پٹنہ، 14 اکتوبر: بہار کے ویشالی ضلع کے راگھوپور علاقے میں گنگا ندی میں کشتی پلٹنے کا دردناک حادثہ اپنے پیچھے غم و اندوہ کی ایسی داستان چھوڑ گیا ہے، جس نے پورے علاقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ منگل کی رات پیش آئے اس حادثے میں 13 بچوں کی موت سے کئی خاندانوں کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔ جن بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور کھلونے ہونے چاہئیں تھے، ان کی لاشیں دیکھ کر اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اطلاعات کے مطابق، بچے تیرھویں کے دعوتی پروگرام میں شرکت کے لیے گنگا ندی پار کرکے جا رہے تھے۔ رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے 25 سے زائد افراد سے بھری کشتی ندی کی تیز لہروں کے درمیان بے قابو ہوکر پلٹ گئی۔ کشتی میں سوار افراد پانی میں ڈوبنے لگے اور موقع پر چیخ و پکار مچ گئی۔ حادثے میں جاں بحق بچوں کی عمریں تقریباً 6 سے 18 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ رام پرویش رائے کے گھر میں ماتم اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو رام پرویش رائے عرف راجا کے خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت ہے۔ جس آنگن میں کل تک بچوں کی ہنسی اور کھیل کود کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب ماتم کا ماحول ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک ہی خاندان کی سات بچیوں کی موت نے اہل خانہ کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ساتھ کئی جنازے اٹھنے کا منظر دیکھ کر گاؤں کے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ صدمہ ناقابل تلافی ہے۔ والدین اور رشتہ دار اپنے پیاروں کو کھونے کے غم میں نڈھال ہیں، جبکہ پورے گاؤں میں سوگ کی کیفیت ہے۔ 15 سالہ چاندنی کی بہادری نے بچائی جانیں اس حادثے کے درمیان 15 سالہ چاندنی کماری کی بہادری کی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کشتی پلٹنے کے بعد چاندنی نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر تیر کر اپنے سگے بھائی کے بچوں کو پانی سے باہر نکالنے میں مدد کی۔ اس کی ہمت اور حاضر دماغی نے اس خوفناک صورت حال میں امید کی ایک کرن روشن کی۔ حادثے کے دوران اپنی جان بچانے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے ندی کی تیز دھار اور اندھیرا بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ ایسے میں چاندنی کی کوششوں کو مقامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ این ایم سی ایچ میں زیر علاج بچوں کی حالت تشویش ناک حادثے کے بعد بعض بچوں کو علاج کے لیے پٹنہ کے نالندہ میڈیکل کالج اسپتال (این ایم سی ایچ) میں داخل کرایا گیا۔ خبر میں شعبۂ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر اکھلیش کمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیر علاج بچوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک تھی۔ وہ شدید نمونیا اور صدمے سے متاثر تھے۔ زخمی بچوں کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم نگرانی کر رہی ہے۔ تاہم، ان کی موجودہ طبی حالت کے بارے میں تازہ تصدیق ضروری ہے۔ ریسکیو آپریشن اور حفاظتی انتظامات پر سوال حادثے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی جانب سے بچاؤ اور تلاش کی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس سانحے نے ایک بار پھر دریا پار کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کی حفاظت، مسافروں کی تعداد اور ضروری حفاظتی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی سطح پر کشتی کی حالت اور اس پر سوار افراد کی تعداد کو لے کر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حادثے کی اصل وجہ اور ممکنہ انتظامی لاپروائی کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔راگھوپور کا یہ سانحہ کئی خاندانوں کے لیے ایسا زخم چھوڑ گیا ہے، جسے بھرنے میں طویل وقت لگے گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب امداد فراہم کی جائے، زخمیوں کے علاج کو یقینی بنایا جائے اور حادثے کی وجوہات کی جانچ کرکے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔