بدھ، 14 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
راگھوپور میں کشتی حادثہ، 13 افراد کی موت سے کہرام؛ خستہ حال سرکاری کشتی کے استعمال کا الزام
راگھوپور میں کشتی حادثہ، 13 افراد کی موت سے کہرام؛ خستہ حال سرکاری کشتی کے استعمال کا الزام — photo 2
راگھوپور میں کشتی حادثہ، 13 افراد کی موت سے کہرام؛ خستہ حال سرکاری کشتی کے استعمال کا الزام — photo 3
1/3
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

راگھوپور میں کشتی حادثہ، 13 افراد کی موت سے کہرام؛ خستہ حال سرکاری کشتی کے استعمال کا الزام

Awaz E Bihar
•14 اکتوبر، 2026 کو 08:25 AM•4 ویوز•4 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 14 اکتوبر: بہار کے ویشالی ضلع کے راگھوپور دیارا علاقے میں گنگا ندی میں کشتی پلٹنے سے 13 افراد کی موت کے بعد پورے علاقے میں ماتم چھایا ہوا ہے۔ مہلوکین میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔ اس حادثے نے کئی خاندانوں کو اجاڑ دیا ہے، جبکہ متاثرہ گھروں میں چیخ و پکار اور غم کا ماحول ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ حادثہ منگل کی شام رام پور شیام چند گاؤں کے قریب پیش آیا، جب کشتی پر سوار افراد گنگا پار کرکے دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ اسی دوران کشتی بے قابو ہو کر ندی میں پلٹ گئی اور اس پر سوار افراد پانی میں ڈوبنے لگے۔ حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی سطح پر بچاؤ مہم شروع کی اور انتظامیہ کو اطلاع دی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی حکام موقع پر پہنچے۔ مقامی لوگوں، غوطہ خوروں اور ریسکیو ٹیموں کی مدد سے ندی میں پھنسے افراد کی تلاش شروع کی گئی۔ رات کے اندھیرے اور ندی کی صورت حال کے باعث بچاؤ مہم میں دشواری پیش آئی۔ بعد ازاں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے دوبارہ آپریشن شروع کرنے کی تیاری کی گئی۔حادثے میں مہلوکین کی تعداد 13 بتائی گئی ہے، تاہم کشتی پر سوار افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس لیے مسافروں کی صحیح تعداد اور تمام افراد کے محفوظ ہونے کی حتمی صورت حال کی تصدیق ضروری ہے۔
حادثے کے بعد مقامی باشندوں نے الزام لگایا کہ حادثے کا شکار کشتی سرکاری تھی اور اس کی حالت خستہ تھی۔ اس الزام نے کشتیوں کی دیکھ بھال، مسافروں کی حفاظت اور انتظامی نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم کشتی کی ملکیت، اس کی حالت اور حادثے کی اصل وجہ کی سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دریا پار کرنے کے لیے کشتی ہی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے کشتیوں کی باقاعدہ جانچ، لائف جیکٹ کی دستیابی اور حفاظتی اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ حادثے کے بعد یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داری طے کی جائے۔بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کو چار چار لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو راحت اور بچاؤ کے کام میں تیزی لانے اور زخمیوں کے بہتر علاج کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم قومی راحت فنڈ سے مہلوکین کے قریبی اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔راگھوپور کے رکن اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے حادثے پر افسوس ظاہر کیا اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرکے راحت و بچاؤ کے کاموں کی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مدد اور زخمیوں کے علاج کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔دوسری جانب رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے بھی حادثے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ راگھوپور جا کر متاثرین کی مدد کریں گے۔ پپو یادو نے حکومت پر عوام کی مشکلات سے بے اعتنائی کا الزام بھی لگایا۔
راگھوپور کشتی حادثے نے ایک بار پھر دریا پار رہنے والے دیہی علاقوں میں محفوظ آمدورفت کے انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر کشتی کی خستہ حالی یا حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ انتظامی جواب دہی کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے۔
فی الحال متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ فراہم کرنا، لاپتہ افراد کے بارے میں حتمی معلومات حاصل کرنا اور حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانا انتظامیہ کی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ مقامی لوگوں کو امید ہے کہ اس سانحے کے بعد دریا میں چلنے والی کشتیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ مستقبل میں ایسے دردناک حادثات سے بچا جا سکے۔
صدر جمہوریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ بہار کے ویشالی ضلع میں کشتی حادثے میں بچوں کی موت کی خبر انتہائی دل دہلا دینے والی ہے۔ انہوں نے غم زدہ خاندانوں کے تئیں گہری ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی تمنا کی۔صدر جمہوریہ کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حادثے نے دریا میں محفوظ آمدورفت اور کشتیوں کے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

ایک ہی گھر سے اٹھیں سات بچیوں کی ارتھیاں
بہار

ایک ہی گھر سے اٹھیں سات بچیوں کی ارتھیاں

Awaz E Bihar•14 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•2 ویوز
بہار پولیس میں بڑا فیصلہ، 49 انسپکٹروں کو ڈی ایس پی کا اضافی چارج
بہار

بہار پولیس میں بڑا فیصلہ، 49 انسپکٹروں کو ڈی ایس پی کا اضافی چارج

Awaz E Bihar•14 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز
گوپال گنج: گیس سلنڈر میں آگ لگنے سے 17 افراد جھلسے، 2 لوگوں کی موت، 6 کی حالت سنگین
بہار

گوپال گنج: گیس سلنڈر میں آگ لگنے سے 17 افراد جھلسے، 2 لوگوں کی موت، 6 کی حالت سنگین

Awaz E Bihar•14 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•4 ویوز