نئی نسل کی ترقی کیلئے تعلیم کو اولین ترجیح اور مضبوط ہتھیار بنانے کی ضرورت: نظرعالم
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
درسِ مشکوٰۃ شریف میں امیرِشریعت، تعلیمی قیادت اور سیاسی و سماجی شخصیات کی باوقار شرکت پٹنہ: مرکزالعلوم اینگلو عربک اکیڈمی، نہسہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں سالانہ تعلیمی و اختتامی اجلاس کے ساتھ آخری درسِ مشکوٰۃ شریف کا انعقاد نہایت شاندار اور باوقار انداز میں عمل میں آیا۔ اس باوقار تقریب میں جناب نظرعالم، رکن جنتادل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اور صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے بطور مہمان شرکت کی۔اجلاس میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت حضرت مولانا انیس الرحمٰن قاسمی صاحب، الکریم یونیورسٹی اور کٹیہار میڈیکل کالج کے چیئرمین احمد اشفاق کریم صاحب، روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ کے مالک اشرف فرید صاحب، روزنامہ امین پٹنہ کے مالک نوشاد صاحب, مفتی سہیل قاسمی صاحب (امارتِ شرعیہ کے صدر)، شیام رجک جی (پھلواری شریف ایم ایل اے)، خالد انور صاحب (ایم ایل سی)، حافظ ابوشحمہ صاحب، مولانا اسعد رشید ندوی صاحب، ذکی احمد دلّو صاحب سمیت بڑی تعداد میں سیاسی و سماجی رہنما اور معزز علمائے کرام شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں جناب نظرعالم نے کہا کہ بچوں کی شروعاتی تعلیم ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد ہے، جو کبھی مکتبی نظام کے ذریعے فراہم کی جاتی تھی، مگر افسوس کہ آج یہ نظام بڑی حد تک بند ہوچکا ہے۔ ایسے میں مولانا شبلی قاسمی صاحب کی جانب سے مرکزالعلوم اینگلو عربک اکیڈمی جیسے اداروں کا قیام نہایت قابلِ تحسین ہے، جو بچوں کو ابتدائی سطح پرصحیح سمت اور مضبوط تعلیمی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے اداروں کو کھل کر تعاون نہیں مل پاتا، حالانکہ ان کے بانی اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کی بھرپور حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔مرکزالعلوم اینگلو عربک اکیڈمی، نہسہ، پھلواری شریف، پٹنہ ایک ہمہ جہت تعلیمی ادارہ ہے جہاں دینی و عصری تعلیم کا مشترکہ حسین امتزاج پیش کیا جاتا ہے۔ ادارہ میں عالمیت (عالم کورس) انٹرمیڈیٹ، حفظِ قرآن، میٹرک اور جونیئر اسکولنگ کی تعلیم دی جاتی ہے، تاکہ طلبہ کو ابتدائی سطح سے اعلیٰ دینی و عصری تعلیم تک یکساں اور مضبوط بنیاد فراہم ہوسکے۔ ادارہ کا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو علم، کردار اور شعور کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔جناب نظرعالم نے مزید کہا کہ قوم کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ تعلیم میں پیچھے رہ جانا ہے۔ حکومتی و ایجنسی رپورٹس کے مطابق صرف ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد مسلم بچے ہی معیاری تعلیم سے جڑے ہوئے ہیں، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ جب تک ہم تعلیم کو اپنی اولین ترجیح اور مضبوط ہتھیار نہیں بنائیں گے، نہ ہماری نئی نسل آگے بڑھ سکے گی اور نہ ہی سماجی سطح پر مثبت تبدیلی ممکن ہوپائے گی۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ ایسے اداروں کا کھل کر تعاون کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر ادارہ کی مسلسل ترقی، تعلیمی معیار کے فروغ اور طلبہ کی ہمہ جہت کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔