چار لیبر کوڈ مزدوروں کو بے اختیار کرنے اور سرمایہ داروں کی من مانی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی سازش ہے: دیپانکر
Awaz E Bihar••2 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 12 فروری (اے بی این) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ- لیننسٹ کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے لائے گئے 4 لیبر کوڈ مزدوروں کو حقوق سے محروم کرنے اور سرمایہ داروں کی من مانی کو قانونی تحفظ دینے کی سازش ہیں۔ مسٹر بھٹاچاریہ نے آج مرکزی ٹریڈ یونینوں کی جانب سے بلائی گئی ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں ڈاک بنگلہ چوراہے پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی اس تاریخی ہڑتال کو کھیت مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور نوجوانوں کی وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے جو حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف بڑھتے عوامی غصے کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے لائے گئے 4 لیبر کوڈ مزدوروں کو حقوق سے محروم کرنے اور سرمایہ داروں کی من مانی کو قانونی تحفظ دینے کی سازش ہیں۔ یہ لیبر کوڈ مزدوروں کو منظم ہونے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح کسانوں کی تاریخی تحریک نے تین زرعی قوانین کو واپس لینے پر حکومت کو مجبور کیا، اسی طرح مزدوروں کی جدوجہد سے 4 لیبر کوڈ بھی واپس کرائے جائیں گے۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ منریگا قانون کھیت مزدوروں اور دیہی غریبوں کو روزگار کی ضمانت دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مزدور تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ منریگا کے تحت 200 دن کا روزگار اور کم از کم 600 روپے یومیہ مزدوری یقینی بنائی جائے۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے مزدوروں کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے اور ایسی پالیسیاں نافذ کی ہیں جن سے دیہی بے روزگاری بڑھے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ملک کی زراعت کو بڑی کمپنیوں اور امریکہ کے مفادات کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ زرعی شعبے کو غیر ملکی دباؤ کے لیے کھولنا قومی مفادات کے خلاف ہے اور ملک کی 60 فیصد آبادی کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ مسٹر بھٹاچاریہ نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے تعلیم کی نجکاری کو بڑھایا جا رہا ہے، وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مزدور، کسان، طلبہ اور نوجوان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوں اور جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔