ریلوے عام آدمی کے آرام دہ سفر پر بھی خاطر خواہ توجہ دے: اپوزیشن
Awaz E Bihar••4 ویوز•9 منٹ پڑھیں
لوک سبھا میں اپوزیشن نے عام آدمی کے لئے زیادہ ٹرینیں چلانے اور انہیں سفر کے دوران مناسب سہولیات فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سال 2026-27 کے لیے ریلوے کے گرانٹ کے مطالبات پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے، ترنمول کانگریس کی شتابدی رائے نے منگل کو کہا کہ مزدوروں اور عام لوگوں کے لیے ٹرینیں چلائی جانی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ انہیں سفر کے دوران کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ تتکال ٹکٹ لینے والے نچلی سیٹ ریزرو کرالیتے ہیں جب کہ پہلے سے ریزرویشن کرانے میں بزرگوں کو اوپر کی سیٹ ملتی ہے۔ پیسے والے لوگ آرام دہ سفر کرتے ہیں جب کہ عام آدمی کو سفر کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محترمہ رائے نے کہا کہ بزرگوں کے لیے نچلی برتھ ہی ریزرو کرنے کا التزام کیا جانا چاہیے۔ 80 سال سے زیادہ لوگوں کے لیے بھی اوپر کی سیٹ ریزرو کردی جاتی ہے۔ اس سے انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اوپری برتھوں پر چڑھتے کے دوران ان کے گرنے اور زخمی ہونے کی بھی خبریں آئی ہیں۔ انہوں نے بزرگ شہریوں کے لیے کرایہ کی رعایتیں بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرینوں میں مقامی وینڈر کھانے کی سپلائی کررہے ہیں، جو کہ ناقص معیار کا ہے اور اس میں حفظان صحت کا فقدان ہے۔ محترمہ رائے نے کہا کہ ریلوے ریزرویشن کے لیے ویٹنگ لسٹ میں شامل ٹکٹ منسوخ کرانے پر بھی پیسے کاٹ رہا ہے، جو منساب نہیں ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے ارون بھارتی نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں ریلوے نے بے مثال کام کیا ہے۔ ریکارڈ تعداد میں ریلوے انڈر برجز اور اوور برجز بنائے گئے ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ریلوے اب ترقی کا مترادف ہو چکا ہے۔ کانگریس کے راج موہن اُنیتھن نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے محض نقل و حمل کا ایک ذریعہ نہیں ہے۔ یہ ملک کی لائف لائن ہے. ٹرینیں عام آدمی کو روزی روٹی، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کی روشنی میں حکومت کو عام آدمی کے لیے ٹرینیں چلانے اور سفر میں انہیں سہولیت ہو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ جدید ٹرین، بلٹ ٹرین اور بڑے اسٹیشنوں کو لے کر بڑی بڑی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن عام آدمی کے لیے ٹرین چلانے پر بھی سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کی مالویکا دیوی نے ریلوے کے سال 2026-27 کے گرانٹس کے مطالبات پر بحث میں کہا کہ ان کے پارلیمنای حلقے کالاہانڈی، اڈیشہ میں ریلوے کی ترقی کی ایک نئی تعریف لکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر منظور کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے ریلوے کی حفاظت اور رفتار دونوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ امرت اسٹیشن اسکیم کے تحت بڑی تعداد میں اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے مسٹر ابھے کمار سنہا نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ اورنگ آباد، بہار کو ریلوے سیکٹر میں کیوں نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حلقے سے متعلق مختلف مطالبات کے حوالے سے انہوں نے بذات خود ریلوے کے وزیر سے مل کرتحریری درخواست کی، لیکن ان کے علاقے کا کوئی بھی مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کے دوران کئی اسٹیشنوں پر میل اور پیسنجر ٹرینوں کے اسٹاپیج کو روک دیا گیا تھا، اسے بحال کیا جائے۔ مزید برآں، ریلوے کی جو مراعات پہلے معذوروں اور بزرگ شہریوں کے لیے دستیاب تھیں انہیں بحال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر میل اور ایکسپریس ٹرین میں پانچ جنرل کوچز شامل کیے جائیں۔ سماج وادی پارٹی کے لکشمی کانت نشاد نے کہا کہ حکومت اسے ترقیاتی بجٹ کہہ رہی ہے، لیکن حکومت نے باقاعدہ ٹرینوں کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ ریلوے کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دے کر حکومت بچوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بہرائچ - خلیل آباد کے درمیان بننے والی ریلوے لائن کو امبیڈکر نگر سے جوڑا جائے۔جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ڈاکٹر آلوک کمار سمن نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 2 کروڑ لوگ روزانہ ریل کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اس لیے ریلوے کو لائف لائن کہا جاتا ہے۔ ہندوستانی ریلوے مسلسل جدید اور عالمی معیار کی بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے پارلیمانی حلقہ گوپال گنج میں تھاوے جنکشن پر پلیٹ فارم کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور اسٹیشن پر فٹ اوور برج بنایا جائے۔ تلگو دیشم پارٹی کے کرشنا پرساد ٹینیٹی نے کہا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے فنڈنگ انتہائی قابل ستائش ہے۔ ہندوستانی ریلوے نے ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ایک بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت آندھرا پردیش میں کئی اسٹیشن تیار کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرینیں ان کے حلقہ باپتلا کو دوسرے شہروں سے جوڑیں۔ انہوں نے اپنے حلقے میں وندے بھارت ٹرین کے اسٹاپ کا بھی مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے ڈاکٹر راجیش مشرا نے کہا کہ ریلوے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے بجٹ وژنری تجدید اور عوام کے مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔ کانگریس پارٹی کے بھجن لال جاٹو نے کہا کہ ریلوے کا پہلے الگ سے بجٹ آتا تھا، تو لوگوں کو بہت امیدیں ہوتی تھیں۔ پچھلے دس سالوں میں ایک بھی جنرل کوچز شامل نہیں کیا گیا۔ ریلوے صنعت کاروں کے لیے نہیں تھی، یہ عام لوگوں کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کرولی-دھولپور ریلوے پروجیکٹ پر کام سست رفتاری سے جاری ہے اور اس میں تیزی لائی جانی چاہئے۔ کورونا کے وقت جن ٹرینوں کو بند کیا گیا ہے انہین دوبارہ شروع کیا جائے۔ دہلی سے کوٹا تک وندے بھارت ٹرین چلائی جائے۔ سماج وادی پارٹی کے راجیو رائے نے کہا کہ انہوں نے اپنے پارلیمانی حلقہ مئو کے لیے بارہا ایک وندے بھارت ٹرین کا مطالبہ کیا ہے، لیکن حکومت نے ابھی تک اس پر توجہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے یہاں سب سے بڑا مسئلہ ریلوے انڈر پاس کا ہے۔ حکومت نے اس معاملے پر یقین دہانی کرائی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ آزاد امیدوار عبدالرشید شیخ نے کہا کہ دریائے چناب پر ریلوے کا جو سب سے بڑا پل بنا، اس پر حکومت تعریف کی مستحق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی سے دوری کے ساتھ ساتھ دلوں سے فاصلے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو ریلوے میں ایک سے دو فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ظلم بند کرکے وہاں کے لوگوں سے حکومت کو بات کرنی چاہیے۔ بی جے پی کے آشیش دوبے نے کہا کہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مودی حکومت میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں روزانہ صرف چار کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جاتی تھی، لیکن آج 14 کلومیٹر سے زیادہ ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے۔ مودی حکومت نے شہریوں پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ ریلوے کو جدید بنایا ہے۔ وندے بھارت ٹرین سے ملک کے بڑے حصوں کو جوڑ کر، یہ لوگوں کو آرام دہ سفر فراہم کر رہی ہے۔ کانگریس کے منوج کمار نے کہا کہ ان کے حلقے، سہسرام میں ریلوے کے کئی مطالبات زیر التوا ہیں جو کہ علاقے کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ ہمارے خطے کے بہت سے ریلوے اسٹیشنوں پر اب بھی پینے کے پانی اور بیت الخلا کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم ازکم اسٹیشنوں پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے میں بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں جنہیں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے جنرل بوگی کی تعداد بڑھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے وجے کمار ہنسدا نے اپنے علاقے کے لیے کچھ ٹرینوں کا اسٹاپ دینے اوررانچی کےلیے ٹرین چلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبائی امراض کے دوران لوکل ٹرینیں اور ان کے اسٹاپ بند کردیئے گئے تھے اور انہیں بحال کیا جانا چاہئے۔ شیو سینا کے شری کانت شندے نے ریل خدمات میں بہتری کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ریلوے شہریوں کی روزی روٹی کا سہارا ہے اور اس کے ذریعہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے کام کی جگہوں پر پہنچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ حکومت نے کلیان میں ریلوے کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جس سے عوام کو اہم سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے گاندھی کے تیسرے درجے کے ریلوے سفر کی حالت زار پر 1916 کے مضمون کا حوالہ دیا اور حیرت کا اظہار کیا کہ یہ صورتحال 2014 تک برقرار رہی لیکن اس کے بعد سے ریلوے میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ ملک کی ترقی کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں 23,000 کروڑ روپے کے ریلوے پروجیکٹ چل رہے ہیں، اور صرف کلیان میں ہی 800 کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے۔ راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے ہنومان بینیوال نے کہا کہ حکومت ریلوے کو بہتر بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ غریب کا ریل سفر آج بھی بہتر نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں کئی ٹرین حادثات کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت کو ریل کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ریلوے کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کا مطالبہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بارے میں تفصیلات فراہم کرنی چاہیے کہ ریزرو کیٹیگری کے کتنے لوگوں کو ملازمت دی جائے گی۔ بھارت آدیواسی پارٹی کے راج کمار روت نے کہا کہ 2013 میں ڈونگر پور-بانسواڑہ ریل لائن کو منظوری دی گئی تھی، لیکن اس پر ابھی تک کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانسواڑہ واحد ضلع ہے جہاں ابھی تک ریل نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قبائلی علاقہ ہے اور وہاں پر ریلوے لائن بچھانے کا معاوضہ قبائلیوں کو نہیں ملتا، اس لیے قواعد کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونگر پور ریلوے اسٹیشن کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ طویل وقت سے جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے پورا کیا جائے اور ڈونگر پور سے دہلی کے لیے براہ راست ریل سروس شروع کی جائے۔