برازیل کے معروف بائیں بازو کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے سخت انتخابی مقابلے کے بعد دوبارہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے دائیں بازو کے حریف فلاویو بولسونارو کو شکست دی ہے، جنہوں نے ابھی تک اپنی ہار تسلیم نہیں کی ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، برازیل کی سپریم الیکشن کورٹ نے بتایا کہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد لولا کو 51.79 فیصد ووٹ ملے، جبکہ بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔تاہم، بولسونارو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے ووٹنگ کا وقت 2 گھنٹے بڑھائے جانے کو غیر واضح قرار دیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی انتخابی ٹیم اور ان کے حریف کی ٹیم، دونوں نے ہی پولنگ مراکز کو زیادہ دیر تک کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے برازیلیا میں اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ انتخابات منسوخ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔اس کے باوجود لولا اور ان کے حامی اس کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ وہ اسے تاریخی کامیابی اور ایک حیرت انگیز تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔صدارتی انتخابات میں لولا کی یہ چوتھی کامیابی ہے۔ وہ جنوری 2003 سے دسمبر 2010 تک 2 میعاد کے لیے صدر رہ چکے ہیں اور جنوری 2023 سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہیں۔ تاہم، اتوار کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخاب میں ان کی کامیابی کا راستہ آسان نہیں تھا۔4 اکتوبر کو پہلے مرحلے میں بولسونارو نے لولا کو شکست دی تھی اور بہت سے لوگوں کو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ صرف 3 ہفتوں میں انتخابی نتائج کو پلٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔لولا نے لاطینی امریکہ میں جاری اس وسیع رجحان کو بھی چیلنج کیا ہے، جس کے تحت ووٹروں نے برسراقتدار رہنماؤں کو مسترد کرکے دائیں بازو کی نظریات کی طرف رخ کیا ہے۔ اس پورے خطے میں ارجنٹینا، چلی اور کولمبیا جیسے بڑے ممالک میں اب قدامت پسند رہنما اقتدار میں ہیں۔ سابق دھات ساز مزدور لولا، جو 1989 میں پہلی بار صدارتی انتخاب لڑنے کے بعد سے برازیل کی بائیں بازو کی سیاست کا سب سے نمایاں چہرہ رہے ہیں، کو 2003 میں پہلی بار اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک کے سب سے مشکل سیاسی حالات کا سامنا ہے۔5 جنوری 2027 سے شروع ہونے والی ان کی نئی میعاد ایسے وقت میں شروع ہوگی جب انہیں ملک کے اندر اور بیرون ملک دونوں محاذوں پر بڑی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مخالفت بھی شامل ہے۔