گورنر کے خطاب میں ہر طرف ہریالی لیکن حقیقت اس سے برعکس : تیجسوی یادو
Awaz E Bihar••1 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 2 فروری (اے بی این)۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن گورنر عارف محمد خان کے خطاب پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے گورنر کے خطاب کو حکومت کی طرف سے "وہی پرانی تقریر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ زمینی حقیقت سے بہت دور ہے۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ گذشتہ 10 برسوں سے ایوان میں ہیں، اس دوران چاہے کوئی بھی گورنر عہدہ پر رہا ہو، سب نے وہی تقریر پڑھی ہے جو حکومت نے دی تھی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ گورنر کے خطاب میں ہر جگہ ہریالی اور ترقی کی عکاسی ہوتی ہے، لیکن بہار میں اصل صورتحال بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تقریر میں جن اسکیموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے بہت سی اسکیمیں ہیں جو اقتدار میں آنے سے پہلے راشٹریہ جنتا دل کی اسکیموں سے نقل کی گئی ہیں۔ تیجسوی نے کہا کہ حکومت صرف کاغذ پر ترقی دکھا رہی ہے، جب کہ عام لوگ اب بھی بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ تیجسوی یادو نے امن و امان کے مسئلہ پر بھی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں امن و امان کی صورتحال کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ریاست میں قتل، عصمت دری، لوٹ، اغوا اور فائرنگ جیسے واقعات باقاعدگی سے رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اچھی حکمرانی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت میں مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔ بدعنوانی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ بہار میں کئی سرکاری اسکیموں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاک یا تھانہ کی سطح پر جائیں تو ہر جگہ کرپشن صاف نظر آتی ہے۔ معاشی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے تیجسوی یادو نے پوچھا کہ بہار معاشی محاذ پر ملک کی سب سے خراب ریاست کیوں ہے۔ اگر بہار نے واقعی ترقی کی ہے تو دوسری ریاستوں کی طرح ترقی کیوں نہیں کر رہی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار تقریباً ہر شعبے میں پیچھے ہے اور اگر یہ سب سے آگے ہے تو بدعنوانی اور جرائم میں ہے۔ تیجسوی یادو نے نیٹ طالبہ کی موت کے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے سے متعلق حکومت کے ارادوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بے شمار معاملے ہیں جو تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو سونپے گئے، لیکن برسوں گزر جانے کے باوجود کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ تیجسوی نے الزام لگایا کہ جب حکومت "انصاف کے ساتھ ترقی" کی بات کرتی ہے، تو اس کا رویہ اور عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔