیون آسان" صرف نعرہ نہیں ہے بلکہ زمین پر دکھناچاہیے۔ زمین تنازعہ معاملہ کا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بروقت اور منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے گا۔ عوام کو بھٹکنے نہیں دیا جائے گا اور قصورواروں کو کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔پولیس کا اب زمینی تنازعات میں محدود کردار ہوگا۔ ان کی مداخلت امن و امان برقرار رکھنے تک محدود رہے گی۔ لینڈ ریفارم پبلک ویلفیئر ڈائیلاگ کے دوران موصول ہونے والی شکایات کا تجزیہ کرنے کے بعد ریاستی حکومت نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ نئے قوانین یکم فروری سے لاگو ہوں گے۔ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری اور پرنسپل سکریٹری سی کے انیل کی طرف سے جاری ایک مشترکہ خط میں واضح کیا کہ زمینی تنازعہ کے معاملات میں پولیس کا کردار امن و امان کو برقرار رکھنے تک محدود رہے گا۔ پولیس کسی اراضی پر قبضہ نہیں کر سکے گی اور نہ ہی مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی تعمیرات یا باؤنڈری وال تعمیر کر سکے گی۔رہنما خطوط کے مطابق کسی بھی زمینی تنازعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس اسٹیشن کو اسٹیشن ڈائری میں الگ اور واضح اندراج کرنا ہوگا۔ اس میں فریقین کے نام اور پتے، جھگڑے کی نوعیت، متنازعہ زمین کی مکمل تفصیلات، تنازعہ کی مختصر تفصیل اور پولیس کی جانب سے کی گئی ابتدائی کارروائی شامل ہوگی۔ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہو گا کہ پہلی بار کیس پر کون سی ریونیو عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔ متعلقہ تھانہ انچارج کو زمین کے ہر تنازعہ کے متعلق تحریری معلومات سرکل آفیسر کو فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ معلومات ای میل یا سرکاری پورٹل کے ذریعے بھی بھیجی جا سکتی ہیں، تاکہ ریونیو اور پولیس انتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل کو آسان بنایا جا سکے۔اراضی کے تنازعات کے فوری حل کے لیے سرکل آفیسر اور تھانہ انچارج کی مشترکہ میٹنگ ہر ہفتہ کو سرکل آفس میں منعقد ہوگی۔ ان میٹنگوں میں مقدمات کے حل کی پیشرفت محکمانہ پورٹل پر اپ لوڈ کی جائے گی۔ چیف سیکرٹری کی زیر صدارت 22 جولائی 2025 کو ہونے والے جائزہ اجلاس کی ہدایات کے مطابق تھانہ انچارج خود یا ان کی غیر موجودگی میں اضافی تھانہ انچارج ان میٹنگوں میں شرکت کریں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 107/ 116 کے تحت پولیس کا کردار پہلے جیسا ہی رہے گا، لیکن زمین کے تنازعات میں غیر ضروری مداخلت کے لیے اس کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔ریاستی حکومت 'سب کاسمان، جیون آسان‘کودھیان میں رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•1 ویوز
پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ
بہار

پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•1 ویوز
بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•1 ویوز