پٹنہ (اے بی این)لغت نویسی ایک صبر آزما اور مسلسل محنت والا عمل ہے۔ زیبر احمد نےیہ ثابت کیاہے کہ وہ اس ذمہ داری کو پوری دیانت داری، تحقیق اور علمی بصیرت کے ساتھ نبھانےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔زبیراحمد کی مرتب سہ لسانی لغت ’ پرامانک ہندی۔ انگریزی ۔اردو ‘محض الفاظ کا مجموعہ نہیںبلکہ زبان ، تہذیب اور فکری روایت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔لغت نویسی کے حوالے سے ہفتہ کو گورنمنٹ اردولائبریری کے کانفرنس ہال میں علمی مجلس کے زیر اہتمام منعقد رسم اجراء کی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے دانشوروںنے ان خیالات کا اظہار کیا۔ بہار قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین رام وچن رائے نے سہ لسانی لغت کے لیے زبیر احمد بھاگل پوری کو مبارک باددیتے ہوئے کہا کہ لغت نویسی کا کام توکوئی ادارہ کرتاہے،لیکن زبیر احمد نے جس جانفشانی سے یہ کام انجام دیاہےوہ قابل ستائش ہے۔ انہوںنےکہا کہ ناول ، افسانہ اور نظم لکھنا تو دلچسپ کام ہے ، لیکن لغت نویسی اور الفاظ کے نئے نئے اصطلاحات وضع کرنا بہت ہی اکتاہٹ کاکام ہے،جس میں تحمل، اطمینان اور صبر کی آزمائش ہوتی ہے ۔اس لیے زبیر احمد مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ ممبر بہارقانون ساز کونسل آفاق احمد خان نے کہا کہ لغت نویسی پر کام کرنےوالی شخصیات کو کم توجہ ملتی ہے۔لغت نویسی پر کام کرنے والے کو ہمارا معاشرہ اتنی اہمیت نہیں دیتا اور اسے خاطر خواہ واہ واہی نہیں ملتی ۔ اس کے باوجود زبیر احمد نے یہ کام انجام دیا ہے ،جس کے لیے وہ قابل قدر ہیں ۔انہوںنےکہا کہ کسی کتاب کی شناخت اس کے مصنف اوراس کےپبلشر سے ہوتی ہے۔ زبیر احمد کی اس لغت کو راج کمل نے شائع کرکے خود یہ ثابت کردیاہےکہ زبیر احمدکا یہ علمی کام کس درجے کاہے۔ان کے لیے کوئی دوسری سند کی ضرورت نہیں۔ اردوڈائریکٹوریٹ کےڈائریکٹر ایس ایم پرویز نےکہا کہ زبان و ادب کی ترقی اور اس کےفروغ میں لغت کی کافی اہمیت ہے۔ زبان وادب کے تصور میں لغت دل و دماغ کا درجہ رکھتی ہے۔زبان وادب کےفروغ میں لغت کااہم کردار ہوتاہے۔ہردور میں زبان و ادب میں بھی تغیر کاعمل ہوتارہتاہےاور اس کےلیے نئے نئے الفاظ واصطلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے لغت نویسی کی اہمیت اوربھی بڑھ جاتی ہے۔ گورنمنٹ اردو لائبریری کےچیئرمین ارشد فیروز نےبھی لغت نویسی کومشکل ترین کام بتایا اور اس کے لیے انہوںنےزبیر احمد کی پذیرائی کی۔اس موقع پر خدابخش لائبریری کے ڈاکٹر محمد ذاکر حسین نے بھی لغت نویسی کےحوالے سے اس کے اہم نکات کے حوالے سے کہا کہ لغت نویسی ایک مشکل ، دشوارکن اور صبر آزما عمل ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ زبیراحمد نے اسے کتنی جانفشانی سے انجام دیاہے ۔انہوں نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دبستان عظیم آباد میں 1970 میں محمد یوسف الدین احمد بلخی نے بہار اردو لغت کے نام سے ایک الگ نوعیت کی فرہنگ تالیف کی جس میں بہاری الفاظ و محاورات کی تشریح کی گئی ہے ۔ احمد یوسف نے اس روایت کو آگے برھاتے ہوئے 1999 میں اس کی دوسری جلد پیش کی۔ 1972 میں پروفیسر کلیم الدین احمد انگریزی اور اردو فرہنگ مرتب کی ۔ کلیم الدین احمد کی اس روایت کو زبیر بھاگلپوری نے آگے بڑھانے کا مستحسن کام کیا ہے اور ایک قد م آگے بڑھتے ہوئے سہ لسانی یعنی اردو ہندی اور انگریزی فرہنگ تیار کی ۔ یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے جس کی پذیرائی یقینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لغت نویسی کےمیدان میں قدم رکھنا گویا سنگلاخ راہوں ‘ اوبڑ کابڑ گلیوں اور خارمزار وادیوں میں ننگے باؤں چلنے کے مترادف ہے ۔ زبیر بھاکلپوری کو اپنے ننگے پاؤں کو لہو لہان کرنے کا ہنر آتا ہے ۔ صبر آزما مراحل کو حل کرتے ہوئے انہوں نے ایک زندہ جاوید کارنامہ انجام دیا ہے۔ لغت کے مرتب زبیر احمد بھاگلپوری نے لغت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی لغت ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آیا تھا جو سہ لسانی ہو۔ اس لغت کے خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سارے ایسے الفاظ ہیں جسکا ہم استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے معانی حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔ اس لغت ان تمام الفاظ کو موتی کی طرح پیرویا گیا ہے جو ہماری زندگی اور بول چال میں بھی استعمال ہوتی ہے اسے بہتر طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔ آپ مطالعہ کریں گے تو آپ کو بھی اس کا احساس ہوگا کہ لوگ اس لغت کی کتنی ضرورت ہے ۔ اب لغت آپ کے سامنے ہے ۔تقریب کی نظامت ڈاکٹرعبدالباسط حمیدی نے کی ،جبکہ معروف فکشن نگار شفیع مشہدی نے اس کی صدارت کی ۔اظہار تشکر پرویز عالم نے کیا۔