بہار پولیس میں بڑا فیصلہ، 49 انسپکٹروں کو ڈی ایس پی کا اضافی چارج
Awaz E Bihar
••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ: بہار حکومت نے پولیس محکمہ میں ترقی اور اعلیٰ عہدوں کی ذمہ داری سونپنے کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ (پولیس شاخ) نے 49 پولیس انسپکٹروں اور مساوی عہدوں پر تعینات افسران کو بہار پولیس سروس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کے بنیادی عہدے کا عارضی انتظامی چارج سونپنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس فیصلے سے ریاست کے مختلف اضلاع میں تعینات پولیس افسران کو فائدہ ہوگا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ فیصلہ انتظامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس کے لیے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی 13 اکتوبر 2023 کی نوٹیفکیشن کے تحت نافذ عارضی انتظامی چارج سے متعلق قواعد اور 11 جون 2026 کو جاری معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) کی دفعات کا سہارا لیا گیا ہے۔ افسران کو ان کے کیڈر میں بنیادی عہدے پر سینیارٹی کی بنیاد پر اعلیٰ عہدے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس حکم سے نالندہ، پٹنہ، بھوجپور، چھپرہ، جہان آباد، گیا، مظفرپور، ویشالی، بیگوسرائے، سمستی پور، مدھوبنی، کٹیہار، سپول، مشرقی چمپارن، روہتاس، کشن گنج، سیوان، سہرسہ، ارریہ، بکسر اور اورنگ آباد سمیت مختلف اضلاع سے وابستہ پولیس افسران مستفید ہوں گے۔ جاری فہرست میں ارون کمار، شالیگرام کمار، سنجے کمار سنگھ، بھویش کمار منڈل، جتیندر کمار سنگھ، وجے کمار، سنتوش کمار سنگھ، وشورنجن سنگھ، ششی بھوشن چودھری، دھننجے کمار، سنگیتا کشواہا، سیما کماری، سومیہ پریہ درشی، ابرار احمد خاں اور کماری وندنا سمیت متعدد افسران کے نام شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ افسران کے موجودہ عہدوں کو اگلے حکم تک ڈی ایس پی (بنیادی زمرہ) کے عہدے اور پے لیول 9 کے مطابق عارضی طور پر اعلیٰ سطح پر رکھا جائے گا۔ تاہم، یہ انتظام عارضی ہوگا اور مقررہ قواعد و شرائط کے تابع رہے گا۔ اسے مستقل ترقی نہیں سمجھا جائے گا۔ حکومت کے حکم کے مطابق، متعلقہ پولیس افسران کو ڈی ایس پی کے عہدے کا چارج سنبھالنے کی تاریخ سے مالی فوائد ملیں گے۔ یعنی صرف نوٹیفکیشن جاری ہونے سے مالی فائدہ نہیں ملے گا، بلکہ اس کے لیے اعلیٰ عہدے کی ذمہ داری سنبھالنا ضروری ہوگا۔ گورنر بہار کے حکم سے جاری اس نوٹیفکیشن پر محکمہ داخلہ کے انڈر سکریٹری رتنیش کمار کے دستخط ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے کو پولیس محکمہ میں اعلیٰ عہدوں کی ذمہ داریاں تقسیم کرنے اور انتظامی ضرورتوں کو پورا کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔