ریاست میں دو ماہ کے دوران 4117 فینسی نمبر پلیٹس جاری، حکومت کو تقریباً 6 کروڑ روپے کی آمدنی: وزیر
Awaz E Bihar••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 14 فروری (اے بی این): وزیر ٹرانسپورٹ شرون کمار نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران (01 دسمبر 2025 سے 13 فروری 2026 تک) مجموعی طور پر 4,117 فینسی نمبر پلیٹس جاری کی گئیں، جس سے ریاستی حکومت کو تقریباً 6 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔وزیر شرون کمار نے بتایا کہ اس مدت میں سب سے زیادہ فینسی نمبر پٹنہ ضلع میں رجسٹر ہوئے، جہاں 1,597 نمبر پلیٹس لی گئیں۔ اس سے صرف پٹنہ سے 2.46 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔ اس کے بعد مظفرپور میں 358، گیا میں 321، پورنیہ میں 189 اور روہتاس میں 174 فینسی نمبر پلیٹس جاری ہوئیں۔ ان اضلاع سے بالترتیب 52.17 لاکھ، 41.10 لاکھ، 33.53 لاکھ اور 20.90 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں ڈی ٹی او دفاتر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق پینڈنسی میں کافی حد تک کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں رجسٹریشن اور دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے کاموں میں شفافیت آنے سے لوگوں کے شوق بھی آسانی سے پورے ہو رہے ہیں۔وزیر نے مزید بتایا کہ ریاست میں فینسی نمبر پلیٹس کے حصول کے لیے واضح ضابطے موجود ہیں۔ بہار موٹر وہیکل (ترمیمی) قواعد، 1992 کے قاعدہ 64 کے تحت فینسی نمبروں کی الاٹمنٹ ای-نیلامی کے ذریعے کی جا رہی ہے تاکہ شفاف طریقے سے تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔ غیر ٹرانسپورٹ (نجی) اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے الگ الگ بنیادی فیس مقرر ہے۔ نمبر پلیٹس کو پانچ گروپس (اے ، بی ، سی ، ڈی ، ای) میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں اے گروپ کے پریمیم نمبرز جیسے 0001، 0003، 0005، 0007، 0009 کے لیے غیر ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر ایک لاکھ روپے اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر 35 ہزار روپے فیس مقرر ہے۔ اس کے علاوہ مقبول نمبرز جیسے 1100، 1212، 2525، 9999 وغیرہ بھی زیادہ فیس پر دستیاب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر ایک ہی نمبر کے لیے دو درخواستیں موصول ہوں تو ایسی صورت میں ای-نیلامی کی جاتی ہے، جس میں حصہ لینے کے لیے درخواست گزاروں کو 1,000 روپے ناقابل واپسی رجسٹریشن فیس جمع کرنی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو فینسی نمبر جاری کر دیا جاتا ہے۔ بولی جیتنے والے کو سات دن کے اندر پوری رقم جمع کرانی ہوتی ہے، بصورت دیگر نمبر منسوخ کر دیا جاتا ہے اور دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاتا ہے۔ اگر نیلامی میں کوئی نمبر فروخت نہ ہو تو اسے دوبارہ نیلامی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔