ایس آئی آر کے موضوع پر چکردھر پور مغربی سنگھ بھوم میں تربیتی ورکشاپ کا انعقاد: مولانا احمدحسین قاسمی
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
نوجوانوں کے علاوہ 14 بی ایل او اور 2 ماسٹر ٹرینرز نے ورکشاپ میں حصہ لیا
پٹنہ :امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ایس آئی آر (Special Intensive Revision) اور پیرنٹل میپنگ سے متعلق جاری ہمہ گیر تربیتی مہم کے تحت ایک اہم اور مفید ورکشاپ مدرسہ فیضِ عام، جگن ناتھ پور میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس تربیتی پروگرام کی صدارت معاون ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ جناب مولانا احمد حسین قاسمی نے فرمائی۔
ورکشاپ کا آغاز مغرب کے بعد حافظ پرویز صاحب کی تلاوت سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض جمشیدپور کےنائب قاضیِ شریعت مولانا افروز سلیمی القاسمی نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ ابتدائی خطاب میں قاضیِ شریعت جمشیدپور حضرت مولانا سعود عالم قاسمی نے ایس آئی آر کی اہمیت، اس کے سماجی اثرات اور عوامی شمولیت کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
بعد ازاں امارتِ شرعیہ ریسرچ ٹیم کے رکن مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے شرکاء کو عملی تربیت دی۔ انہوں نے پیرنٹل میپنگ، فارم 6، فارم 8 اور ایس آئی آر سے متعلق پیچیدہ امور کو نہایت سادہ، عام فہم اور عملی انداز میں سمجھایا، جس سے شرکاء کو براہِ راست فائدہ حاصل ہوا۔شرکاء نے مجلس میں ان کاموں کو پریکٹیکل بھی انجام دیا۔ اس موقع پر امارتِ شرعیہ کے وفدریسرچ ٹیم کے رکن ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف سے متعلق اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جن مقامات پر رجسٹرڈ وقف جائیدادیں ابھی تک امید پورٹل پر اپلوڈ نہیں ہو سکیں، وہاں ٹریبونل میں درخواست دے کر اپلوڈ کا موقع حاصل کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی قسم کی قانونی دشواری پیش نہ آئے۔
مفتی صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے شرکاء کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیے اور عملی رہنمائی بھی فراہم کی اور ان کی ایما پر جوانوں اور بی ایل او کی ایک بڑی تعداد نے اس عز م کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر مکمل ہونے تک ہم لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اس ٹریننگ کے ذریعے عام لوگوں کی مدد کو یقینی بنائیں گے جو امارت شرعیہ کے لیے ایک خوش آئند امرہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں قائد وفد جناب مولانا احمد حسین قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے معاشرے میں خواہ وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں یا آدی واسی سماج سے تعلق رکھتے ہوں، بڑی تعداد ایسے غریب اور ناخواندہ افراد کی ہے جن کے لیے پیرنٹل میپنگ اور ایس آئی آر ایک دشوار مرحلہ ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم آگے بڑھ کر بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر شہری، مرد و خواتین، کی مدد کریں۔ آپ نے حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔”
انہوں نے واضح کیا کہ امارتِ شرعیہ چاہتی ہے کہ مسلم نوجوان ملک کے شہریوں کے مسائل کے حل میں مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ریاست جھارکھنڈ میں ہونے والے ایس آئی آر سے متعلق حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی اور ناظم امارت شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نہایت فکر مند ہیں کہ کوئی شہری کسی بھی طرح ایس آئی آر کے اس زمرے سے باہر نہ رہ جائے
اس موقع پر ریٹائرڈ ماسٹر حاجی محفوظ الرحمن صاحب نے حضرت امیرِ شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہم کے اس بروقت اور عوامی مفاد پر مبنی اقدام کو سراہتے ہوئے اسے جھارکھنڈ کے تمام شہریوں کی ایک اہم ضرورت قرار دیا اور پروگرام کے کامیاب انعقاد پر امارتِ شرعیہ، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ حضرت مولانا اور ان کے رفقاء ہی کی محنت، توجہ اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں شرکاء کی قابلِ ذکر تعداد کی موجودگی نہایت خوش آئند رہی۔ یہ منظر خاص طور پر قابلِ دید تھا کہ کہ اس میٹنگ میں اس ورک شاپ میں 14 سے زائد بی ایل او اور تمام بی ایل او کو ٹریننگ دینے کے لیے سرکار کی طرف سے نامزد دو ماسٹر ٹرینرز موجود تھے۔
ورکشاپ میں شہر کے عمائدین، سماجی کارکنان، دانشوران اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی شریک رہے۔ ٹریننگ میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ارباب حل و عقد کے رکن مولانا رکن الدین صاحب مہتمم مدرسہ فیض الحق، جامع مسجد کے امام قاری الطاف صاحب، انجمن اسلامیہ چکردھر پور کے صدر فیضان منظر، نائب صدر حاجی اکرام، جنرل سکریٹری بیرم خان اور نائب سیکرٹری صدام حسین، ماسٹر ٹرینر شاھد اختر اور سہیل صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مرکزی دفتر سے ذمہ دارن مسلسل وفد کے رابطہ میں ہے۔ اس مہم کا اگلا پڑاؤ 7 تاریخ کومدھوپورجامع مسجد سلگڑیا، دھمنی میں صبح دس بجے اور مدھوپور دفتر دارالقضاء، امارتِ شرعیہ میں مغرب کے بعد منعقد ہوگا۔