جہان آباد قتل عام معاملہ: ثبوتوں کی کمی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ غائب، 9 ملزمین بری
Awaz E Bihar
••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ: بہار کے جہان آباد قتل عام معاملے میں پٹنہ ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 9 ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیش میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے اس معاملے میں پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے متعلقہ افسران کی ذمہ داری طے کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔یہ واقعہ اگست 1996 میں پیش آیا تھا، جب آبی وسائل اور کھیتوں کی آب پاشی سے متعلق تنازع کے دوران چار افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں طویل عدالتی کارروائی کے بعد ٹرائل کورٹ نے اپریل 2023 میں ملزمین کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ملزمین نے پٹنہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران پایا کہ چاروں مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی ریکارڈ کرائی گئی۔ اس کے علاوہ جائے وقوع سے اہم شواہد جمع کرنے اور ان کی فارنسک جانچ کرانے میں بھی خامیاں رہیں۔ عدالت نے ان کو مقدمے کے اہم پہلوؤں میں شمار کیا۔ عدالت نے گواہوں کی جانب سے رات کے اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی میں ملزمین کی شناخت کے دعوے پر بھی غور کیا۔ شناخت پریڈ نہ کرائے جانے اور دیگر خامیوں کے پیش نظر استغاثہ کا معاملہ کمزور پایا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی سنگین جرم میں محض الزام یا شبہ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ جرم ثابت کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد ضروری ہیں۔عدالت نے بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی کہ سینئر پولیس افسران پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر تفتیش میں ہوئی خامیوں کی جانچ کی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مناسب انتظامی کارروائی کی جائے۔ اس کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کیے جانے کی اطلاع ہے۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے سنگین جرائم کی تفتیش میں شواہد جمع کرنے، فارنسک جانچ اور گواہوں کے بیانات کی اہمیت کو پھر اجاگر کیا ہے۔ عدالت نے ملزمین کو ثبوتوں کی کمی کے باعث بری کیا، تاہم تفتیش میں لاپروائی کی جانچ کی ہدایت دے کر متعلقہ حکام کی جواب دہی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔