کوآپریٹو سیکٹر میں روزگار کے بے پناہ امکانات ہیں: وزیر
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 23 فروری(اے بی این ) کوآپریٹو سیکٹر میں روزگار کے بے پناہ امکانات ہیں۔کوآپریٹوکے توسط سے بڑی تعداد میں روزگار آئے گا۔ جلد ہی بہار سے کئی ٹیمیں گجرات بھیجی جائیں گی، وہاں دیکھا جائے گا کہ کوآپریٹوکے میدان میں کتنا بہتر کام ہوا ہے۔ گجرات میں کوآپریٹیو کے کامیاب کام کو بہار میں بھی نافذ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مل سکے۔ اس میں کوآپریٹو پر مبنی کاشتکاری سے متعلق امکانات کی تلاش بھی شامل ہے۔ کوآپریٹو پر مبنی کاشتکاری کے ذریعے روزگار کے مواقع کیسے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ کوآپریٹیو محکمہ کے وزیر ڈاکٹر پرمود کمار نے پیر کو محکمہ اطلاعات ورابطہ عامہ کے ’’کمیونیکیشن روم‘‘ میں منعقدکوآپریٹیو محکمہ کی پریس کانفرنس میں یہ جانکاری دی۔ انہوں نے میڈیا کو محکمہ کی مختلف حصولیابیوں سے آگاہ کیا۔ وزیر نے کہا کہ بہار میں کوآپریٹو پر مبنی کاشتکاری کے بے پناہ امکانات ہیں۔ پہلے یہاں کھیتی باڑی کے لیے بڑے رقبے ہوا کرتے تھے، اب یہاں کاشتکاری کے چھوٹی چھوٹی زمین ہیں۔ اس کے پیش نظر کوآپریٹو پر مبنی کاشتکاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ گیا میں تلکٹ کی بنانے کا ایک بڑا مرکز ہے۔ لیکن وہاں مدھیہ پردیش، تمل ناڈو سمیت دیگر ریاستوں سے تل آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کوآپریٹو پر مبنی کاشتکاری کی مدد سے تل کی پیداوار کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ا سٹوریج کے شعبے میں بھی کام کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر تین کوآپریٹو سوسائیٹیاں بنائی گئی ہیں جن میں بھی بڑی تعداد میں ممبران بہار سے ہیں۔ ہم بہار میں کوآپریٹو سطح پر کاشتکاری کے امکانات کو بھی تلاش کر رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں کوآپریٹیو محکمہ کے سکریٹری دھرمیندر سنگھ نے کہا کہ آج بہار میں تقریباً 28 ہزار کوآپریٹو سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ تعداد بہت زیادہ ہونے جا رہی ہے۔ کامفیڈ کی طرف سے ہر گاؤں میں ایک کوآپریٹو سوسائٹی بنائی جا رہی ہے۔ شہد کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بلاک سطح پر 144 پرائمری کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔ مکھانہ پروڈیوسر کوآپریٹو سوسائٹیاں بھی بنائی جا رہی ہیں۔ کوآپریٹو محکمہ دیہی معیشت میں روزگار پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔پیکسوں کو ملٹی سروس سینٹر کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے۔4,477پیکسوں کو کمپیوٹرائزڈکیا جاچکا ہے۔کوآپریٹو سوسائٹیوں کے صدور کو ایک ہفتہ کی ٹریننگ کے لیے ریاست سے باہر کے معروف اداروں میں بھیجا جا رہا ہے۔وزیر نے کہا کہ خریف مارکیٹنگ سیزن26- 2025 میں اب تک 6,879 کمیٹیوں کے ذریعے 4.28 لاکھ کسانوں سے 29.22 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدا گیا ہے۔ اس سیزن میں دھان کی خریداری کا ہدف 36.85 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ مجموعی ہدف کا 79.30 فیصد دھان خریدا جا چکا ہے۔ کسانوں کو ان کے کھاتوں میں کم از کم امدادی قیمت کے طور پر 6,400 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔