واہی ؔنے طنزو مزاح میں جو گل بوٹھے کھلائے وہ قابل قدر ہیں: مشتاق احمد نوری
Awaz E Bihar••0 ویوز•7 منٹ پڑھیں
پٹنہ(پریس ریلیز)رضا نقوی واہی کا شمار طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔رضا نقوی واہیؔ اردو طنزیات سخن کا سب سے بڑا نام ہے۔ وہ بہت ہی مخلص اور صاف گوآدمی تھے۔قدرت نے انہیں انکساری اور مہمان نوازی جیسے عظیم اوصاف سے نوازا تھا۔واہی نے شاعری کا آغاز سنجیدہ کلام سے کیا تھا لیکن دھیرے دھیرے وہ طنز ومزاح کی طرف آگئے۔انہوں نے طنزیات کو کسی کی دل آزاری کا وسیلہ نہیں، بلکہ شعروادب اور معاشرے کی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دلانے کا وسیلہ بنایا۔ واہی کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔وہ چھوٹوں اور نئے لکھنے والوں کی خوب پزیرائی کرتے تھے ۔ان کے مزاح میں زیرلب تبسم کی جو کیفیت ہے، اسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ بیشک واہیؔ جیسے فن کارصدیوں تک اپنے کارناموں سے زندہ رہتے ہیں۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون،چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد رضا نقوی واہی یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم اور اسٹیج پر موجودشرکاء نے شمع افروزی کے ذریعہ کیا۔تقریب کی صدارت مشتاق احمد نوری ، سابق سکریٹری بہار اردو اکادمی ، پٹنہ نے کی۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے آفاق احمد خاں، معزز رکن، بہار قانون ساز کونسل، پٹنہ شریک ہوئے۔انہوں نے ڈائرکٹر ایس ایم عالم کے تئیں اظہار تشکر کرتےہوئے کہا کہ اردو کو فروغ دینے اور عوام سے جوڑنے کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت منعقد کئے جانے والی یادگاری تقریبات اور اردو ڈائرکٹوریٹ ،حکومت بہار کی دیگرکارگزاریوں کی ستائش کی۔ انہوں نے فروغ اردو کیلئے حکومت اور اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارگزاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے آٹھ سو اردوعملے بحال ہو چکے ہیں اور جلد ہی دوہزار کے قریب مزید اردو عملوں کی بحالی عمل میں آنے والی ہے۔انہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ ،حکومت بہار کی سطح سے چلائے جا رہے آن لائن اردو لرننگ پروگرام کی ستائش کی اور کہا کہ اس سے صرف بہار ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی دیگر ریاستوں کے غیر اردو داں اردو سیکھ رہے ہیں۔ یقینا اردو کےلئے حکومت بہار کا یہ قابل تعریف قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو شیکھر سمان ، موسوم انعامات دئے جانے کی کارروائی بھی چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت اب تک تقریباً19یادگاری تقریبات منعقد کئے جا چکے ہیں اور اردو مسودے پر مالی امداد دینے کی کارروائی بھی تیزی سے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ ،حکومت بہار کے تحت فروغ اردو کےلئےکئے جارہے کاموں میں میرا تعاون ہمیشہ حاصل رہے گا ۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مشتاق احمد نوری نے کہا کہ رضا نقوی واہی کی شخصیت، ظرافت اور مزاح نگاری قابل قدر اور قابل اعتراف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واہی صاحب میںتخلیقی صلاحیتیں بھر پور تھیں ۔ ان کا مشاہدہ بہت زیادہ تھا۔ طنزو مزاح میں جو گل بوٹھے کھلائے تھے وہ سبھی ادیبوں کے لئے خاص اہمیت رکھتےہیں۔ صدر موصوف نے رضا نقوی واہی کی معیت میں گذارے ہوئے کچھ یاد گار ، دلچسپ اور مزاحیہ پلوں کا ذکر مزاحیہ انداز میں کیا۔انہوں نے کہا کہ واہی صاحب کی شاعری ان کے مختلف مجموعوں میں تکرار کے ساتھ شامل اشاعت ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے مختلف شعری مجموعوں سے واہی کے سبھی کلاموں کو یکجا کرکے اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے کلیات واہی شائع کرنے کی سعی کی جائے۔ اس سے قبل محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کی طر ف سے استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ،ڈائرکٹر ،اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کاوالہانہ استقبال کیا۔ڈائرکٹر موصوف نے کہاکہ سید محمد رضا نقوی واہی کا شمار عصر حاضر کے بہترین طنز و مزاح نگاروں میںہوتا ہے۔ اُنہوں نے اپنی بے مثال طنز و ظرافت اور اپنے منفرد طرز سخن کے ذریعہ بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کی اور مزاحیہ شاعری کے باب میں پوری دنیا میں دبستانِ بہار کا نام روشن کیا۔واہی کے کلام میں وسعت مشاہدہ ، تہذیبی و عصری شعور اور اصلاحی تڑپ کی کارفرمائی بڑے فن اور سلیقے سے نظر آتی ہے۔ہندستان میں جنگِ آزادی کے دوران واہی کے قلم نے مجاہدین آزادی کے حوصلوں میں نیا جوش بھرنے کا کا م کیا۔اُن کی نظم ’مانجھی‘ کی جوش انگیزی سے خائف ہو کر انگریزوں نے اِس پر پابندی لگا دی تھی۔بلا شبہ رضا نقوی واہی طنز و مزاح کے ایک اعلیٰ مرتبت اور مُقتدِر شاعر ہیں۔ طنز و مزاح نگاری کی تاریخ رضا نقوی واہی کی شمولیت کے بغیر ادھوری اور نا معتبر سمجھی جائے گی۔ ریاست بہار کو ایسے رفیع القدر اور عالی مقام شاعر پر ناز ہے۔واہی ایک بڑے شاعر ہی نہیں، بلکہ بڑے خلیق ، منکسر المزاج، ملنسار اور ہر دلعزیز انسان تھے۔اُن کی مہمان نوازی مشہور تھی۔ ایک بار جو شخص اُن سے مل لیتا اُن کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔واہی غزل ،نوحے اور قصیدے لکھے۔ سنجیدہ اور ظریفانہ دونوں طرح کی نظمیں کہیں ،لیکن آہستہ آہستہ وہ طنز و مزاح کی طرف مائل ہو گئے۔رضا نقوی واہی ایک صاحب طرز نثر نگار بھی تھے۔اُنہوں نے درجنوں تنقیدی مضامین لکھے جو مُلک کے معتبر رسائل میں شائع ہوئے ۔ڈاکٹر صفدر امام قادری، سابق صدر شعبہ اردو ،کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس ، پٹنہ نےکہا کہ رضا نقوی واہی کواردو کے مشہور ظرافت نگار کی حیثیت سے ہر کوئی جانتے ہیں مگر ان کی تہذیبی اور مجلسی حیثیت کے سلسلے میں بھی انہیں جانکاری ہونی چاہئے۔ان کی گفتگوکا انداز،ان کے زبان کا شعوراور محققانہ معلومات کا بھی علم ہونا چاہئے۔انہوں نےدبستان عظیم آباد کو وقیع بنانے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔وہ ہر طرح کی شاعر ی اور نثر نگاری پر قادر تھے۔وہ اپنے عصر میں مرکزی حیثیت کے حامل تھے۔رضا نقوی واہی ایسے شاعر تھے جن کی طنزیہ و مزایہ شاعری نے ہند و پاک میں ظرافت نگاری کو مقبولیت بخشی۔ڈاکٹر عبد الحئی ، صدر شعبہ اردو، گیا کالج، گیانے کہا کہ رضا نقوی واہی اردو ادب میں طنز و مزاح کے ان منفردشاعروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔واہی صاحب میں طنز و ظرافت کے ساتھ ایک سنجیدہ شخص بھی پوشیدہ تھا۔ واہی کا طنز یہ کلام سطحی نہیں بلکہ وہ قاری کو ہنساتے ہنساتے آئینہ بھی دکھا دیتے تھے۔ظریفانہ شاعری میںاکبر الہ آبادی اور ظریف لکھنوی کے بعد تیسرا بڑا نام رضا نقوی واہی کا نام آتا ہے۔ واہی کا مجموعہ شعرستان ایک ایسا مجموعہ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کی شاعری میں تخیل کی بلند پروازی کم اور مشاہدے کے عناصر زیاد ہ ہیں۔یوں تووہ بطور شاعر مشہور ہوئے مگر ان کے نثری کارنامے بھی کم نہیں ہیں۔ڈاکٹر نرجس فاطمہ ، گیسٹ لکچرر ، پٹنہ کالج نے رضا نقوی واہی کی ظریفانہ شاعری پر مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ رضا نقوی واہی کی شاعری کےاسلوب میں ظرافت کے ساتھ شائستگی بھی ملتی ہے۔ان کی شاعری میں عصری آگاہی کے ساتھ ساتھ سیاسی آگاہی کا بھی ذکر ہے۔دوسرے اجلاس میں مشہور و معروف شاعر خورشید اکبر، پٹنہ کی صدارت اور معروف ادیب و افسانہ نگار فخرالدین عارفی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔خالد عبادی ،ممتاز نیّر، احمد شاذ قادری ،پرویز قاسمی ،حسن امام رضوی ،شاہد اختر،سنجے کمار کندن ،اویناش امن اورآرتی کماری نےاپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نےمنفرد انداز اور منفرد لب ولہجے میںخوبصورت غزل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، شائستہ انجم نوری، منیر سیفی، ظفر صدیقی،سید پرویز انجم،مصلح الدین کاظم، ماسٹر اسید پرسونوی،صابر سہرساوی،عرفان بیلہاروی،سلطان آزاد، مرغوب اثر فاطمی، نیاز ندر فاطمی، شمیم شعلہ،شمیم الدین ،چونچ گیاوی،نصر نستوی وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔