حکومت سرمایہ کاروں اورسیلف ایمپلائیڈ افراد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے: نتیش کمار
Awaz E Bihar••4 ویوز•16 منٹ پڑھیں
بھاگل پور،17 مارچ (یواین آئی )بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے منگل کے روز کہا ہے کہ ریاستی حکومت بہار میں صنعتیں لگانے اور سیلف روزگار شروع کرنے والے افراد کو مختلف اقسام کی سہولیات اور مراعات فراہم کر کے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنا اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اپنی 'سمردھی یاترا' کے دوران بھاگلپور کے جگدیش پور بلاک میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے درج ذیل امور پر تبادلہ خیال کیا:وزیر اعلیٰ نے اعلان کردہ منصوبوں کے نفاذ کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان کی جلد تکمیل کی ہدایت دی۔ بھاگلپور کے ڈی ایم ڈاکٹر نول کشور چودھری نے ایک پریزنٹیشن کے ذریعے ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں کی تفصیلات پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جن اسکیموں کی منظوری دی جا چکی ہے، ان پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔'سات نشچے-2' کے منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے اور 'سات نشچے-3' کے تحت طے شدہ اہداف پر کام کا فوری آغاز کیا جائے۔ حکومت کا مقصد ہر شہری کو عزت دینا اور ان کے لیے روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صنعتی ترقی اور خود روزگار کے ذریعے ہی بہار کو ایک خود کفیل ریاست بنایا جا سکتا ہے اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ آپ سب جانتے ہیں کہ بہار میں 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، اس وقت سے ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور ہم مستقل طور پر ترقیاتی کام میں لگے ہیں۔2005 سے قبل بہار کی بہت بری حالت تھی ۔ لوگ شام کے بعد گھر وںسے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماج میںبہت تنازعہ ہوتا تھا،تعلیم کی حالت ناگفتہ بہہ تھی۔ ہندو مسلم کے درمیان اکثر تنازعہ ہو تا تھا ، تعلیم کی حالت بہت خراب تھی ،بہت کم بچے پڑھتے تھے۔پہلے علاج کا بھی مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں خستہ حال تھیں۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ریاست میں محبت ،بھائی چارہ اور امن کا ماحول ہے۔پہلے کتنا ہندو مسلم تنازعہ ہوتا تھا اس لئے سال 2006سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔اب کوئی تنازعہ نہیں ہو تا ہے ۔ سال 2016 سے، 60 سال قدیم ہندو مندروں کی بھی گھیرا بندی کا کام شروع کیا گیا،جس سے چوری وغیرہ کے واقعات نہیں ہو تے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم لوگوں نے تعلیم کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی گئی ۔ ہم لوکوں نے کنٹریکٹ ٹیچروں کی بحالی کی، بڑی تعدااد میں نئے اسکول کھولے اورسرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے لیے سائیکل اور پوشاک منصوبہ چلا یا گیا۔ سال 2023 سے، بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2لاکھ 58ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی۔ 2006 سے 3لاکھ 68ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بحال کیے گئے تھے، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 28ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ کنٹریکٹ اساتذہ کو بی پی ایس سی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے ،انہیں معمولی سا امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے گا۔ اس کے لیے انہیں پانچ مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک چار امتحانات ہو چکے ہیں، اور 2لاکھ 66ہزار کانٹریکٹ ٹیچر پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73ہزار باقی بچ گئے ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ سرکاری اساتذہ کی کل تعداد اب 5 لاکھ 24ہزار ہوگئی ۔ اس کے علاوہ بی پی ایس سی کے ذریعہ اور 45ہزار نئے عہدوں پر بحالی شروع کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے، صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ہر ماہ علاج کے آتے تھے، یعنی یومیہ ایک یا دو مریض۔ 2006 سے، ہسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کامکمل انتظام کیا گیا ہے۔ اب ہرماہ اوسطاً 11 ہزار 600 سو مریض پرائمری ہیلتھ سینٹرمیں آتے ہیں ۔ پہلے، بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب 12 ہو گئی ہے۔ اس سال مزید 6میڈیکل کالج بن جائیں گے اورباقی تمام 21 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج کی تعمیر بھی جلد پوری کر لی جائے گی ۔ پٹنہ میڈیکل کالج اور ہسپتال کو 5 ہزار 400 بیڈاور دیگر پانچ قدیم میڈیکل کالجوں کوڈھائی ہزار بیڈ کا بنایاجارہاہے۔ساتھ ہی آئی جی آئی ایم ایس کو 3ہزار بیڈ کا بنا یا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں سڑکوں اور پل پلیوں کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے 6گھنٹے میں پٹنہ پہنچنے کے نشانہ کو سال 2016 میں پورا کر لیا گیا ہے۔اب ریاست میں بڑی تعداد میں سڑکوں پل پلیوں ، ریلوے اوور بریج، بائی پاس اور ایلیویٹیڈ روڈ کی تعمیر سے تقربیا 5گھنٹے میں دور دراز علاقوں سے پٹنہ پہنچنا ممکن ہوا ہے ۔ 2008 سے ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کام کیا جارہا ہے ، جس کے نتیجے میں زراعت کے شعبہ میں بہت پیش رفت ہوئی ہے۔سال 2008 سے 2012تک پہلا، 2012 سے 2017تک دوسر، 2017 سے 2023 تک تیسرے ایگریکلچر روڈ میپ پر کام ہوا ہے ۔غلہ کی پیداوار میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ پھل ،سبزی، دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،جس کے سبب مچھلی کی پیداوار میں بہار خود کفیل ہو گیا ہے ۔ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال، چوتھے ایگریکلچر روڈ میپ (2024 سے 2029) کے تحت اسکیموں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2015 میں ’’سات نشچے ‘‘ کے تحت ’معاشی حل نو جوانوں کو بل‘ ،’ محفوظ روزگار خواتین کا اختیار‘، ہر گھرتک بجلی، ہر گھر میں نل کاجل، ہر گھر میں اجابت خانہ،ٹولوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنا، اور’ موقع بڑھے ،آگے پڑھیں‘کاکام کیا گیا ہے۔ سال2018 میں ہر گھر کو بجلی فراہم کی گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی انتہائی سستی شرح پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تقریبا تمام گھریلو صارفین کو بجلی مفت مل رہی ہے ۔اب حکومت کی طرف سے تمام خواہش مند افراد کے گھروں میں سولر پینل لگاجائیں گے۔ یہ کام شروع ہو چکا ہے، ابھی 50 لاکھ گھروں پر سولر پینل لگانے کی منظوری دی گئی ہے، اور یہ کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ 2020 سے، ''سات نشچے -2'' کے تحت، ''یوا شکتی بہار کی ترقی،''مستحکم خواتین - بااختیار خواتین، ''ہر کھیت کو آبپاشی کا پانی''، ''صاف گاؤں - خوشحال گاؤں (سولر اسٹریٹ لائٹس)، صاف شہر - ترقی یافتہ شہر،'' قابل رسائی راستہ اور سب کے لیے صحت کی سہولت (ٹیلی میڈیس اور بال ہردیے منصوبہ)،سبھی پر بہت کام ہوا ہے ۔ ''سات نشچے-2'' کے تحت جو بھی کام بچے ہیں ،انہیں جلد مکمل کیاجائے گا۔ سات نشے -2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار دینا طے کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکری دی جا چکی ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ دونوں کو ملا کر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اورروزگاردیا گیا ہے۔ اگلے 5 برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کونوکری اور روزگار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے شروع سے تمام طبقوں کے لیے کام کیا ہے ، چاہے ہندوہوں ، مسلم ہوں ،اعلیٰ ذات ہوں ، پسماندہ ہوں ، انتہائی پسماندہ ہوں ،دلت ہو ، مہا دلت ہو ، تمام طبقوں کے لیے کام کیا گیا ہے ۔مسلمانوں کے لیے بھی ہم نے بہت کام کیا ہے مدرسوں کو سرکاری منظوری دی گئی ہے اور ان کے اساتذہ کو دیگر سرکاری اساتذہ کے مساوی تنخواہ دی جارہی ہے ۔ تمام معمر لوگوں ، معذوروں اور بیوہ خواتین کو ملنے والی پنشن کی رقم 400روپے سے بڑھا کر 1100روپے کر دی گئی ہے ۔ اس سے 1کروڑ 14لاکھ لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2023 میں ذات کی بنیاد پرکرائی گئی شماری میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس میں 94لاکھ غریب خاندانوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ ذات، انتہائی پسماندہ ذات، دلت، مہادلیت اور مسلمان شامل ہیں۔ ان تمام خاندانوں کو روزگار کے لیے 2 لاکھ روپے کی مدد دی جانی ہے۔ اب تک 83 لاکھ 20ہزار خاندانوں کو روزگار منصوبہ سے جوڑ کر رقم دینا شروع کیا گیا ہے باقی خاندانوں کو اگلے ماہ تک رقم دینا شروع کیا جائے گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو، 2 لاکھ سے زیادہ رقم بھی فراہم کی جائے گی۔سال 2006میں پنچایتی راج اداروں میں اورسال 2007 میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزر ویشن دیا گیا۔ اب تک چار انتخابات ہو چکے ہیں۔سا 2013 سے پولیس میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اب بہار پولیس میں خواتین کی تعداد ملک میں سب سے زیا دہ ہے۔ 2016 سے خواتین کو تمام سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بہار میں سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد بہت کم تھی۔ 2006 میں عالمی بینک سے قرض لے کر ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی جس کا نام جیویکا رکھا گیا ۔اب سیلف ہیلپ گرو کی تعداد11لاکھ 5ہزار پہنچ گئی ہے، جن میں جیویکا دیدیوں کی تعداد 1کروڑ 69 لاکھ ہے۔سال 2024 سے شہری علاقوں میں بھی سیلف ہیلپ گروپ کی تشکیل کی گئی ہے جن کی تعداد 77ہزار ہو گئی ہے ، جس میں تقریبا 10لاکھ 78 ہ زار جیویکا دیدیاں ہیں اس کی تشکیل مسلسل جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں جوکمی رہی گئی ہے اس کوپوار کر نے کے لیے دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں پرگتی یاترا کے دوران ہم نے تمام اضلاع میں جاکر ترقیاتی کاموں کودیکھا اور جو کمی رہ گئی تھی اسے پورے کر نے کے لیے 430نئے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں ان منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اب تک 21 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، باقی تمام کاموں کو جلد پورا کرلیا جائے گا۔ بہارکی ترقی میں مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں لیے سڑکوں، صنعت، صحت، سیاحت اور سیلاب پر قابو پانے کے لیے بڑی رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میں مکھانہ بورڈ کے قیام، ایئر پورٹ کا قیام اور مغربی کوسی کینال کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ 2018ٍََمیں ملک کی کچھ ریاستوں میںکھیلو انڈیایوتھ گیمزکا انعقاد ہوا تھا ،سال 2025میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا انعقاد بہار میں کیا گیا جو فخر کی بات ہے۔ان سب کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو سلام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کئی مرتبہ بہار آئے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا/افتتاح کیا گیا ہے ۔ ان تمام منصوبوں پراب تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔حکومت کے ذریعہ پہلی مدت 2005سے2010تک، دوسری مدت2010سے2015تک، تیسری مدت2015سے2020تک اور چوتھی مدت2020سے2025تک کوملا کر چار کام کی مدت میں ہر شعبے میں کام ہوا ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہ و، سڑک ہو، بجلی ہو یا زراعت۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بہت سے کام کیے گیے ہیں۔ اب ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ 5برسوں کے لیے''سات نشچے 3'' قائم کیا گیا ہے،جس سے ''دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی'' کے تحت ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خواتین روزگار منصوبہ کے تحت ہر خاتون کو 10ہزار روپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر چلے گے ا نہیں 2 لاکھ روپے تک کی مدد دی جائے گی۔ آئندہ پانچ برسوں میں 1نوجوانوں کو نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسکے لیے ''یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ'' قائم کیا گیا ہے۔ ''خوشحال صنعت، مضبوط بہار'' کے تحت آئندہ 5برسوں میں میں صنعتوں کے قیام پرپوری توجہ دی جائے گی ۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل ایریا قائم کیا جارہا ہے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زراعت میں پیش رفت’ زرات میں ترقی ، ریاست کی خوشحالی‘ کے تحت زراعت کی ترقی کے لیے پہلے سے ہی بہت کام کیا گیا ہے۔ اس کام میں مزید تیزی لانے کے لیے ایک نیا بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن قائم کیا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیری اور فش فارمنگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘پروگرام کے تحت ہر بلاک میںآدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جا رہے ہیں۔ ایک نئی ایجوکیشن سٹی تعمیر کیا جائے گی۔ آسان صحت محفوظ زندگی پروگرام کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک اسپتالوں کو خصوصی طبی مراکز میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں معروف پرائیویٹ اسپتالوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے پالیسی لائی جائے گی۔ مضبوط بنیاد جدید توسیع: کے تحت انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا،۔ پانچ نئے ایکسپریس وے کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2 لین تک چوڑا کیا جائے گا۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولر پینل لگائے جائیں گے۔ بہار میں سیاحت اور ایکو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی زور دی جائے گی۔ پٹنہ میں اسپورٹس سٹی قائم کی جائے گی اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔ ''سب کا سمان-زندگی آسان'' کے تحت جدید تکنیک اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست کے تمام لوگوں کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے ، ان دنوں کام کو اور آگے بڑھا یا گیا ہے۔آئندہ 5 برسوں میں مزید کام ہو گا جس سے بہار بہت آگے بڑھے گا مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون مل رہا ہے۔ بہار کی مزید ترقی ہو گی اور ملک کی ٹاپ ریاستوں میں شامل ہو جائے گا اور ملک کی ترقی میں اہم کردار اداکرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھاگلپور ضلع میں کئی ترقیاتی کام کرائے گیے ہیں۔ ہم لوگ گزشتہ دودہائی سے بہار کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ 2005 سے پہلے کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ پٹنہ سے بھاگلپور کے درمیان کی سڑکیں بھی خستہ حال تھیں، جس کے سبب آمدو رفت بہت دشوار تھی ۔ پہلے پٹنہ سے بھاگلبور پہنچنے میں بہت وقت لگتا تھا ۔ضلع کے اندر والے علاقوںاور قرب و جوار کے اضلاع میں آنا جانا بہت دشوار تھا ۔ پورے ضلع میں بجلی کی حالت بہت خراب تھی ۔ ہم لوگ شروع سے ہی بھاگلپور ضلع کی ترقی کے لیے کئی اہم کام کرائے ہیں۔ پٹنہ سے بھاگلپور تک اچھی سڑکیں بنائی گئی ہیں ۔ اس سے آمدو رفت آسان ہو گئی ہے ۔ بھاگلپور میں کئی پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔ بھاگلپور ،گھوگھا سے پتھواڑا اکبر نگر روڈ کی تعمیر ،بھاگلپور بائی پاس کی تعمیر کرائی گئی ہے ۔ گنگا ندی پر وکرم شیلا پل کے متوازی نئے فور لین پل کی تعمیر اور بھاگلپورمیں 2500 بیڈ کا میڈیکل کالج اور اسپتال کی تعمیرکرائی جارہی ہے ، سبور میں ایگریکلچر یونیورسٹی قائم کی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھاگلپور انجینئرنگ کالج اور پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ہیں۔ خواتین آئی ٹی آئی اورتمام سب ڈویژنوں میں آئی ٹی قائم کیا گیا ہے۔ جی این ایم انسٹی ٹیوٹ اورپارا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔1998 میں بھاگلپور میں ہندو مسلم کے درمیان ہوئے فسادکی جانچ نہیں کرائی گئی تھی ،جب ہم لوگوں کو سال 2005 میں بہار کے لوگوں نے موقعہ دیا تو سال 2006 میں ہم نے اس کی جانچ کرائی کر قصورواروں پر کارروائی کی اور متاثر کنبوں کو معاوضہ دیا ۔ دسمبر 2024 اور جنوری-فروری 2025 میں اپنی پرگتی یاترا کے دوران، میں نے ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کرنے کے لیے تمام اضلاع کا دورہ کیاتھا۔ ہم نے یہاں آکر بھی ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا، لوگوں سے بات کی اور مسائل سے واقف ہوئے۔ ان مسائل کے حل کے لیے 7منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے جن پر کام چل رہا ہے اور جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ان میں فتح بور چیک ڈیم کی تعمیر کا کام ، نو گچھیا سب ڈویزین میں اسپورٹس کمپلکس ، کی تعمیر کا کام ، بھاگلپور ضلع میں کینسر کے علاج کے لیے کینسر انسٹی ٹیوٹ کا قیام ، سلطان گنج بھاگلپور ضلع کے تحت گرین فلڈاانٹر نیشنل یر پورٹ کی تعمیر کا کام ، گورا ڈیہہ بلاک کے تحت گرام پنچایت اگر پور ماچھی پور میں انٹر اسٹیٹ بیس ٹرمینل ،بھاگلپور گورا ڈیہہ روڈ پر بھاگلپور بانسی ریلورے لائن اپروچ پل سمیت آر او بی کی ت عمیر کا کام وغیرہ شامل ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات نشچے 3 کے تحت سال، 2025سے 2030 کے درمیان بھاگلپور میں کئی کام کرائے جائیں گے۔ روزگار کے لیے، ضلع کی 4لاکھ55 ہزار خواتین کو ہر ایک کو 10 ہزار روپے کے حساب سے رقم دی جاچکی ہے۔ ان کے روزگار کو آگے بڑھانے کے لیے 2 لاکھ تک کی اضافی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ بھاگلپور ضلع میں صنعتی علاقہ قائم کرکے نئی صنعتیں لگائی جائیں گی۔ ڈیری کو فروغ دینے کے لیے باقی159 گائوں میں دودھ کی پیداوار کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور تمام283 پنچایتوں میں سودھا دودھ کی فروخت کے مراکز کھولے جائیں گے۔ تمام 16 بلاکوں میں ماڈل اسکول اور ڈگری کالج قائم کیے جائیں گے۔ تمام 16 کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو خصوصی اسپتالوں میں فروغ دیا جائے گا، اوربھاگلپور صدر اسپتال کو ایک سپر اسپیشلٹی اسپتال میں تیار کیا جائے گا۔بھاگلپور ضلع میں کھیلوں کے لیے ایک سنٹر آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا۔ سب کا سمان جیون آسان نشچے کے تحت دشواریوں کو در کر کے لوگوں کو سرکاری سہولتیں مہیا کرایا آسان بنا یا جائے گا ۔ یہ اقدامات ضلع کی مجموعی ترقی کا باعث بنیں گے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ اب بہار نمایاں طور پر ترقی کرے گا اور ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔