ہولی سے پہلے بھیج دی جائےگی تنخواہ، وزیر نے آر جے ڈی ایم ایل سی کو یقین دہانی کرائی
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 فروری (اے بی این) وزیر خزانہ وجیندر یادو نے کہا کہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ریاستی حکومت کا خزانہ خالی ہے۔ تاہم، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تنخواہیں ہولی سے پہلے تقسیم کر دی جائیں گی، اور وہ بھی فروری کے آخر تک۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملازم کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وزیر وجیندر یادو بہار تخصیصی بل پڑھ رہے تھے تو اپوزیشن ایم ایل سی عبدالباری صدیقی نے انہیں بار بار روکا اور انہیں صحیح طریقے سے پڑھنے سے روکا۔ عبدالباری صدیقی نے اعلان کیا کہ میں انصاف کے لیے کھڑا ہوں۔ انہوں نے وزیر خزانہ وجیندر یادو پر طنز کیا۔ ناراض وزیر خزانہ نے پھر جواب دیا، اسی صورت حال ہے کہ آپ کے نمبر اتنے کم ہو گئے ہیں۔ میں آپ پر لعنت بھیجتا ہوں کہ آپ اگلی بار ایم ایل سی بھی نہیں بن پائیں گے۔ دوسری جانب بہار قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز حزب اقتدار اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے درمیان شدید نوک جھونک کے دوران حکومت نے چوکیداروں اور دفعداروں کے نمائندوں سے بات چیت کے بعد ان کے مسائل کے حل پر ہمدردانہ غور کرنے کا اعلان کیا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی آر جے ڈی کے رکن اسمبلی کمار سرو جیت نے دارالحکومت پٹنہ میں اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے چوکیداروں اور دفع داروں پر پولیس لاٹھی چارج اور مبینہ زیادتی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی احتجاج کے جمہوری حق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ کمار سرو جیت کی حمایت میں آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی بریندر اور دیگر اراکین نے اپنی اپنی نشستوں سے شور وغل کرناشروع کر دیا اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے اس پر جواب دینے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی "لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی" کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر وجے چودھری نے کہا کہ اگر اپوزیشن حکومت کو چلنے نہیں دے گی تو چوکیداروں اور دفع داروں کے مسائل کا حل کیسے نکلے گا۔ شور و غل کے درمیان مداخلت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آر جے ڈی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کی حکومت تھی تو کوئی کام نہیں کیا گیا اور آج شور مچارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ دو تین سال رہنے کے بعد اسی لیے الگ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی رویے کے باعث آر جے ڈی کے اراکین اسمبلی کی تعداد کم ہو گئی ہے جبکہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو عوام نے 202 نشستیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی کے دور میں لوگ مجرموں کے خوف سے گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے، لیکن اب ریاست میں امن ہے اور بہار مسلسل ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران آر جے ڈی کے ارکان ہاتھوں میں تختیاں لے کر شور مچاتے ہوئے ایوان کے ویل میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ اسی دوران وزیر وجے چودھری نے کہا کہ حکومت کو چوکیداروں اور دفعداروں کے احتجاج سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت احتجاج کے خلاف ہوتی تو اس پر پابندی عائد کر دیتی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نظم و ضبط کے تحت احتجاج کا بھی ایک ضابطہ ہوتا ہے اور کسی بھی تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسے درہم برہم کرے، عام لوگوں کو پریشان کرے یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ چوکیداروں اور دفعداروں کے مفادات کے لیے کسی بھی سابقہ حکومت کے مقابلے میں نتیش حکومت نے زیادہ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوکیداروں اور دفعداروں کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے سے پہلے اپوزیشن کو تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لینے چاہئیں۔ شور و غل کر رہے راشٹریہ جنتا دل کے ارکان سے اسمبلی اسپیکر پریم کمار نے اپنی اپنی نشستوں پر واپس جانے اور وقفہ سولات کو چلنے دینے کی اپیل کی۔ مسٹر کمار کے بار بار کہنے کے باوجود جب اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں پر واپس نہیں لوٹے تو حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ بجندر یادو نے کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والے چوکیداروں اور دفعداروں کے منتخب چار ۔پانچ نمائندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے بعد ان کے مسائل کے حل پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد آر جے ڈی کے ارکان اپنی اپنی نشستوں پر واپس لوٹ گئے اور وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوئی۔