آبنائے ہرمز میں اب پہلے جیسی بحری آمدورفت نہیں ہوگی: عراقچی
Awaz E Bihar
••2 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج پہلے سے مختلف نہیں ہوں گے اور خطے میں 40 روزہ جنگ سے پہلے کی صورتحال اب بحال نہیں ہوگی۔ عراقچی نے اتوار کو ایرانی وزارت خارجہ کے مرکز برائے سیاسی و بین الاقوامی مطالعات میں سابق وزیر خارجہ کمال خرازی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران نے واضح کیا ہے کہ خطے کے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ورنہ علاقائی استحکام ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ خطے میں بنیادی اور تزویراتی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں اور 40 روزہ جنگ سے پہلے کی صورتحال دوبارہ بحال نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اس تبدیلی میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے، جہاں بحری آمدورفت اور انتظامات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کئی دہائیوں تک کھلی رہی اور ایران و عمان نے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے سلامتی، تحفظ اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا، تاہم موجودہ جنگ نے صورتحال تبدیل کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اور بات چیت جاری رہے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان دنوں دوبارہ جنگ کی باتیں ہورہی ہیں، لیکن وہ جنگ کے بعد کے مرحلے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر منطق سے کام لیا گیا تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملہ یا جارحیت نہیں کی جائے گی۔ عراقچی نے کہا کہ مخالف فریق دو مرتبہ یہ تجربہ کرچکا ہے اور اس کے نتائج دیکھ چکا ہے، اس لیے اگر وہ اسے دوبارہ دہرانا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس بار بھی نتائج پہلے سے مختلف نہیں ہوں گے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی قوم امریکی فوجی دھمکیوں اور دباؤ سے مرعوب نہیں ہوگی اور ایران کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا دشمن کے تصور سے بھی بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔ قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ یا قتل کی دھمکیاں ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتیں۔ ان کے مطابق جب تک امریکہ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، دھونس و دھمکیاں ترک نہیں کرتا اور اپنے توڑے ہوئے وعدوں کی عملی طور پر تلافی نہیں کرتا، تہران کے نزدیک امریکی دعووں کی کوئی ساکھ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیار ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کا ایسا جواب دے گا جس کا دشمن تصور بھی نہیں کرسکتا۔ قالیباف نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے اپنے حقوق اور مفادات سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دریں اثنا، ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کی فضائی حدود میں ایک امریکی ساختہ ایل یو سی اے ایس ڈرون مار گرایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واقعے میں ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، تاہم اس حوالے سے مزید تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایرانی فضائی دفاع نے امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا: فوج ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایرانی فوج کا یہ دعویٰ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے سامنے آیا۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ مار گرایا گیا ڈرون امریکی ساختہ ''ایل یو سی اے ایس'' تھا، جو نسبتاً کم لاگت والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے اور اسے فوجی کارروائیوں میں حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایرانی فوج نے تاہم واقعے کی مزید تکنیکی تفصیلات، ڈرون کے مشن یا اسے مار گرانے کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔