بڑی طاقتیں اپنی سیاسی و عسکری برتری کے بل پر چھوٹے و کمزور ممالک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں: شمیم منعمی
Awaz E Bihar••3 ویوز•10 منٹ پڑھیں
پٹنہ :(اے بی این ) داعی وحدت ،حامی مسضعفین، شہید راہ حق حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر بہار کی معروف ملی، سماجی اور مذہبی تنظیموں اور خانقاہوں کی جانب سے ایک تعزیتی جلسہ بہار اردو اکادمی کے کانفرنس ہال میں آج خانقاہِ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سیس شاہ شمیم الید احمد منعمی کی صدارت میں منعقد ہوئی ، اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں خانقاہِ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ کے سجادہ نشیں مولانا سید شاہ شمیم الدین منعمی نے موجودہ عالمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں طاقت کے بل پر کمزور ممالک کی خودمختاری کو پامال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی سامراجی پالیسیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی سیاسی و عسکری برتری کے بل پر چھوٹے اور کمزور ممالک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو بین الاقوامی انصاف اور انسانی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔مولانا منعمی نے کہا کہ ایران کے منتخب سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی عالمی سطح پر طرح طرح کی سازشیں رچی گئیں۔ ان پر سیاسی، اقتصادی اور سفارتی دباؤ ڈال کر انہیں جھکانے کی کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے ظلم اور جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے استقامت، حوصلہ اور جرأت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حق کے علمبردار ہمیشہ آزمائشوں سے گزرتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہنے والے ہی آخرکار سرخرو ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت حق و صداقت کی آواز کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جو رہنما ظلم کے آگے جھکنے کے بجائے حق کا پرچم بلند رکھتے ہیں، وہی ملت و انسانیت کے لیے امید اور حوصلے کی علامت بن جاتے ہیں۔مولانا شمیم الید احمد منعمی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری امتِ مسلمہ اتحاد، بیداری اور شعور کے ساتھ باطل قوتوں کے خلاف کھڑی ہو اور دنیا میں امن، انصاف اور انسانی وقار کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو ظلم و ناانصافی سے نجات عطا فرمائے اور حق و عدل کی سربلندی نصیب کرے۔ تعزیتی جلسہ کے موقع پر اپنے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مجلس علماء و خطباء امامیہ، بہار کے جنرل سکریٹری مولانا امابت حسین نے کہا کہ مرحوم کی رحلت ملت اسلامیہ کیلئے ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دین اور ملت کی خدمت میں گزاری۔ ان کی علمی و سماجی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ مولانا نے کہا کہ ایسے باکردار اور مخلص افراد کی کمی آسانی سے پوری نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کی شخصیت علم، تقویٰ اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی خدمات ہمیشہ اہلِ علم و ملت کیلئے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ آخر میں انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ امارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ناظم حضرت مفتی سعید الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے عالمِ اسلام میں ایک نئی روح اور بیداری پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عظیم رہنماؤں کی قربانیاں امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہوتی ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کو چاہیے کہ وہ ان کی جدوجہد، استقامت اور قربانی سے سبق حاصل کرے اور اتحاد و یکجہتی کو فروغ دے۔ مفتی صاحب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی امت کے اندر انتشار اور باہمی اختلافات کا ماحول ہے اور سوشل میڈیا پر لایعنی اور غیر سنجیدہ باتوں کا سلسلہ جاری ہے، جو ملت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرزِ عمل کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور امت کو سنجیدگی اور شعور کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے اس موقع پر جماعت اسلامی بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے اپنے تعزیتی خطاب میں کہا کہ ایران کے سابق رہبر معظم سید آیت علی خامنہ ای رحمہ اللہ کی شہادت عالم اسلام اور پوری انصاف پسند دنیا کے لیے بڑی افسوسناک سانحہ ہے۔ہم اس شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں ،رہبر معظم نے جس جرات اور ہمت کے ساتھ زندگی گذار اور جس طاقت کے ساتھ استعماری طاقتو کا مقابلہ کیا،ان کی پوری زندگی دنیا بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند لوگوں کے لیے حوصلہ مندی کا سرچشمہ بنی رہے گی،جس طرح سے ٹارکیٹ کرکے خامنہ ای صاحب کو شہید کیا گیاوہ وحشیت اوربربریت کی واضح دلیل ہے،عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹرکی خلاف ورزی ہے،ایک طرف بات اور مذاکرہ ہورہو دوسری طرف دیکھے سے پوری قیادمت کو موت کی سازش کی جارہی ہو،یہ سازش یہویوں کی پرانی عادت ہے، اس نے اپنے سوتیلے بھائی یوسف ساتھ کی اور مارنے کے لیے اندھے کنوین میں ڈالا،اور سمجھا کہ ہم نے یوسف کو ماردیا ہے، اور باپ حضرت یعقوب کے سامنے آکر صریح جھوٹ بولا،آج بھی اس شہادت پر ایک سے ایک جھوٹ بولتے چلے جارہے ہیں، ہمارا مقصد یہ اور یہ تھا۔ جمہوری طریقے پر منتخب کسی ملک کے سربراہ کو اس طرح کھلم کھلا طاقت کے بل پر شہید کرنا جمہوریت کا اگلا گھونٹاہے،رہبر معظم کا قصور کیا تھا، یہی قصور تھا کہ وہ اپنے ملک کے ہردل عزیز لیڈر تھے، یہی قصور تھا کہ وہ مذہبی تھے، اپنی ذاتی کے لیے نہیں کراے مکان میں رہ کر اپنے ملک کو ترقی دیتے رہے، یہی قصور تھا کہ مظلوم فلسطیوں کے ساتھ کھڑے تھے، یہی قصور تھا کہ استعماری قوت کے سامنے جھکتے نہیں تھے۔ کمال بات یہ ہے کہ یہ شرمناک حرکت ان ممالک کے ظالم حکمرانوں نے انجام دیا ہے جو جمہوریت کے نام نہاد علمبردار کہلاتے ہیں۔یہ جمہوریت کے جھوٹے علمبردار ہیں، انہوں نے پہلے ہی دن ایران کے ایک اسکول پر بم گراکر180 معصوم بچیوں کو آن کے آن میں شہید کردیا ہے، بھلاان بچیوں کا کیا قصور تھا ؟کوئی ان ظالموں سے پوچھے،یہ طاقت کے نشہ میں کیوں مست ہیں،یہ کیوں اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھ پارے ہیں۔ مولانا رضوان نے ٓگے کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان جس کی پالیسی تھی کہ ہم مظلوموں ،کمزور ں بالخصوص فلسطینوں کو انصاف دلائیں گے ،ایران جس سے ہمارے ملک کے گہرے تعلقات رہے ہیں، اس ملک سے ہمارے مفادات وابستہ رہے ہیں اور ہیں، آج بھی ہم یہاں سے سستا تیل اور ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ مشرق وسطی کے سلسلے میں خارجہ پالیسی وہی ہونی چاہیے جو سابق وزیر اعظم اٹل بہار واجپی جی اور دیگر وزرائے اعظم کے ادوارمیںرہی ہے، ہمیں اسی کوفولوکرنا چاہے جوملک کے مفادات میں ہوں، ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، ظالم اور استعماری طاقتوں کے نرغے میں نہ آئیں،اس استعماری طاقت نے ماضی میں ہمارے ملک کو غلام بنایا تھا،ہمارے اباواجداد نے جنگ آزادی کی لڑائی لڑکر اس غلامی سے خانقاہ شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں حضرت سید شاہ حسین احمد نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رہبرِ قوم آیت اللہ علی خامنہ ای سے بالمشافہ ملاقات اور مصافحہ کا شرف حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نہایت سادہ مزاج، باوقار اور بلند حوصلہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی اسلام، امت اور مظلوم انسانیت کی خدمت سے عبارت تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی قیادت اور بصیرت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو حوصلہ اور اعتماد بخشا آل انڈیا ملی کونسل بہار کے صدر مولانا محمد عالم قاسمی نے بھی اپنی تعزیتی تقریر میں ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمِ اسلام کے ایک عظیم اور بے باک قائد تھے، جنہوں نے ہمیشہ حق اور انصاف کی بات کی اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، مگر ان کی جدوجہد اور نظریات ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔ تنظیم علماء بہار کے سرپرست سید لطف اللہ قادری نے بھی اس موقع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے عالمِ اسلام ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، امت کی وحدت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی۔ سید لطف اللہ قادری نے کہا کہ ہمیں ان کے افکار اور اصولوں کو اپناتے ہوئے ملت کے اتحاد اور استحکام کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور عالمِ اسلام کو صبر و حوصلہ نصیب کرے۔تعزیتی جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے جمعیت علماء کے ناظم ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باوقار اور جری رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں اور امت کو حوصلہ، استقامت اور بیداری کا پیغام دیتے ہیں۔ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی پوری زندگی حق و انصاف کی جدوجہد سے عبارت رہی۔ انہوں نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی قیادت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں عزتِ نفس، خود اعتمادی اور بیداری کی ایک نئی روح پیدا کی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کی قربانی اور جدوجہد کو یاد رکھتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور فکری مضبوطی کے لیے کام کریں۔ ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے کہا کہ ایسے تعزیتی اجتماعات کا مقصد صرف اظہارِ غم نہیں بلکہ ان عظیم شخصیات کی زندگی اور افکار سے سبق حاصل کرنا بھی ہے تاکہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چل کر ملت اور انسانیت کی خدمت کر سکیں۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور عالمِ اسلام کو صبر و استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔تعزیتی جلسہ کا آغاز عارف امام کی تلاوت کلام پاک سے مدثر نجمی نے اس موقع پر اپنا احتسابی کلام پیش کیا ۔ اس موقع پر جمعیت علما کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد ناظم کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ آخر میں مولانا محمد شمیم منعمی نے دعائے مغفرت کی کی ۔ اس موقع پر امارت شرعیہ بہار اذیشہ و جھارکھنڈر کے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے تعزیت کلمات بھی پیش کئے گئے اور ساتھ ہی آل انڈیا ملی کونسل کےکارگزار صدر ملونا انیش الرحمٰن قاسمی کے تعزیتی پیغام کو بھی پڑھ کر سنایا گیا۔