نشانت کمارجے ڈی یوکے رکن بنے، بہار کی فعال سیاست میں باضابطہ شمولیت
Awaz E Bihar••4 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 08 مارچ (اے بی این): وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے صاحبزادے نشانت کمار نے اتوار کو جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو) کی رکنیت حاصل کر لی اور اس کے ساتھ ہی ان کا بہار کی فعال سیاست میں باضابطہ داخلہ ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے کے بعد جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے نشانت کو فعال سیاست میں لانے کا مطالبہ تیز ہو گیا تھا۔ گزشتہ تین دنوں تک پارٹی کے اندر مشاورت اور اراکین اسمبلی کی میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی منظوری ملنے پر آج نشانت کمار نے پارٹی کی رکنیت حاصل کر لی۔ نشانت کو جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)کے ریاستی دفتر میں منعقد ایک شاندار تقریب میں پارٹی کے کارگزار قومی صدر سنجے جھا نے رکنیت دلائی۔ اس موقع پر پارٹی کے اعلیٰ رہنما اور بڑی تعداد میں کارکن موجود تھے۔ کارکنوں نے جوش و خروش اور امید کے ساتھ اس تقریب کو ایک تاریخی لمحہ بنادیا اور امید ظاہر کی کہ راجیہ سبھا میں نتیش کمار کے جانے کے بعد نشانت پارٹی کی نئی طاقت اور توانائی ثابت ہوں گے۔ جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد نشانت نے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے سے کارکنوں میں پیدا ہونے والی مایوسی اور تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ نشانت نے کہا کہ وہ اپنے والد کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے گزشتہ 20 برسوں میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہار کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے والد کی کوششوں کو عوام تک پہنچائیں اور انہیں آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے عوام کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نتیش کمار کے کاموں اور کامیابیوں سے آگاہ کریں گے۔ نشانت نے کہا کہ وہ رہنماؤں، کارکنوں اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے والد پر فخر ہے۔ ریاستی پارٹی دفتر میں اس موقع پر جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)کے سینئر رہنما راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، وجے کمار چودھری، امیش کشواہا اور شرون کمار سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کارکن موجود تھے۔ جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو) کے ریاستی دفتر سے تقریباً 200 میٹر دور سے ہی ڈھول نگاڑوں کی آواز گونجنے لگی تھی۔ نوجوانوں کے کئی گروپ رقص کر رہے تھے۔ گھوڑوں کی قطار لگی ہوئی تھی اور ہاتھی کسی رہنما کے استقبال کے لیے منتظر نظر آ رہے تھے۔ دوپہر ٹھیک ایک بجے جیسے ہی پھولوں سے سجی نشانت کمار کی گاڑی پارٹی دفتر کے دروازے پر پہنچی تو ہجوم تیزی سے آگے بڑھا۔ ہر شخص اپنے رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ نشانت کمار نے گاڑی کی کھڑکی سے جھانک کر مسکراتے ہوئے سب کو سلام کیا۔ پارٹی دفتر کے احاطے میں گلدستہ لیے موجود رکن اسمبلی منجیت سنگھ نے یواین آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)میں چھائی مایوسی اب ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے کے بعد پارٹی کارکنوں کو متحد رکھنے کے لیے نشانت کمار کا سیاست میں آنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ان ناقدین کا منہ بند ہو جائے گا جو یہ کہہ رہے تھے کہ نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)بکھر جائے گی۔ پارٹی دفتر کے باہر لگے انجینئر نشانت کمار کے پوسٹر اور کٹ آو¿ٹ کارکنوں کے اسی جوش کو ظاہر کر رہے تھے جو پہلے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لیے نظر آتا تھا۔ ایک خاتون کارکن نے کہا کہ نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کے بعد ریاست کی خواتین میں گہری مایوسی تھی، لیکن نشانت کمار نے آج کہا ہے کہ وہ اپنے والد کے کاموں کو آگے بڑھائیں گے اور امید ہے کہ ریاست میں خواتین کو بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک پرجوش نوجوان کارکن نے کہا کہ نشانت کمار اپنے والد کی طرح سمجھدار اور تعلیم یافتہ شخصیت کے حامل ہیں۔ بہار کی سیاست میں جس طرح کسی وقت نتیش کمار نے صاف نیت کے ساتھ قدم رکھا تھا، ویسی ہی جھلک نشانت میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ کارکن نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نشانت کمار کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جا سکتا ہے، لیکن جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو ) کے نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ بنیں۔