ایران کی امریکہ کو فوجی کارروائی کے سنگین نتائج کی وارننگ
Awaz E Bihar
••9 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی تمام صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے اور اگر تنازع جاری رہا تو وہ اپنے جوابی حملوں میں شدت لانے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، رضائی نے جمعرات کو کہااگر سفارت کاری سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے تو ہم سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ایران کے پاس جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔رضائی نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کے عالمی توانائی بازاروں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور قیمتوں و رسد میں کئی برس تک بے یقینی برقرار رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہاموجودہ صورت حال برقرار رہنے کے اسٹریٹجک نتائج برآمد ہوں گے، جن میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ توانائی کی منڈیاں اگلے تین سال تک پرسکون نہیں ہوں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ دوسری جانب تہران نے ایک ایسے ہتھیار کی نقاب کشائی کی دھمکی دی ہے، جسے وہ تمام بموں کا باپ قرار دیتا ہے۔ اس بیان سے مغربی ایشیا میں تنازع مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تنازع کے ابتدائی مراحل میں اپنی بعض فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے گریز کیا تھا اور لڑائی کی شدت کے مطابق مزید وسائل میدان میں اتار سکتا ہے۔انہوں نے کہاہم نے گزشتہ مراحل میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔ ہم نے جنگ کی شدت کے تناسب سے مزید صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ہے اور اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔ رضائی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس تنازع سے علاقائی تعلقات کی صورت حال ایران کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، خلیجی ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں اور خطے میں اپنے فوجی ٹھکانوں کے تحفظ کے لیے واشنگٹن کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہااس جنگ کے جاری رہنے سے تعلقات کی حرکیات ایران کے حق میں تبدیل ہو گئی ہیں، کیونکہ خلیجی ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض خلیجی ممالک امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سلامتی کی ضمانتوں کی افادیت پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ان ممالک کو توقع تھی کہ واشنگٹن ان کے علاقوں کے ساتھ ساتھ اپنے فوجی اڈوں کا بھی دفاع کرے گا۔