آن لائن داخل۔خارج میں غیر ضروری تاخیر پر سخت رخ، قواعد کی خلاف ورزی پر ہوگی سخت کارروائی: وجے کمار سنہا
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 17 جنوری (اے بی این) نائب وزیر اعلیٰ اور محصولات واصلاحات اراضی کے وزیر وجے کمار سنہا نے سنیچر کوکہا کہ اگر کوئی سرکل افسر یا ملازم جان بوجھ کر داخل۔خارج کے معاملات کو بلا وجہ زیر التوا رکھتا ہے تو اسے براہ راست فرائض میں کوتاہی اور شہریوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مسٹر سنہا نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بغیر اعتراض والے معاملات میں فوری طور پر حکم جاری کرنا لازمی ہے، اس کے باوجود تاخیر کرنا کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ داخل۔خارج وقت پر نہ ہونے کے سبب رعیتوںکے اراضی ریکارڈ اپڈیٹ نہیں ہوپاتے، جس کے نتیجے میں انہیں سرکاری اسکیموں، بینک قرض اور دیگر قانونی سہولتوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ یہ محض لاپرواہی نہیں بلکہ نظام کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ ٹال مٹول کی پالیسی سب کو ترک کرنی ہوگی۔ بہار میں آن لائن اراضی داخل۔خارج مقدمات کے تصفیہ میں مسلسل ہدایات کے باوجود بے قاعدگی اور غیر ضروری تاخیر کے پیش نظرمحصولات و اصلاحات اراضی محکمہ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں سکریٹری جے سنگھ نے تمام ضلعی کلکٹروں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ داخل۔خارج کے معاملات کا تصفیہ بہار اراضی داخل۔خارج ایکٹ، 2011 اور ترمیم شدہ قواعد، 2020 کی دفعات کے مطابق مقررہ مدت کے اندر لازمی طور پر کیا جائے۔ سکریٹری مسٹرسنگھ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ داخل۔خارج رعیتوں اور اراضی مالکان کے لیے نہایت اہم عمل ہے، اس کے باوجود کئی حلقوں میں قواعد کی پابندی نہیں کی جا رہی ہے۔ اراضی اصلاح عوامی بہبود مکالمہ اور دیگر ذرائع سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بغیر اعتراض والے معاملات کو بھی جان بوجھ کر زیر التوا رکھا جا رہا ہے، جس سے سرکل دفاتر کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان کھڑے ہو رہے ہیں۔ خط میں خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ عام و خاص اطلاع جاری ہونے کے بعد 14 دن کی مدت کے اندر اگر کوئی جائز اعتراض موصول نہ ہو تو حلقہ افسر کو بلا تاخیر داخل۔خارج کا حکم جاری کرنا چاہیے۔ اس کے برخلاف، کئی معاملات میںسرکل سطح پر خود ہی بے بنیاد "خود ساختہ اعتراض" درج کر کے مقدمہ کو غیر ضروری طور پر سماعت میں ڈال دیا جاتا ہے، جو قواعد کے خلاف ہے۔ محکمہ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صرف سرکاری کھاتہ یا کھسرا سے متعلق اراضی کے معاملات میں ہی اطمینان کی بنیاد پر خود ساختہ اعتراض درج کیا جا سکتا ہے۔ دیگر معاملات میں بغیر ٹھوس وجہ کے خود ساختہ اعتراض درج کرنا بدعنوانی کے زمرے میں آئے گا۔ ساتھ ہی اگر کسی غیر سماجی عنصر کی جانب سے بغیر کسی بنیاد یا قانونی مفاد کے اعتراض درج کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ جوابدہی طے کرتے ہوئے محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ اگر کسی حلقہ میں بلا وجہ زیر التوا داخل۔خارج مقدمات کی تعداد زیادہ پائی گئی تو متعلقہ حلقہ افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ تمام ضلعی کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سطح پر حلقہ افسران سے ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ محصولات و اصلاحات اراضی محکمہ کے اس اقدام سے آن لائن داخل۔خارج عمل میں شفافیت، وقت کی پابندی اور جوابدہی یقینی ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے ریاست کے عام شہریوں کو جلد اور منصفانہ داخل۔خارج کی سہولت مل سکے گی۔