انجمن باغ و بہار، بھاگل پور میں یاد کئے گئے شعری مجموعہ 'خاک دل 'کے شاعر۔ جاں نثار اختر
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
انجمن باغ و بہار،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتما م جاں نثار اختر کے یوم پیدائش پرنوشین جہاں کی رہائش گاہ پر جوثر ایاغ کی صدارت میںادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریڑی ڈاکٹر محمد پرویز نے جاں نثار اختر کے حیات و ادبی کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ جاں نثار اختر ترقی پسند شاعری کا تابندہ ستارہ تھا جس کی شاعرانہ عظمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔وہ بیک وقت غزل گو، نظم نگار،مرثیہ نگار،قطعہ گو،گیت گو،رباعی گو،مثنوی نگار، مضمون نگار وغیرہ تھے۔انہوں اپنی غزلوں کو عشق و محبت کی رنگینی میں ڈبو کر اس میں رومانیت پیدا کی۔ٓانکا اصل نام سید جاں نثار حسین رضوی اختر اور قلمی نام جاں نثار اختر۔8 ٖفروری1914ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے اور وفات 18اگست 1976ء بمبئی ۔والد کا نام خان بہادر سید افتخار حسین رضوی اور قلمی نام مضطر خیرآبادی جو کلاسیکی شاعری کے نمائندہ شاعر تھے ،والد ہ کا نام بدرالنساء اور اہلیہ کا نام صفیہ اختر جو اسرار الحق مجاز کی بہن تھی اور علی گڑھ یونیور سٹی میں لکچرر اور مشہور ادیبہ تھیں ۔انہوں نے میٹرک وکٹوریہ کالج ،گوالیار سے کی۔علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم۔اے گولڈ میڈل ہوئے۔وہ وکٹوریہ کالج گوالیار میں لکچر ر ہوئے پھر بعد میں حمدیہ کالج بھوپال میں صدر شعبہ اردو و فارسی ہوئے۔کچھ سال کے بعد وہ بمبئی چلے گئے اور فلمی دنیا سے وابستگی اختیار کر لی اور پھر پوری زندگی فلموں سے جٖڑے رہے، انہوں نے لگ بھگ ڈیڑھ سو فلموں کے لئے گیت لکھے۔ وہ 1947سے1949ء تک ترقی پسند مصنیفین کے صدر رہے۔انکی تصانیف میں سلاسل،تار گریباں،جادواں،گھر آنگن،خاموش آواز،نذر بتاں،پچھلے پہر ،ہزاروں باتیں،ہندوستان ہمارا،سکوت شب زیر لب اور حرف آشنا (خطوط کا مجموعہ )وغیرہ اہم ہیں۔انہیں کئی ایوارڈ بھی ملے جن میں غالب ایوارڈ،سویت لینڈ نہرو ایوارڈ،ساہتیہ اکادمی ایوارڈ وغیرہ شامل ہیں۔انکی اہم نظموں میں نذر بتاں، افشائے راز،یاد ہے اب تک،دور رات بھر کوئی گاتا رہا،کسی کو دیکھ کر،زندگی کے موڑ پر، اعتراف،ایک لمحہ،گرلز کالج کی لاری،آخری ملاقات،ساز وفا،ایک التجا،ایک خاتون سے،محبت،تمہارے شہر میں، خانہ بدوش،آدمی کا گیت،سویرا،دیہات کی شام ، آزادی وغیرہ اہم ہیں۔ اس موقع پرجوثر ایاغ نے کہا کہ جاں نثار اختر کی غزلوں کا رنگ آہنگ اور نظموں میں بھی تغزل کی لطافتیں اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ڈاکٹر سید نیر حسن نے کہا کہ جاں نثار اختر جدید غزل کے منفر د شاعر تھے ،انکی شخصیت میں بھی جاں نثاری اور دلداری تھی۔ ڈاکٹر حبیب مرشد خاں نے کہا کہ جاں نثار اخترکی شاعری جگ بیتی نہیں آپ بیتی ہے۔ نشست میں شامل محمد شاداب عالم، ڈاکٹر حفیط الرحمن،سید ممتاز اعظمی عرف منٹو کلاکار نوشین جہاں، محمد محبوب عالم نے جاں نثار اختر کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔