منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کلام حیدری کی شخصیت اور کارنامےفراموش نہیں کئے جا سکتے: پروفیسر عبد الصمد
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

کلام حیدری کی شخصیت اور کارنامےفراموش نہیں کئے جا سکتے: پروفیسر عبد الصمد

Awaz E Bihar•10 مارچ، 2026 کو 02:16 PM•3 ویوز•11 منٹ پڑھیں

ۭاردو کے فروغ کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ،حکومت بہارپابند عہد:ایس ایم پرویز عالم واقف عظیم آبادی جیسی شخصیتیں صدی میں دو ایک ہی پیدا ہوتی ہیں: شفیع مشہدی اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت واقف عظیم آبادی ۔کلام حیدری مشترکہ یادگاری تقریب و نعتیہ مشاعرہ میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال

پٹنہ(پریس ریلیز)علامہ واقف عظیم آبادی اردو کے ایک بڑےشاعر اور عظیم ادبی شخصیت ہیں، جن کی شاعری کلاسیکی اور جدید رجحانات کا حسین امتزاج ہے ۔ان کی شاعری میں اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی مسائل کی عکاسی نظر آتی ہے۔ واقف کی غزلوں میں شعریت، نغمگی اور حلاوت نمایاں ہے، جو انہیں ایک منفرد شاعر بناتی ہے۔ان کے کلام میں کلاسیکی روایتوں کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدید حسیت بھی موجود ہے۔ان کے اشعار میں جذباتی گہرائی اور فنی نفاست کا امتزاج ہے۔ یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، پٹنہ میں منعقد واقف عظیم آبادی ۔کلام حیدری مشترکہ یادگاری تقریب و نعتیہ مشاعرہ پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔واقف عظیم آبادی یاد گاری تقریب کی صدارت شفیع مشہدی ، سابق صدر نشیں ،اردو مشاورتی کمیٹی،بہار نے کی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے شفیع مشہدی نے کہا کہ میں سب سے پہلے میں واقف عظیم آبادی کو خراج عقیدت پیش کرتاہوںاوراس عظیم شخصیت پر اس خوبصورت محفل کے انعقاد کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم اوراردو ڈائرکٹوریٹ ، حکومت بہار کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے واقف صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع عنایت کیا۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں واقف صاحب کی شخصیت پر تفصیل سےباتیں ہوئی ہیں ، جس کا اعادہ ضروری نہیں۔ میری بھی ان سے کئی ملاقات ہوئی ہے اور میں نے ہر بار ان کی شخصیت کا نیا رخ دیکھاہے۔ایسی شخصیتیں صدی میں دو ایک ہی پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقف صاحب اردو کے ہی نہیں بلکہ فارسی و عربی کے بہت بڑے عالم تھے۔ چند منٹوں میں واقف صاحب کی شخصیت اور ان کی علمی صلاحیت کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔ان پر ایک بڑے سمینار کا انعقاد ہونا چاہئے۔اس سے قبل محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کی طر ف سے استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ،ڈائرکٹر ،اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کاوالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے کہا کہ واقف عظیم آبادی اپنی بے مثال علمی و ادبی صلاحیت کے سبب دنیائے شعر و ادب میں علامہ واقف کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعری زمینی حقائق سے پیوستہ اور شعری حسن سے آراستہ ہے۔انہوں نے سماجی، سیاسی، مذہبی، لسانی، قومی و بین الاقوامی مسائل پر مزاحیہ انداز میں قطعات لکھ کر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ۔سنجیدہ شاعری میں بھی علامہ واقف کا ایک منفرد اور اعلیٰ مقام ہے۔ بہار میں اپنی طرز کے وہ ایک منفرد اور ممتاز اردو شاعر تھے۔ ان کی تخلیقات جس قدر مشاعروں میں پسند کی جاتی تھیں، اسی قدر اردو روزناموں کے توسط سے اردو آبادی میں بھی مقبول تھیں۔انہوں نے کلام حیدری پر اپنی باتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلام حیدری نے کبھی بھی خدمتِ ادب کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔وہ زندگی کی آخری سانس تک اردو ادب اور صحافت کی خدمت کرتے رہے۔ ادب و صحافت کے علاوہ وہ سماجی اور ملّی کاموں میں بھی پیش پیش رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کلام حیدری کی پہچان ایک کامیاب افسانہ نگار کے ساتھ ایک بے باک صحافی کی بھی ہے،لیکن وہ بنیادی طورپر ایک افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگار کی حیثیت ہی سے کیا۔کلام حیدری نے افسانوی مجموعوں ، تنقیدی مقالوں ، اداریوں کے مجموعہ اور دیگر تصانیف کی شکل میں جو گراں قدر ادبی وصحافتی سرمایہ چھوڑا ہے، وہ اُن کی ادبی شخصیت اور حیثیت کی بقا کا ضامن ہے۔دبستانِ بہار کو کلام حیدری کی ادبی خدمات پر ناز ہے۔ڈاکٹر نسیم اختر، معروف ادیب و ناقد ،پٹنہ نے اپنے مقالہ میں کہا کہ واقف صاحب بہت ہی خوددار انسان تھے۔ انھوں نے اپنی انا اور خود داری کا سودا نہیں کیا۔ خود شناسی اور اپنی ذات کا فہم وادراک انھیں بخوبی تھا۔انہیں اپنے فن میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ وہ کسی ایک زبان کے شاعر نہیں تھے۔ عربی میں بھی ان کے کلام موجود ہیں۔ ان کےکلام ملک کے بڑے اخباروں میں اکثر شائع ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے غالب، اقبال ، میر اور شاد عظیم آبادی کی عملی تنقید لکھی ہے ۔واقف ذہین شاعر و ادیب تھے ۔ وہ صحافت میں بھی اپنی خاص شناخت رکھتے تھے۔ و ہ نثر اور شاعری دونوں میں بلا کی اثر انگیزی رکھتے تھے۔ڈاکٹر آصف سلیم، معروف ادیب و ناقد،پٹنہ نےعلامہ واقف عظیم آبادی : شخصیت کے چند فکری پہلو پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے علامہ واقف عظیم آبادی سے جڑی اپنی یادوں کا افسانوی انداز میں ذکر کیا اور ان کے مزاج، ان کی شاعری اور ان کی فکری جہتوں پر جامع انداز میں گفتگو کی۔کلام حیدری یاد گاری تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئےپروفیسر عبد الصمد ، سابق صدر نشیں ، اردو مشاورتی کمیٹی، بہار، پٹنہ نے کہا کہ کلام حیدری کی شخصیت اور کارنامے نا قابل فراموش ہیں۔ وہ ایک معروف ترقی پسند نقاد، افسانہ نگار، صحافی اور ملک کی آزادی کے بعد کے اہم ادبی جریدے ’’ آہنگ ‘‘ کے مدیر کلام حیدری کی ادبی خدمات کوفراموش نہیں کیا جا سکتا۔ان سے میرے ذاتی تعلقات اور قربت تھی۔ انہوں نے کلام حیدری سے جڑی اپنی بیش قیمتی یادوں کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم شخصیت جن کی خدمات اور کارنامے نہایت بسیط ہیں۔ ان کا احاطہ صرف ایک یاد گاری تقریب میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان پر باقاعدہ ایک سمینار ہونا چاہئے۔ڈاکٹر صوفیہ پروین، اسسٹنٹ پروفیسر، ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ نے کلام حیدری بحیثیت صحافت نگار کے موضوع پر اپنامقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلام حیدری ایک اچھے صحافی ، ایک اچھے مقرراور ایک اچھے افسانہ نگار تھے۔انہوں نے بہترین صحافت کی ۔ انہوں نے اپنے ادبی جنون اور صحافت کے ذریعہ جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ ماضی کا ایک شاندار حصہ ہے۔ پروفیسر شکیل احمدقاسمی، سابق صدر شعبہ اردو اورینٹل کالج، پٹنہ نے اپنے مقالہ میں کہا کہ واقف عظیم آبادی کی شخصیت ہمہ جہت تھے۔، وہ منجھے ہوئے قلم کار، ماہر صحافی، گہرے تنقیدی شعور کے حامل اور قد آور ادیب تھے۔ ان کو فکشن نگاری میں مہارت تھی۔ انہوں نے اپنی فکری بصیرت، علمی گہرائی اور تجزیاتی رویےکے سبب ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے ادب کو ایک وسیع، علمی ، ادبی و فکری وقار بخشا۔ان کی تنقیدی تحریروںکا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ان کا انداز بیان خواہ تقریر ہو یا تحریر عالمانہ ہے۔کلام حیدری کی حق گوئی اور بے باکی نے صحافت میں ایک بلند معیار قائم کی۔انہوں نے اپنے تنقیدی اسلوب ، شائستہ بیان سے ادبی حلقوں میں ایک بلند مقام حاصل کیا۔ کلام حیدری کی خدماتِ اردو، تنقید اور تبصرہ نگاری میدان میں قابل قدر اور دیر پا اہمیت رکھنے والی ہے۔دریں اثناڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے مالی سال 2025-26میں اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار کے تحت ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے فروغ و تشہیر اور اشاعت کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کی سرگرمیوں او رکارگزاریوں کا سرسری جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ فروغ اردو کے لئے حکومت کی کارگزاریاں قابل ذکر اور لائق ستائش ہیں۔فروغ اردو کےتئیں عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار ،حکومت بہار کی سنجیدہ کوششوں کےلئے اردو عوام مشکور و ممنون ہے۔ انہوں نے اس سال اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارگزاریوں کا ذکر کرتے ہوئےبتایا کہ اس سال سبھی 22مرحومین اکابرین پر یاد گاری تقریبات کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئیں۔ان تقریبات میں اردو کے سبھی طبقہ کی شمولیت ہوئی ہے۔ نئی نسل کے طلبا و طالبات، خواتین ،غیر اردو داں طبقہ نے بھی یہاں تقریب میں اپنی کاوشیں پیش کی ہیں۔ اس سال ریاست و بیرون ریاست کے سوسے زائد دانشوران اردو نے اپنے مقالے پیش کئےہیں۔ دوسو بیس سے زائد شاعروں نے اپنے کلام پیش کئے۔انہوں نے بتایا کہ یہ سال اردو کے حوالے سے کافی یاد گار رہا ہے۔ اس سال حکومت بہار نے 857معاون اردو مترجمین کی بحالی کی ہے۔ ساتھ ہی 29 مارچ کو حکومت بہارکے ذریعہ ان عہدوں کو دوگنا کرنے کے اعلان ساتھ ان عہدوں پر بحالی کے سلسلے میںاسٹاف سلیکشن کمیشن نے اس کلینڈر ایئر میںجن بحالیوں کا ذکر کیا ہے ان میں مئی جون میں 1951 معاون اردو مترجمین اور 155 اردو مترجم کی بحالی کا بھی ذکرہے۔ڈائرکٹر موصوف نے آن لائن اردو لرننگ پروگرام میں نمایاں کامیابی اور حصولیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم بات ہے کہ ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر بی راجندر صاحب جیسی شخصیتیں اردو ڈائرکٹوریٹ کے اردو لرننگ پروگرام سے استفادہ کر چکے ہیں۔ اور اس بار کے بیچ میں سینکڑوں نئے اردو لرنرس میں تقریباً چھ آئی ایس افسر نے بھی داخلہ لیا ہے۔جن میںسابق ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر ایس سدھارتھ اور محکمہ کانکنی کے سکریٹری کارتیکیان صاحب(آئی اے ایس) وغیرہ بھی اردو سیکھ رہے ہیں۔اس سال سہ ماہی بھاشا سنگم کے تین شمارےکی اشاعت اب تک ہوچکی ہے۔ 29 اکابرین پرمونوگراف شائع چکے ہیں۔42 افراد پر مونوگراف شائع ہونے باقی ہیں۔ بقیہ مونوگراف کی اشاعت کی کارروائی چل رہی ہے۔ اسے شائع ہوجانے کے بعد جلد ہی نئے لوگوں پر مونو گراف لکھے جانے کی تجویز پرحکومت سے منظوری حاصل کرنے کیلئے اردو ڈائرکٹوریٹ پُر عزم ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ کئی سال سے التوا میں پڑے مسودہ پر اعانتی امداد کے لئے حکومت سے منظوری مل چکی ہے۔ حکومت نے دو سال کے لئے سلیکشن کمیٹی کی تشکیل بھی کردی ہے۔مالی سال 26-2025کے لئے سلیکشن کمیٹی کے ذریعہ منتخب کتابوں پر اعانتی رقم جلد ہی لوگوں کے اکائونٹ میں ٹراسفر کی جائے گی تاکہ وہ اپنی اردو کی کتابیں منظر عام پر لا سکیں۔اردو مشاورتی کمیٹی ، بہار کی تشکیل عمل میں آچکی ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی، بہار کے مشورے اور رہنمائی سے اردو ڈائرکٹوریٹ مزید فعال اور سرگرم کردار اداکرے گا۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ جشن اردو کے لئے بھی حکومت سے منظوری مل چکی ہے۔اگلے چھ مہینوں کے اندر ’’جشن اردو ‘‘کے انعقاد کی کارروائی کی جائے گی۔اعلیٰ سطحی انعامات اورموسوم انعامات بھی دئے جانے پر بھی حکومت سنجیدہ ہے۔ جلد ہی اس کی مثبت خبراردو عوام کے درمیان پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت اے سی پی، ایم اےسی پی، ریٹائرمنٹ بینیفیٹ اور پروموشن سمیت کئی اہم معاملے کو اردو ڈائرکٹوریٹ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ انجام تک پہنچایا۔انہوں نے بتا یاکہ ریاست میں مامور سبھی اردو عملوں کو BIPARDکے ذریعہ سرکاری دفاتر میں کام کرنےکی ٹریننگ دئے جانے کا آغاز ہوا ہے جو کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نےریاست کے تمام اضلا ع میں اردو کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً سبھی اضلاع میں فروغ اردو سمینار و مشاعرہ کا انعقاد کامیابی کے ساتھ منعقد کئے جا چکے ہیں۔ڈائرکٹر موصوف نے بہار کے اردو عوام سے مخلصانہ گذارش اور پیل کی کہ آپ ہمیں اپنا تعاون دیں۔ ہم اردو کی فلاح و بقا اور اس کے فروغ مزید بہتر سے بہتر قدم اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی آنے والے چند مہینوں میں بہار کے سبھی طرح کے سرکاری دفاتر میں اردو عملے بحال ہوں گے۔اردو آبادی کی ذمہ داری ہے کہ اپنی درخواستیں اردو میں دیں تاکہ یہ اردو عملے آپ کی درخواستوں کا ہندی ترجمہ کرکے آپ کے کاموں کوبخوبی انجام دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ اردو عوام کو بھی اردو کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر غور و فکر کرنی چاہئے، انہیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہم اردو کے فروغ اور تشہیر کے تئیں کتنا سنجیدہ ہے اور کتنی کوشش کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر موصوف نے اردو عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اردو کے تحفظ ، فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھروں میں بچوں کو اردو پڑھائیں۔ہر گھر میں ایک اردو پرچہ، رسالہ اخبار منگوائے جائیں۔ گھروں، دکانوں اور کاخانوں کے نام اردو میں لکھوائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہی خواہانِ اردو اگر چاہیںتو مساجد میں بھی اردو عوام سے اردو میں درخواست دینے کے لئے اعلان کروا سکتے ہیں کہ آپ اردو میں درخواست دیں ، آپ کا کام اسی سرعت اور تیزی کے ساتھ ہوگا جس طرح ہندی میں دینے سےہوگی۔دوسرے اجلاس میں پروفیسر شہاب ظفر اعظمی ، شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی ، پٹنہ، ڈاکٹر امجد رضا،پٹنہ، جناب عبد الرازق،پٹنہ، جناب غلام رسول قریشی، پٹنہ، کاظم رضا، پٹنہ، کامران غنی صبا، پٹنہ، اعجاز رسول، پٹنہ، محمد عتیق الرحمن ، پٹنہ نے اپنے نعتیہ کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔نعتیہ مشاعرہ کی نظامت محمد اسد ، اردو ڈائرکٹوریٹ نے کی۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر توقیر عالم، ڈاکٹر سرور حسین، انور الحسن وسطوی، اسرار عالم سیفی، ڈاکٹر شمع ناسمین،ڈاکٹر نصر نستوی،عرفان احمد بیلہاروی،ظفر صدیقی، مصلح الدین کاظمی، معین گریڈیہوی، اسحاق اثر،منیر سیفی، اثر فریدی ،ارشد رضا، جلیل اختر، نصراللہ نستوی، رونق شہری، چونچ گیاوی، میر سجاد، محمد شعبان، محمد انوار اللہ وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

’’میڈل لائو، نوکری پائو‘‘ اسکیم سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع
بہار

’’میڈل لائو، نوکری پائو‘‘ اسکیم سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•7 ویوز
اقلیتی نوجوانوںکیلئے ریاستی کوچنگ اسکیم کا دائرہ وسیع ، دو برسوں میں 1,043 امیدوار کامیاب
بہار

اقلیتی نوجوانوںکیلئے ریاستی کوچنگ اسکیم کا دائرہ وسیع ، دو برسوں میں 1,043 امیدوار کامیاب

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•8 ویوز
گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•6 ویوز